حسان خان

لائبریرین
در کمینِ شعلهٔ هر شمع داغی خُفته‌است
هر کجا تاجی‌ست آخر نقشِ پا خواهد شدن
(بیدل دهلوی)

ہر شمع کے شعلے کی کمین میں ایک داغ خوابیدہ ہے؛ جہاں کہیں بھی کوئی تاج ہے وہ آخر نقشِ پا ہو جائے گا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ماندم دهان‌باز ز تعظیمِ آن جمال
هر لحظه بر زبان و دل الله اکبر است
(مولانا جلال‌الدین رومی)

اُس جمال کی تعظیم سے میں منہ کھلا رہ گیا؛ ہر لحظہ [میری] زبان و دل پر اللہ اکبر ہے۔
× 'بر زبان و دل' کی بجائے 'بر زبانِ دل' بھی ملتا ہے، یعنی: 'دل کی زبان پر'۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
چہ خاک در نظرِ ہمّتَش چہ آبِ حیات
کسیکہ شیوۂ رندانِ رہ نشیں دانست


بابا فغانی شیرازی

اُس کی بلند ہمت نظر میں کیا خاک اور کیا آبِ حیات، جس نے کہ رندانِ رہ نشیں کا شیوہ جان لیا۔
 

حسان خان

لائبریرین
بر لبِ خود بوسه دِه، آنگه ببین
ذوقِ آبِ زندگانی ساقیا
(فخرالدین عراقی)

اے ساقی! اپنے لب پر بوسہ دو، اور پھر آبِ حیات کا ذائقہ دیکھو۔
 

محمد وارث

لائبریرین
رُباعی از شیخ ابوسعید ابوالخیر

عاشق ہمہ دم فکرِ غمِ دوست کند
معشوق کرشمۂ کہ نیکوست کند
ما جرم و گنہ کنیم، اُو لطف و کرم
ہر کس چیزے کہ لائقِ اُوست کند


عاشق ہر وقت محبوب کے غم کی فکر کرتا ہے، معشوق خوبصورت اور دل کو لبھانے والے ناز و انداز دکھاتا ہے۔ ہم جرم اور گناہ کرتے ہیں اور وہ (خدا) لطف و کرم کرتا ہے، (سچ ہے کہ) ہر کوئی وہی کام کرتا ہے کہ جو اُس کے لائق ہوتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
برون شو ای غم از سینه که لطفِ یار می‌آید
تو هم ای دل ز من گم شو که آن دل‌دار می‌آید
(مولانا جلال‌الدین رومی)

اے غم! سینے سے بیرون ہو جاؤ کہ لطفِ یار آ رہا ہے؛ اے دل! تم بھی مجھ سے گم ہو جاؤ کہ وہ دلدار آ رہا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
مسلمانان، مسلمانان، چه باید گفت یاری را
که صد فردوس می‌سازد جمالش نیمِ خاری را
(مولانا جلال‌الدین رومی)

اے مسلمانو! اے مسلمانو! اُس یار کو کیا کہا جائے کہ جس کا جمال کسی نیم خار کو صد فردوس بنا دیتا ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
کباب کرده دلِ صد هزار لیلی و شیرین
لبت که در عرب افکنده شور و در عجم آتش
(مُحتشَم کاشانی)

تمہارے لب نے، کہ جس نے عرب میں آشوب اور عجم میں آتش برپا کر رکھی ہے، صد ہزار لیلیٰ و شیرین کے دل کو کباب کر دیا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
سعدیا رویِ دوست نادیدن
بِه که دیدن میانِ اغیارش
(سعدی شیرازی)

اے سعدی! محبوب کا چہرہ نہ دیکھنا اِس سے بہتر ہے کہ اُسے اغیار کے درمیان دیکھا جائے۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
مُعلمِ تو نیاموختَت حساب، چہ دانی
کہ حسرتِ دلِ پر دردِ من حساب ندارد


ابوالقاسم لاہوتی

تیرے اُستاد نے تجھے حساب پڑھایا ہی نہیں سو تُو کیا جانے کہ میرے پُر درد دل کی حسرتوں کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
کاش که در قیامتش بارِ دگر بدیدمی
کانچه گناهِ او بُوَد من بکشم غرامتش
(سعدی شیرازی)

کاش کہ میں قیامت میں اُسے دوبارہ دیکھوں تاکہ جو اُس کا گناہ ہو، اُس کی پاداش میں اٹھاؤں۔
 

حسان خان

لائبریرین
داروی دل نمی‌کنم کان که مریضِ عشق شد
هیچ دوا نیاورَد باز به استقامتش
(سعدی شیرازی)

میں دل کی دوا نہیں کرتا، کیونکہ جو عشق کا مریض ہو گیا اُسے کوئی بھی دوا دوبارہ سلامت و تندرستی کی جانب نہیں لائے گی۔
 
هر که دستش بر زبان سبقت کند ، مَرد است مَرد
ورنه هر ناقص در میدانِ لاف جوانمر د است
(صا ئب تبریزی)
جس کا ہاتھ زبان پر سبقت لے جائے، وہ مرد ہے، ورنہ ہر ناقص بندہ میدانِ لاف میں جواںمرد ہوتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
هر که دستش بر زبان سبقت کند ، مَرد است مَرد
ورنه هر ناقص در میدانِ لاف جوانمر د است
(صا ئب تبریزی)
جس کا ہاتھ زبان پر سبقت لے جائے، وہ مرد ہے، ورنہ ہر ناقص بندہ میدانِ لاف میں جواںمرد ہوتا ہے۔
اِس شعر کا مصرعِ ثانی وزن میں نہیں ہے۔ اِس کی درست شکل یہ ہے:
ورنه هر ناقص جوان‌مرد است در میدانِ لاف
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
اُو دل آزار و دل گرفتار است
قصّہ کوتاہ، ماجرا ایں است


خواجہ میر درد دہلوی

وہ دل آزار ہے اور دل (اُس کا) گرفتار ہے، قصّہ کوتاہ، ماجرا بس یہی ہے۔
 
هشت جنت به تو عاشق تو چه زیبا رویی
هفت دوزخ ز تو لرزان تو چه آتشکده‌ای
(مولانا رومی)

آٹھ جنت تجھ پر عاشق، تو کتنا خوب رُو ہے! سات دوزخ تجھ سے لرزاں ہیں، تو کیسا آتش کدہ ہے۔
 
آخری تدوین:
سید ہجویر مخدوم اُمم
مرقد اُو پیر سنجر را حرم
خاک پنجاب از دم اُو زندہ گشت
صبح ما ازمہراُو تابندہ گشت


ہجویر کے سردار اُمتوں کے مخدوم ہیں
آپ کے مزار کو حضرت معین الدین چشتی نے حرم بنایا
آپ ہی کی وجہ سے پنجاب کی بنجر زمیں زندہ و زرخیز ہو گئی
میری صبح بھی اسی سورج کی وجہ سے روشن ہو گئی!

علامہ محمد اقبال
 
من شبے صدیق را دیدم بخواب
گل زِ خاک راہِ اُو چیدم بخواب


ایک رات میں نے خواب میں حضرت ابو بکر صدیق کو دیکھا
آپ کے راستے کی خاک سے میں نے خواب میں پھول چنے

آں امن الناس بر مولائے ما
آں کلیم اوّل سینائے ما


آپ سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہمارے مولا ہیں
آپ ہمارے طور(نبی کریم ؐ ) کے پہلے کلیم ہیں

ہمت اُو کشت ملت را چو ابر
ثانی اسلام و غار و بدر و قبر


آپ کی ہمت امت کی کھیتی کے لئے بادل کی مانند ہے
آپ ثانی اسلام و غار وبدر و قبر ہیں

گفتمش اے خاصہَ خاصانِ عشق
عشقِ تو سرِ مطلعِ دیوانِ عشق


میں نے آپ سے کہا کہ آپ عشق کے خاصوں سے بھی خاص ہیں
آپ کا عشق دیوان عشق کا پہلا شعر ہے

پختہ از دستت اساسِ کار ما
چارہ ے فرما پے آزارِ ما


آپ کے ہاتھوں سے ہمارے کاموں کی بنیاد مضبوط ہوئی
آپ ہمارے دکھ درد کا علاج فرمائیں

علامہ محمد اقبال
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
مرغانِ قفس را اَلَمی باشد و شوقی
کآن مرغ نداند که گرفتار نباشد
(سعدی شیرازی)

پرندگانِ قفس کو ایک ایسا رنج اور ایک ایسا اشتیاق ہے جسے وہ پرندہ نہیں جانتا جو اسیر نہ ہو۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
من اوّل روز دانستم که این عهد
که با من می‌کنی مُحکَم نباشد
که دانستم که هرگز سازگاری
پری را با بنی آدم نباشد
(سعدی شیرازی)

میں اوٌل روز ہی جان گیا تھا کہ یہ عہد و پیمان جو تم میرے ساتھ کر رہے ہو، محکم نہیں ہے۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ پری کی بنی آدم کے ساتھ ہرگز سازگاری نہیں ہوتی۔
 
Top