خاصانِ خدا کے اشعار

سیما علی

لائبریرین
حاجیِ عاقل طواف چند کند ہفت ہفت
حاجیِ دیوانہ ام من نشمارم طواف

مولانا جلال الدین رُومی علیہ الرحمہ

عاقل اور ہوش و حواس والا حاجی کچھ طواف (گِن کے) سات سات بار کرتا ہے، میں ایک دیوانہ حاجی ہوں میں طواف شمار ہی نہیں کرتا۔
 

سیما علی

لائبریرین
’’اللہ عزوجل نے اس کا نام فاطمہ علیہ السلام اس لیے رکھا کہ اسے اور اس سے محبت کرنے والوں کو آتش دوزخ سے آزاد فرما دیا‘‘(۱۳)

امام احمد رضا قادری نے آپ کی شان اقدس میں یوں نذرانہ عقیدت پیش کیا:

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام

سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ
جان احمدﷺ کی راحت پہ لاکھوں سلام
 

یاسر شاہ

محفلین
نہ میں دیوانہ ہوں اصغر نہ مجھ کو ذوق_ عریانی
کوئی کھینچے لیے جاتا ہے خود جیب و گریباں کو
___________________اصغر گونڈوی
 
آخری تدوین:

یاسر شاہ

محفلین
مری کھل کر سیہ کاری تو دیکھو
اور ان کی شان_ستاری تو دیکھو

گڑا جاتا ہوں جیتے جی زمیں میں
گناہوں کی گراں باری تو دیکھو

کرے بیعت حفیظ اشرف علی سے
بایں غفلت یہ ہشیاری تو دیکھو

_________حفیظ جونپوری
 

صابرہ امین

لائبریرین
یہ چمکتے ہوئے تارے یہ فلک سیر نجوم
ابر و باراں و سبک گام صبا، بادِ سموم

کرسیء و لوح و قلم، حکمت و اسماء و علوم
ساز و آواز کے پردوں میں مقید مفہوم

عقل حیراں ہے کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
وجد ہے روح کو یہ نغہ گری کس کی ہے

جمیل نقوی
 

یاسر شاہ

محفلین
جو چپ بیٹھوں تو اک کوہ گراں معلوم ہوتا ہوں
جو لب کھولوں تو دریائے رواں معلوم ہوتا ہوں

جو ہوں دراصل صورت سے کہاں معلوم ہوتا ہوں
بہار_بے خزاں ہوں گو خزاں معلوم ہوتا ہوں

الگ سب سے ہوں سب کے درمیاں معلوم ہوتا ہوں
کہاں پہنچا ہوا ہوں میں کہاں معلوم ہوتا ہوں

بظاہر تو میں رسوائے جہاں معلوم ہوتا ہوں
دم _مستی مگر شاہ_ شہاں معلوم ہوتا ہوں

شریک_ بزم _رنداں ہوں مگر ازروئے کیفیت
شریک _محفل _روحانیاں معلوم ہوتا ہوں

عزیز الحسن مجذوب رح
 

سیما علی

لائبریرین
یارب یہ کیا طلسم ہے ادراک و فہم یاں
دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جا سکے

گو بحث کر کے بات بٹھائی بھی کیا حصول
دل سے اٹھا غلاف اگر تو اٹھا سکے

خواجہ میر درد
 

یاسر شاہ

محفلین
کوئی تجھ سے کچھ کوئی کچھ مانگتا ہے
الہی!! میں تجھ سے طلبگار تیرا
تو کر بے خبر ساری خبروں سے مجھکو
رہوں ایک میں بس خبردار تیرا

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی
 

سیما علی

لائبریرین
آسمانوں پہ ستاروں کوسجاتا تو ہے
اور مہتاب کا فانوس جلاتا تو ہے
یہ تری شانِ کریمی ہے کہ ہر بندے پر
عقل و حکمت کے خزینوں کو لٹاتا تو ہے

محسن احسان
 

یاسر شاہ

محفلین
اگر ہیں آپ صادق اپنے اقرار_محبت میں
طلب خود کر لیے جائیں گے دربار_ محبت میں

مولانا محمد احمد پرتابگڑھی
 

یاسر شاہ

محفلین
ایک بزرگوں سے سنا ہوا شعر:

سن لے اے دوست جب ایام بھلے آتے ہیں
گھات ملنے کی وہ خود آپ ہی بتلاتے ہیں

شاعر نا معلوم
 

سیما علی

لائبریرین
ہم پہ بے انتہا کرم فرما
دور دنیا کے سارے غم فرما

ظلمتیں پے بہ پے امڈتی ہیں
بارشِ نور دم بہ دم فرما

ہے یہ تیرے حبیبﷺ کی امت
قومِ آخر کو محترم فرما

اس کے ہاتھوں ہے تنگ خلقِ خدا
سرِ طاغوت اب تو خم فرما

یا الہی بحقِ ختمِ رسل ﷺ
اونچا ایمان کا عَلم فرما

( حفیظ تائب ؒ )
 

سیما علی

لائبریرین
اک لب بھی تر نہ کر سکے اور ہوگئے شہید
کیسے بیاں ہو رنجِ علمدارِ کربلا
۔
مولا ترا "ذکی" بھی ہے دیوانہء حسین
اس کو بھی ہو زیارتِ دربارِ کربلا
۔
( ذکی طارق بارہ بنکوی )
 

سیما علی

لائبریرین
خبر سب کی رکھتا ہے ہرحال میں
مسافر ہو کوئی کہ ہو وہ مقیم
۔
قمر در پہ اس کے ہی کر سر کو خم
اگر ہے تجھے کچھ بھی عقل سلیم
۔
سید مظاہر عالم قمرؔ شمشی
 

سیما علی

لائبریرین
اس کو نہ چھوسکے کبھی رنج و بلا کے ہاتھ
اٹھے ھیں‌ جس کے حق میں‌رسولِِ خداﷺ کے ہاتھ

آئی ھے جالیوں سے بھی شائد لگا کے ہاتھ
کیا خوش مہک رھے ھین یہ باد۔ صبا کے ہاتھ
 
Top