1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $420.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ چہاردہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی چودہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

خوبصورت نعتیہ کلام

بافقیہ نے 'حمد، نعت، مدحت و منقبت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 12, 2019 5:32 صبح

  1. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

    امید کہ احباب بعافیت تمام ہوں گے۔۔۔

    آج جمعہ کی بابرکت ساعات کے پیش نظر ایک خوبصورت نئی نعتیہ لڑی بنارہاہوں۔ جس میں احباب سے گزارش ہے کہ خوبصورت اور معیاری کلام پیش کریں۔
    نعتیہ شاعری فن شاعری میں سب سے حساس موضوع ہے۔ جس میں بڑے بڑے شعراء کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ کئی اچھے شعراء شرک و کفر تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی لئے اس لڑی میں ہم صحیح اور اچھے کلام پر ضرور داد دیں اور شعر میں فنی کمزوریوں کے ساتھ عقیدہ کی کمزوری کو واضح فرما کر صحیح کرنے کی کوشش کریں۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    لیجئے میں خود ابتدا کررہا ہوں۔۔۔
    پیش خدمت ہے:....

    نغماتِ ازل بیدار ہوئے پھر بربطِ دل کے تاروں میں
    تکبیر کی آوازیں گونجیں یثرب کے حسیں کہساروں میں


    اے رشکِ مسیحا ،فخرِ زماں،تو ہی ہے علاجِ دردِ نہاں
    مجھ کو بھی پِلا داروئے شفا، میں بھی ہوں ترے بیماروں میں


    اُس شان ِ کرم کا کیا کہیئے،... دنیا کو مسخر جس نے کیا
    یہ وصف کہاں شمشیروں میں ، یہ بات کہاں تلواروں میں


    مستانہ ہواؤں کے جھونکے، نذرانہ عقیدت کا لائے
    شبنم کے گہر تقسیم ہوئے ، کچھ پھولوں میں کچھ خاروں میں


    پھولوں کی زباں پر ذکر ترا، غنچوں کے لبوں پر مدح تری
    ائے حسنِ ازل کے شیدائی،... چرچا ہے ترا مہ پاروں میں



    مومن کی نگاہوں میں فطرتؔ ، کہسارِ عرب ہے رشکِ جناں
    پھولوں کا تبسم رقصاں ہے،.... فردوس بداماں خاروں میں

    ڈاکٹر محمدحسین فطرت بھٹکلی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    579
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Buzzed
    یہ چہرہ تمثیلِ حق ، ہے زینت لوح و قلم
    تنزیل کا معجزنما،قرآن ہے تیری جبیں

    چھائی تھی جو اک تیرگی ، اس تیرگی کے واسطے
    اک صبح عالم تاب کا اعلان ہے تیری جبیں !

    اے فخرِکل،ماہِ عرب ! مجھ کو یقیں کیسے نہ ہو
    واللہ گویا ! منبعِ ایقان ہے تیری جبیں !
    افتخاررحمانی فاخر
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 12, 2019 6:05 صبح
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    ایک نعتیہ شعر ہے:.

    وہی جو مستوی عرش ہے خدا ہو کر
    اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

    آسی غازی پوری


    شعر دیکھیں۔ شرک ظاہر ہے۔ بلکہ اس میں حلول کا عقیدہ پایا جاتا ہے جو کہ ہندوؤں اور عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  5. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    فاخر صاحب معافی کے ساتھ۔۔۔

    پہلا شعر واضح نہیں ۔
    دوسرے شعر کا مصرع ثانی نامکمل ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  6. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    حضرات سے گزارش ہے کہ نعتیں پوسٹ کریں۔۔۔
    بس اتنا خیال کریں کہ رسول خدا نہ بن جائے یا رسول انسان کے درجے سے گر جائے۔۔۔

    معتدل فکر کی نعتیں بہتر۔۔۔
     
  7. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    بحث تو کافی کار آمد ہے۔۔۔ لیکن عام طور پر بحث چاہے وہ علمی ہو یا فکری ایک فریق کو ناخوش ضرور کردیتا ہے جس کی وجہ سے خواہ مخواہ ہم بٹ جاتے ہیں۔

    ابو المجاھد زاہد نے خوب کہا:

    اک ملت بن کر سب بھائی ایک ہی گھر میں رہتے تھے
    بٹتے بٹتے ، بٹتے بٹتے،۔ بٹ گئے کتنے خانوں میں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  8. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,279
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی
    آپ آئے تو سب کو ملی روشنی

    بزمِ عالم سے رخصت ہوئی ظلمتیں
    جب حرا سے ہویدا ہوئی روشنی

    چاند سورج کا انساں پرستار تھا
    آپ سے قبل اندھیرا تھی روشنی

    سوئےعرشِ علٰی مصطفیٰ کا سفر
    روشنی کا طلبگار تھی روشنی

    ہے وہ خورشیدِاطلاق خیرالبشر
    جس سے پاتا ہے ہر آدمی روشنی

    خلقتِ اولیں خاتم المرسلیں
    آپ پہلی کرن آخری روشنی

    آپ کے نقشِ پا سے ضیا بار ہیں
    دھوپ، سورج، قمر، چاندنی روشنی

    ایک امی لقب کا یہ اعجاز ہے
    آدمی کو ملی علم کی روشنی

    (اعجاز رحمانی)
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile

    واہ واہ واہ۔۔۔ بہت خوب ۔۔۔ نعت کی دنیا کا ایک معتبر نام۔۔۔ اعجاز رحمانی۔۔۔ مزہ آگیا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. سردار محمد نعیم

    سردار محمد نعیم محفلین

    مراسلے:
    1,799
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    نُورِ سرکارﷺ‏ نے ظلمت کا بھرم توڑ دیا
    کفر کافور ہوا شِرک نے دَم توڑ دیا

    سوزِ غم ختم کیا سازِ سِتم توڑ دیا
    آپﷺ نے سلسلہء رنج والم توڑ دیا

    نعرہ زن رِند بڑھے ساقیِ ﷺ محشر کی طرف
    جامِ کوثر جو مِلا ساغرِ جم توڑ دیا

    دستِ قدرت! ترے اِس حسنِ نگارش پہ نثار
    نام وہ لوح پر لکّھا کہ قلم توڑ دیا

    ڈُوبنے دی نہ محمّد ﷺ‏ نے ہماری کشتی
    زور طوفاں کا بیک چشمِ کرم توڑ دیا

    نہ رہا کفر کا پِندار، نہ غَرّہ نہ غُرور
    ایک ہی ضرب میں سب جاہ و حشم توڑ دیا

    شدّتِ ظلم ہُوئی خَُلقِ مُحمد ﷺ‏ سے فنا
    جتنے شدّاد تھے ہر ایک نے دَم توڑ دیا

    تھا برہمن کو بہت رشتہء زُنّار پہ ناز
    آپﷺ سے سلسلہ جوڑا، تو صنم توڑ دیا

    جب مِرے سامنے آیا کوئی الحاد کا جام
    کہہ کے بے ساختہ یا شاہِؐ اُمَم! ”توڑ دیا“

    تُم پر اللّٰه کے الطاف نصؒیرؔ! ایسے ہیں
    نعت اِس شان سے لکّھی کہ قلم توڑ دیا ۔

    سید نصیر الدین نصیرؔ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  11. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    خوب کلام ہے ۔ سردار صاحب ۔
     
  12. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    مجھے مفتی صاحب آزردہ کا یہ نعتیہ شعر بے حد پسند ہے۔ شاید آپ کو بھی پسند آئے۔۔۔۔

    میں ہوں اور گوشۂ طیبہ ، یہ تمنا ہے اب
    خواہش سلطنت قیصر و فغفور نہیں ۔۔۔
     
  13. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    یہ نعت بھی فطرت بھٹکلی کی ملاحظہ فرمائیں:

    محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
    عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا

    ائے رہ نوردِ جنت ، ائے رہ روِ مدینہ
    تو ہے مری نظر میں انمول اک نگینہ
    راہِ خدا میں ہر پل رحمت کا ہے سفینہ
    اس پاک در پہ جا کر با شوق و با قرینہ

    محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
    عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا

    اک بار حاضری کا مجھ کو شرف ہو حاصل
    سینے میں خوب تڑپے حسرت بھرا مرا دل
    آقا کے عاشقوں میں ہو یہ گدا بھی شامل
    شاخوں پہ چہچہائیں جب صبحِ دم عنادل

    محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
    عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا

    ائے کاش زندگی میں اک بار دن وہ آئے
    جا کر مدینہ دیکھوں وہ دھوپ اور وہ سائے
    روضے پہ حاضری دوں نیچے نظر جھکائے
    صلِّ علی کا نغمہ ہونٹوں پہ مسکرائے

    محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
    عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا

    ائے کاش رنگ لائیں دن رات کی یہ آہیں
    ہر دم ترس رہی ہیں جلوؤں کو یہ نگاہیں
    جن پر فدا دل و جاں وہ پاک جلوہ گاہیں
    مہکی ہوئی وہ گلیاں خوشبو بھری وہ راہیں

    محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
    عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا
    میرا سلام کہنا ، میرا سلام کہنا
    با صد خلوص کہنا ، با اہتمام کہنا
    نیچے نظر جھکا کر میرا پیام کہنا
    پیغمبرِ خدا سے فطرتؔ کا نام کہنا

    محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
    عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا

    فطرتؔ بھٹکلی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    91
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    حفیظ تائب کی لا جواب نعت:.

    خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ
    خوش نژاد و خوش نہاد و خوش نظر، خیرالبشرﷺ

    دل نواز و دل پذیر و دل نشین و دل کشا
    چارہ ساز و چارہ کار و چارہ گر، خیرالبشرﷺ

    سر بہ سر مہر و مروت، سر بہ سر صدق و صفا
    سر بہ سر لطف و عنایت، سر بہ سر خیرالبشرﷺ

    اعتدال دین ودنیا، اتصال جسم و جاں
    اندمالِ زخم ہر قلب و جگر ، خیرالبشرﷺ

    صاحبِ خلقِ عظیم و صاحبِ لطفِ عمیم
    صاحبِ حق، صاحبِ شق القمر، خیرالبشرﷺ

    کارزارِ دہر میں وجہِ ظفر، وجہِ سکوں
    عرصۂ محشر میں وجہِ درگزر، خیرالبشرﷺ

    رونما کب ہوگا راہِ زیست پر منزل کا چاند
    ختم کب ہوگا اندھیروں کا سفر، خیرالبشرﷺ

    کب ملے گا ملتِ بیضا کو پھر اوجِ کمال
    کب شبِ حالات کی ہوگی سحر، خیرالبشرﷺ

    در پہ پہنچے کس طرح وہ بےنوا، بے بال و پر
    اک نظر تائب کے حالِ زار پر، خیرالبشرﷺ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر