حکومت کام کر کے دکھائے یا باتوں سے عوام کا دل بہلائے؟

الف نظامی نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 2, 2019

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    زاہد مغل صاحب کی ایک پرانی پوسٹ جو آج بھی متعلقہ ہے:
    پی ٹی آئی کے لوگوں سے جب پرفارمنس پوچھی جائے تو کہتے ہیں عمران خان ھیومن ڈویلپمنٹ کو ترجیح دیتا ہے اور یہ ایسا شعبہ ہے جس میں دکھاوا ممکن نہیں۔

    اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ "دل کے بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے غالب" کیونکہ دنیا میں آج ہیومن ڈویلپمنٹ کی ترقی کو بھی دکھائی دینے والے انڈیکیٹرز میں دکھایا جاتا ہے۔ یو این کا ایک ذیلی ادارہ پوری دنیا کے ممالک کا سالانہ "ھیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس" شائع کرتا ہے، آج دنیا میں "ملٹی ڈائمنشنل پاورٹی" کو ماپا جارہا ہے، صحت، تعلیم، آمدن اور ماحول یہ چار ملینیم ڈویلپمنٹ گولز کے بنیادی مقاصد تھے جن کی بہتری ماپنے کے متعدد انڈیکٹرز وہاں موجود ہیں۔

    پھول کھلا ہو تو اسکی خوشبو محسوس کرنے کے پیمانے بھی ہوتے ہیں۔ مسئلہ تب ہوتا ہے جب پھول صرف باتوں اور خیالوں میں ہی کھلایا گیا ہو۔ چنانچہ اگر ایسے کوئی اعداد و شمار ہیں جو یہ بتاتے ہوں کہ کے پی میں ہیومن ڈویلپمنٹ میں ایسا کوئی انقلاب آگیا ہے جو پنجاب میں دکھائی نہیں دیتا تو وہ سامنے لائے جائیں۔

    جمہوریت کی ساخت ہی ایسی ہے کہ اس میں کام کے دکھاوے کے بغیر بات بنتی ہی نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی اشو کو پکڑ کر اتنا پروپیگنڈہ کیا جائے کہ عوام دھوکے میں آجائیں۔ عمران خان نے یہ دوسری لائن پکڑ رکھی ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    پچھلے 5 سالوں میں ریکارڈ خسارے اور قرضے چھوڑ کر جانے والے محض 15 ماہ میں پوچھتے ہیں کہ پرفارمنس کدھر ہے؟
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]

    [​IMG]
     
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    مندرجہ ذیل شعبوں میں حکومتی کارکردگی کیا ہے؟
    1- پولیس ریفارمز
    2- عدلیہ ریفارمز
    3- ٹیکس کلچر کا فروغ
    4- انتخابی اصلاحات
    5- بہتر اور سستی طبی سہولیات کی فراہمی
    6- تعلیمی نظام کی بہتری
    7- صنعتی ترقی
    8- ماحول دوست بجلی کی پیدوار
    9- شجر کاری
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,829
    موڈ:
    Dead
    اصل سوال یہ نہیں ہے کہ پچھلے کیا کر گئے، اصل سوال یہ ہے آپ نے کیا کیا؟ ظاہر ہے کچھ بھی نہیں اور کچھ کرنے کی اہلیت ہے بھی نہیں اس لیے بس یہی رٹ ہے پچھلے یہ کر گئے، پچھلے وہ کر گئے، خان صاحب کو کہیں اب کنٹینر سے اتر آئیں اور آپ خود بھی دھرنے سے باہر نکل آئیں۔ نااہلوں کا ٹولہ ملک پر مسلط کر دیا گیا ہے! اب برائے مہربانی اس پوسٹ کے جواب میں پانچ سات بڑے بڑے گراف نہ ٹانک دیجیے گا، بہت دیکھ لیے ہیں، عین نوازش ہو گی!
     
    • متفق متفق × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,829
    موڈ:
    Dead
    صفر!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    سوتے ہوئے کو تو بندہ جگائے۔ البتہ جو جاگ کر بھی آنکھیں نہ کھولے اس کا کیا کیا جائے؟
     
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    مندرجہ ذیل شعبوں میں حکومتی کارکردگی کیا ہے؟
    1- پولیس ریفارمز
    2- عدلیہ ریفارمز
    3- ٹیکس کلچر کا فروغ
    4- انتخابی اصلاحات
    5- بہتر اور سستی طبی سہولیات کی فراہمی
    6- تعلیمی نظام کی بہتری
    7- صنعتی ترقی
    8- ماحول دوست بجلی کی پیدوار
    9- شجر کاری
     
    • زبردست زبردست × 1
  9. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,829
    موڈ:
    Dead
    ہم پاکستان میں ہیں آپ نہیں، لہذا ہم اس گھٹیا معیشت کی زد میں ہیں آپ نہیں، اس کے باوجود ہم نے پوری کوشش کی آپ کو آئینہ دکھانے کی لیکن جب بندہ ہی ڈھٹائی کا مظہر ہو تو اس کا مرض لاعلاج ہے، حقیقت ہے کہ شخصیت پرستی کا کوئی علاج نہیں، اگر ہوتا تو قوم ابھی کسی کی غلام نہ ہوتی، غلامیِ عمران آپ کو ہی قبول ہو ہمیں قطعی ایسی مجبوری نہ ہے اور نہ ہی ہم جیسا شخص آپ کے غلامانہ سوچ کے 'لیول' کو پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی اللہ ایسے دن دکھائے!
    اول کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کوئی پاکستان تاریخ میں پہلی دفعہ مثبت نہیں ہوا، اس سے پہلے بھی رہ چکا ہے، لہذا اس پہ شادیانے بجانا اندھے کا اپنے اندھے ہونے پہ فخر کرنے کے مترادف ہے۔ دوم یہ محض ایک انڈیکیٹر ہے اب باقی انڈیکیٹرز پہ بات کرنے پہ فوراً آپ کو اسحاق ڈار یاد آ جانا ہے۔
    اول یہ کام بھی پہلی بار نہیں ہوا، دوم کئی بین الاقوامی جریدے آپ کے جانی دشمن اسحاق ڈار کے بھی گیت گا چکے ہیں، اب میں کیا سمجھوں وہ مہان معیشت دان تھے؟
    سوال یہ ہے کہ یہ سٹیٹس آپ کی گورنمنٹ سے چند دن پہلے ہی ڈاؤن گریڈ ہوا ہے، لہذا شادیانے بجانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر یہ کامیابی کی نشانی ہے تو اس کا مطلب آپ کی گورنمنٹ سے پہلے جس جس کی گورنمنٹ میں یہ سٹیٹس 'سٹیبل' تھا اسے کامیاب گورنمنٹ یا گورنمنٹ کی کامیاب معاشی پالیسی کہا جا سکتا ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,829
    موڈ:
    Dead
    ظاہر ہے 'صفر'، پہلے معیشت ٹھیک کر لیں ان کا نمبر بعد میں ہے (جو امید سے کبھی نہیں آئے گا)! جو جھوٹے وعدے اور اللہ کو دھوکہ دینے میں پیش پیش ہوں تو ظاہر ہے ہم تو پھر انسان ہیں (میں اللہ سے وعدہ کرتا ہوں کہ مجھے جب حکومت ملے گی تو سب سے پہلے پولیس ریفارمز لاؤں گا، عمران خان)! حقیقت تو یہ ہے کہ یہ گورنمنٹ ان کا مینڈیٹ ہی نہیں، مینڈیٹ چوری کر کے آنے والا کا یہی حال ہوتا ہے جو ہمیں نظر آ رہا ہے! جس کے زورِ بازو سے خان صاحب آئے ہیں اسی کے پانچ سال بوٹ پالش کرنے ہیں، جدی پشتی غلام!
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 3, 2019
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    اسٹیٹس کا اسٹیبل "ہونا "کامیاب معاشی پالیسی نہیں ہے۔ بلکہ اسٹیٹس کا اسٹیبل "رہنا" کامیاب معاشی پالیسی کی علامت ہے۔
    یقینا اس حکومت سے پہلے بھی کئی بار یہ اسٹیٹس اسٹیبل ہوا ہے مگر پھر کچھ عرصہ بعد وہی روایتی خسارے اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے بعد یہ اسٹیٹس دوبارہ خراب ہو جایا کرتا تھا :)
     
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    اب جبکہ ملک کی خارجی معیشت اسٹیبل ہو چکی ہے تو داخلی معیشت کو بہتر کرنے کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔ اسحاق ڈار کو یاد کرنے کی قطعی ضرورت نہیں جس نے ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر روک کر ملک کو اس حال تک پہنچایا۔
     
  13. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,829
    موڈ:
    Dead
    تو پھر یہ خوشیاں کسی کھاتے میں، آپ تو "ہونے" پہ ہی 'اتنی' خوشیاں منا رہے ہیں گو کہ اپنے ہی بیانیے کے خلاف جا رہے ہیں! جب دو چار سال رہے تو پھر خوشی کی بات بنتی ہے (جو کہ نہیں رہے گی کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس آرٹیفیشل طریقے سے مثبت کیا گیا ہے، پروڈکشن ابھی بھی نہ ہونے کے برابر ہے) !
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    پروڈکشن درآمداد کی محتاج ہے۔ جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتا ہے۔ حکومت نے ڈیمانڈ کمپریشن پالیسی کے تحت انٹرسٹ ریٹ 13 فیصد کر دیا ہے۔ جس سے کاروباری سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ اور افراط زر میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ اسے ٹرانزیشنل پیریڈ کہا جاتا ہے جو عارضی ہوتی ہے۔ جس کے کچھ عرصہ بعد افراط زر نیچے آتا ہے اور اس کے ساتھ ہی انٹرسٹ ریٹ بھی نارمل یعنی 5 سے 6 فیصد تک کر دیا جاتا ہے۔ اور یوں بزنسل سائیکل دوبارہ شروع ہوتا ہے :)
     
