خواہشات کے پنجرے

محمد اجمل خان نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 29, 2020

  1. محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان محفلین

    مراسلے:
    150
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    خواہشات کے پنجرے

    پنجرے میں بند پرندے سے میں نے کہا:
    "دیکھو میں تمہارا کتنا خیا رکھتا ہوں، تمہیں کھانا دیتا ہوں، تمہیں پانی دیتا ہوں اور تمہیں بلی اور دوسرے جانوروں سے بھی بچائے رکھتا ہوں کہ کہیں تمہیں کھا نہ جائے"۔
    اب بتاو!
    "انسان اچھے ہیں یا جنگل کے جانور؟"
    پرندے نے چینخ کر کہا:
    "جانور ۔۔۔ جانور ۔۔۔۔ جانور"
    میں نے پرندے سے پوچھا؛
    "آخر تم ایسا کیوں سوچتے ہو؟، میں نے تو تمہارا خیال رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی"
    پرندے نے ایک چبھتی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
    "جانتے ہو، انسان کیا کرتا ہے؟
    وہ پہلے کسی کا گھر اجاڑتا ہے، پھر اسے لوہے کے گھر میں قید کرتا ہے، پھر اسے بہلاوا دیتا ہے کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں"
    جان لو! تم اگر مجھے سونے کے پنجرے میں بھی رکھو تب بھی تم میرے خیر خواہ نہیں کہ تم نے میری آزادی غصب کی ہے۔
    تب میں نے پرندے کو اڑا دیئے
    اور
    سوچنے لگا
    ہم انسانوں کے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
    ہم انسان بھی تو قید ہیں، اپنی اپنی خواہشات کے پنجرے میں۔
    اور پھر شیطان ہماری خواہشات کو ہماری نظروں میں خوشنما بنا کر پیش کرتا ہے۔
    لیکن ہماری سوچ اس پرندے کی طرح بھی نہیں ہے کہ ہم اپنی خواہشات کی قید سے آزاد ہو سکیں۔
    ان خواہشات کی قید سے آزاد ہونے کیلئے ہمیں اپنی سوچ بدلنا ہوگا،
    اپنی سوچ کو مثبت بنانا ہوگا۔
    تب ہی ہم منفی اور شیطانی خواہشات سے پاک دل کے ساتھ اپنے رب کی صحیح عبادت کر سکیں گے،
    جس کیلئے ہمارے رب نے ہمیں پیدا کیا ہے۔
    ساری منفی سوچ سارے منفی اور شیطانی خواہشات سے آزادی حاصل کرنے کا مہینہ (رمضان المبارک) شروع ہو چکا ہے۔
    آئیے اس بابرکت مہینے میں اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی مثبت کوشش کریں،
    قرآن و سنت کاعلم حاصل کریں اور انہیں اپنی زندگی میں اپنائیں۔
    اور دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہوں۔
    اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    تحریر: محمد اجمل خان
     

اس صفحے کی تشہیر