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    اسحاق ڈار نے آرٹیفیشل طریقہ سے ڈالر کی قدر کو 4 سال روک تک روک کر رکھا تھا۔ جس کا دفاع کرتے کرتے قومی خزانہ خالی ہو گیا۔ خزانہ پر ریکارڈ خساروں اور قرضوں کی واپسی کا بوجھ بڑھا۔ لیکن اس پالیسی کی وجہ سے عوام عارضی طور پر خوشحال رہی کہ سب اچھا جا رہا ہے۔
    اب اس حکومت نے قومی خزانہ کو مستحکم کرنے، خساروں میں کمی اور قرضوں کی واپسی کیلئے آرٹیفیشل طریقہ سے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مثبت کر دیا ہے۔ لیکن اس پالیسی کے نتیجہ میں عوام بدحال ہے کہ ہمیں تو ماضی میں سب اچھا ہے کی نوید سنائی گئی تھی تو یہ سب کیا ہے؟ :)
     
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    صفر بٹا صفر پرفارمنس حاضر ہو
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    لیکن یہ سب میڈیا کیوں دکھائے گا؟ حکومت ان کو لفافے دے گی تو اس پرفارمنس سے متعلق عوام کو آگہی ہوگی۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    14,360
    جس نے پہلے دن سے تہیہ کیا ہوا ہے کہ یہ حکومت فیل ہو گئی وہ روز اسی طرح روتا رہے گا۔
    [​IMG]
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  18. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,829
    موڈ:
    Dead
    اصل میں حکومتِ وقت محض بغض اور پروپیگنڈہ پہ ہی گزارہ کرنا چاہ رہی ہے، یہی دنیا جب عمران خان سے ہٹ کر کسی گورنمنٹ کی تعریف کرے تو سب برا، اگر پی ٹی آئی کی کر دے تو سب اچھا۔ یہ ذہنیت بنیادی طور پر اخلاقی پستی اور دوہرے معیار کو ظاہر کرتی ہے، یعنی پی ٹی آئی اخلاقی طور پر اتنی پست ذہنیت کی حامل ہے کہ دشمن کا اچھا کام بھی ان کی نظر میں برا ہے، اتنی پست ذہنیت کہ کوئی تعریف کر دے تو اس پہ پھولے نہ سمانا اور کوئی تنقید کر دے تو وہ غدار، لفافہ، چور وغیرہ وغیرہ ہے، یہ ذہنیت بنیادی طور پر ایک اخلاقی پست ڈکٹیٹر کی ہوتی ہے جو ہر وقت اپنی تعریف سننا چاہتا ہے اور تنقید پہ ہر اخلاقی حدود سے باہر نکل جاتا ہے اور اپنی شکست خوردہ ذہنیت کو جابرانہ اقدام اور گالم گلوچ کے ذریعے مکمل ایکسپوز کرتا ہے۔ دوم ہے دوہرا معیار جو پی ٹی آئی میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے یعنی وہی اقدامات جن پہ خان صاحب پچھلی حکومتوں پہ تنقید کرتے ہیں اب خود کرنے پڑ رہے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ جو ریاست مدینہ کے دعوے اور وعدے بذات خود کیے تھے ان سے مکمل مخالف سمت میں چل نکلے ہیں، اس میں سب سے خوبصورت عنصر جو پی ٹی آئی کو کلی طور ایکسپوز کرتا ہے وہ ہے اس کا پروپیگنڈہ ونگ، وہی اقدامات جن پہ وہ پچھلی حکومتوں پہ تنقید کرتے تھے اب خان صاحب کرتے ہیں تو جواز اور دلائل لیے پھر رہے ہیں یعنی بغض سے بھرپور پروپیگنڈہ ونگ کو حیا بھی نہیں آتی کہ جس غلامی کا طعنہ وہ باقی پارٹیوں کو دیتے ہیں خود اسی کی زد میں ہیں! بغض اور شخصیت پرستی کا کوئی علاج نہیں! آزادی اور اںصاف ایسے ہیرے ہیں جو محض پارٹی کا نام رکھ دینے اور جھوٹے دعوں سے ہی نہیں مل جاتے بلکہ اس کے لیے اپنی پسند اور ناپسند کو مار کر حقائق کے ساتھ چلنا پڑتا ہے!
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 4, 2019
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر