حکومت نے ”کوئی بھوکا نہ سوئے“ پروگرام کا آغازکردیا

سیما علی

لائبریرین
ہمیں بنگلہ دیش کی طرح مائیکروفنانس کے ذریعے لوگوں کو بے روزگاری سے نجات دلائی جائے۔۔۔۔اور لوگوں کو چھوٹے پیمانے پر قرضوں کی سہولت دی جائے۔۔۔۔
مائیکروفنانس کے بارے میں کوئی لیکچر ہے تو یہاں منسلک کردیں۔[/QUOTE]
فنکا پاکستان نے 2008 میں اس وقت اپنی بنیاد رکھی جب اس نے کشف مائیکرو فنانس بینک کی حیثیت سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ بینک کی بنیاد اس اعتراف پر رکھی گئی تھی کہ اس سہولت سے محروم لوگوں کا مالی خدمات تک رسائی بھی بنیادی حق ہے ، اور یہ کہ بینک محنتی کاروباری افراد کو کم سے کم مطالبات کے ساتھ چھوٹے قرضے فراہم کرے گا۔ اس وقت ، بینک نے اپنے کاروبار کا آغاز 13 شاخوں کے نیٹ ورک کے ذریعہ کیا – یہ سب اپنے صارفین کو بنیادی کھاتوں اور مائیکرو فنانس خدمات فراہم کرتی ہے۔ فنکاپاکستان ملک کا پہلا مائیکرو فنانس بینک ہے جس نے گاہکوں کے تحفظ کے اصولوں کے ساتھ دیرینہ وابستگی کے اعتراف میں اسمارٹ سرٹیفیکیشن حاصل کیا ہے۔

بنک 2013 میں فنکاگلوبل فیملی کا حصہ بنا جب اس نے فنکاانٹرنیشنل کے 20 دوسرے ملحقہ میزبان ممالک کے اداروں افریقہ ، کیریبین ، یوریشیا ، لاطینی امریکہ ، مشرق وسطی اور جنوبی ایشیاء کو جوائن کیا۔
فی الحال فنکا پاکستان ذمہ دارانہ مالی خدمات مہیا کررہا ہے ، جیسے چھوٹے قرضوں یا نو لاکھ سے زیادہ صارفین کو بچت اکاؤنٹ ، پاکستان کے 120+ شہروں میں 135+ برانچ کے برانچ نیٹ ورک کے ذریعے۔ گذشتہ برسوں کے دوران ، فنکا کا پورٹ فولیو مستقل طور پر فروغ پا رہا ہے اور پاکستان کے بہترین مائیکرو فنانس بینکوں میں شامل ہوگیا ہے۔ فنکا مائیکرو تاجروں کو معاشی طور پر مستحکم ہونے میں مدد کے لئے بہت سارے قرضوں کو کامیابی کے ساتھ فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

مزید برآں ، ایک بہترین مالی حل کو تیار کرنے کے لیے ڈیجیٹل حل کی تیاری کے لیے ، فنکا نے اپنا موبائل منی پلیٹ فارم ‘سم سم’ بھی 2017 میں متعارف کرایا ، جو پاکستان میں واقعی ٹیلکو اگنوسٹک ڈیجیٹل والٹ ہے اور روایتی بینکاری کو ایک متناسب ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارم میں تبدیل کر رہا ہے۔ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، فنکا نے وژن کے تحت سنگ میل ، فنکا 2.0 ، کی نشاندہی کر کے اپنے پورے کاروبار کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا۔ یہ تبدیلی کسی کے جغرافیائی محل وقوع سے قطع نظر ، کسی کو بھی اپنے اسمارٹ فونز سے ایک منٹ میں ایک بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس کے آغاز کے بعد سے ، سم سیم نے اپنے پلیٹ فارم کی طرف تین لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ صارفین کو راغب کیا ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ہمارے نزدیک ، ہم فنکا کے ذریعے آہستہ آہستہ غربت کے خاتمے کے اپنے عزائم کی طرف گامزن ہیں۔

ہمارے بارے میں | FINCA Pakistan
 

سیما علی

لائبریرین
کیا یہ بینک بِلا سود قرضہ مہیا کرتا ہے؟
Interest Free Microfinance - hhrd.org
Qard Hasana (قرض حسنہ)-Financing (Interest-Free Loans) Under this category, poor people avail this financial service for establishing or expanding their income generating activities, purchase of productive assets, improving their living conditions through repairing of their shops, business places, or houses.
 

سیما علی

لائبریرین
محمد یونس کے مائکرو کریڈِٹ یعنی چھوٹے قرضوں کے ذریعے خواتین کی زندگیوں کو خوشحال بنانے کے منصوبے کا دنیا کے کئی ملکوں میں تجربہ کیا جارہا ہے۔

یوگینڈا کی ایک ہزار کاؤنٹیز میں محمد یونس کے مائکروکریڈِٹ پروگرام پرتجربہ کیا جارہا ہے۔ یوگینڈا کے وزیر خزانہ ایزرا سولوما نے محمد یونس نوبل کو اعزاز دینے پر کہا کہ ’اس انعام سے ہم لوگوں کو تقویت ملتی ہے جو اس راستے پر ہیں جس پر محمد یونس چلتے رہے ہیں۔‘

نوبل انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبل کمیٹی کے سربراہ اولا ڈان بولٹ میوایس نے کہا کہ محمد یونس نے خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر ثابت کردیا جس نے اپنے وِژن کو لاکھوں لوگوں کی بہتری کے لیے کامیاب کردکھایا۔

مسٹر میوایس کا کہنا تھا کہ محمد یونس اور ان کے بینک کو ’نچلی سطح پر معاشی اور سماجی ترقی پیدا کرنے کی کوششوں‘ کے لیے امن کا نوبل دیا جارہا ہے۔

بنگلہ دیشی ماہر اقتصادیات کو امن کا نوبل دیکر نوبل کمیٹی نے دنیا کو یہ بھی دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سماجی اور معاشی ترقی کے ذریعے ہی امن قائم ہوسکتا ہے۔ نوبل کمیٹی کے سربراہ نے کہا: ’اس طرح کی ترقی انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے بھی سود مند ہے۔‘
 

سید عمران

محفلین
حکومت کا کام انڈسٹریاں لگانا اور بے روزگاروں کو روزگار دینا نہیں ہے بلکہ زراعت،صنعت اور تجارت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔۔۔
ماحول سازگار ہوگا تو لوگ باقی کام خود کرلیں گے!!!
 

مومن فرحین

لائبریرین
حکومت کا کام انڈسٹریاں لگانا اور بے روزگاروں کو روزگار دینا نہیں ہے بلکہ زراعت،صنعت اور تجارت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔۔۔
ماحول سازگار ہوگا تو لوگ باقی کام خود کرلیں گے!!!

پر کھانا دینے سے زراعت صنعت اور تجارت کے لیے ماحول سازگار ہوگا ؟
 

سید عمران

محفلین
پر کھانا دینے سے زراعت صنعت اور تجارت کے لیے ماحول سازگار ہوگا ؟
اپنی رعایا کو استطاعت کے مطابق کھانا یا وظیفہ دینے کا کام البتہ حکومت کے ذمہ ہے۔۔۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر خلفائے راشدین تک سب نے ضرورت مند انسانوں پر بے تحاشہ خرچ کیا، بلکہ اس کے لیے ایک الگ ادارہ بیت المال کے نام سے قائم کیا جس کے ذریعہ مستحق افراد کی مدد کی جاتی تھی اور ان کے وظائف مقرر کیے جاتے تھے!!!
 

سیما علی

لائبریرین
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر خلفائے راشدین تک سب نے ضرورت مند انسانوں پر بے تحاشہ خرچ کیا، بلکہ اس کے لیے ایک الگ ادارہ بیت المال کے نام سے قائم کیا جس کے ذریعہ مستحق افراد کی مدد کی جاتی تھی اور ان کے وظائف مقرر کیے جاتے تھے!!!
تاریخ انسانی میں اگر اب تک واضح اور مثالی طور پر کوئی ایسی ریاست قائم ہوئی ہے، جسے مکمل فلاحی ریاست کا خطاب دیا جاسکتا ہے، تووہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ریاست مدینہ ہی ہے۔جس پر ہر پہلو سے فلاحی ریاست کا اطلاق ہوتا ہے۔ جس کے فلاحی منصوبے ہمہ گیر ہونے میں اپنی مثال آپ رہے۔
ریاست مدینہ کو اسلامی فلاحی ریاست سے تعبیر کیا جاتا ہے۔فلاحی مملکت سے مراد ایک ایسی ماڈل ریاست ہے جوکہ مدینہ منورہ میں قائم ہوئی ، وہ صحیح معنوں میں ایک اسلامی نظریاتی ریاست تھی،نبی کریم ﷺ نے جو مثالی فلاحی ریاست کا تصور دیا وہ نہ صرف قابل تعریف ہے ،بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے قابل تقلید بھی ہے۔
آپ ﷺ نے فلاحی ریاست کی ابتدا مسجد نبوی سے کی ،اور مستقل ایک پارلیمانی ادارے کے بطور کام کرنا شروع کیا اور اپنی لیڈر شپ کے سائے میں اپنے مخلص اصحاب ؓکے ساتھ مل کر باقاعدہ نظام شورائیت، دیوان سیاست ، مسجد، بیت المال، خارجہ پالیسی کے امور، دعوت دین، تربیت و رجال سازی کے شعبے قائم کیے، منصب سازی کا معیار قائم کیا ،نظام انصاف کا ادارہ بنایا، مذہبی آزادی کا فلسفہ دیا۔گویا ایک ہی وقت میں کئی شعبہ ہائے حیات کی سرگرمیاں رو بعمل ہوئیں۔

منقول
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
تاریخ انسانی میں اگر اب تک واضح اور مثالی طور پر کوئی ایسی ریاست قائم ہوئی ہے، جسے مکمل فلاحی ریاست کا خطاب دیا جاسکتا ہے، تووہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ریاست مدینہ ہی ہے۔جس پر ہر پہلو سے فلاحی ریاست کا اطلاق ہوتا ہے۔ جس کے فلاحی منصوبے ہمہ گیر ہونے میں اپنی مثال آپ رہے۔
ریاست مدینہ کو اسلامی فلاحی ریاست سے تعبیر کیا جاتا ہے۔فلاحی مملکت سے مراد ایک ایسی ماڈل ریاست ہے جوکہ مدینہ منورہ میں قائم ہوئی ، وہ صحیح معنوں میں ایک اسلامی نظریاتی ریاست تھی،نبی کریم ﷺ نے جو مثالی فلاحی ریاست کا تصور دیا وہ نہ صرف قابل تعریف ہے ،بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے قابل تقلید بھی ہے۔
آپ ﷺ نے فلاحی ریاست کی ابتدا مسجد نبوی سے کی ،اور مستقل ایک پارلیمانی ادارے کے بطور کام کرنا شروع کیا اور اپنی لیڈر شپ کے سائے میں اپنے مخلص اصحاب ؓکے ساتھ مل کر باقاعدہ نظام شورائیت، دیوان سیاست ، مسجد، بیت المال، خارجہ پالیسی کے امور، دعوت دین، تربیت و رجال سازی کے شعبے قائم کیے، منصب سازی کا معیار قائم کیا ،نظام انصاف کا ادارہ بنایا، مذہبی آزادی کا فلسفہ دیا۔گویا ایک ہی وقت میں کئی شعبہ ہائے حیات کی سرگرمیاں رو بعمل ہوئیں۔
جی ظاہر ہے پیغمبر کی برابری کون کرسکتا ہے۔۔۔
لیکن آپ کے بعد خلفائے راشدین جیسی حکومت و معاشرہ کی مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی!!!
 

سیما علی

لائبریرین
جی ظاہر ہے پیغمبر کی برابری کون کرسکتا ہے۔۔۔
لیکن آپ کے بعد خلفائے راشدین جیسی حکومت و معاشرہ کی مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی!!!
بے شک بے شک
حضرت ابو بکر صدیق ؓنے خلافت سنبھالنے کے بعد پہلی بار جب مسلمانوں کوخطاب کیا تو فرمایا:

”لوگو! میں تمہارا خلیفہ مقرر ہوا ہوں، حالانکہ میں تم سب سے بہتر نہیں ہوں۔اے لوگو! میں تو حضورؐﷺ کی پیروی کرنے والا ہوں۔نظام حکومت کے کوئی نئے اصول اور ضوابط بنانے والا نہیں ہوں۔ اگر میں بھلائی کروں تو میری مدد کرو اگر ٹیٹرھا چلوں تومجھے سیدھا کرو اگر میں اللہ اور اس کے رسولؐﷺ کاکہا مانوں تو تم بھی میرا کہا ماتو۔اگر میں ان کے حکم سے سرتابی کروں، تو میری اطاعت نہ کرو۔“
ابوبکر صدیق رضی اللہ کا دورِ خلافت۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

ہانیہ

محفلین
تاریخ انسانی میں اگر اب تک واضح اور مثالی طور پر کوئی ایسی ریاست قائم ہوئی ہے، جسے مکمل فلاحی ریاست کا خطاب دیا جاسکتا ہے، تووہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ریاست مدینہ ہی ہے۔جس پر ہر پہلو سے فلاحی ریاست کا اطلاق ہوتا ہے۔ جس کے فلاحی منصوبے ہمہ گیر ہونے میں اپنی مثال آپ رہے۔
ریاست مدینہ کو اسلامی فلاحی ریاست سے تعبیر کیا جاتا ہے۔فلاحی مملکت سے مراد ایک ایسی ماڈل ریاست ہے جوکہ مدینہ منورہ میں قائم ہوئی ، وہ صحیح معنوں میں ایک اسلامی نظریاتی ریاست تھی،نبی کریم ﷺ نے جو مثالی فلاحی ریاست کا تصور دیا وہ نہ صرف قابل تعریف ہے ،بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے قابل تقلید بھی ہے۔
آپ ﷺ نے فلاحی ریاست کی ابتدا مسجد نبوی سے کی ،اور مستقل ایک پارلیمانی ادارے کے بطور کام کرنا شروع کیا اور اپنی لیڈر شپ کے سائے میں اپنے مخلص اصحاب ؓکے ساتھ مل کر باقاعدہ نظام شورائیت، دیوان سیاست ، مسجد، بیت المال، خارجہ پالیسی کے امور، دعوت دین، تربیت و رجال سازی کے شعبے قائم کیے، منصب سازی کا معیار قائم کیا ،نظام انصاف کا ادارہ بنایا، مذہبی آزادی کا فلسفہ دیا۔گویا ایک ہی وقت میں کئی شعبہ ہائے حیات کی سرگرمیاں رو بعمل ہوئیں۔

میم آپ کسی اخبار میں بھی لکھتی ہیں؟ ۔۔۔۔۔یہ آرٹیکل میں نے کسی ایڈیٹوریل میں پڑھا تھا۔۔۔۔۔ یہ یاد نہیں آرہا کہاں پر۔۔۔۔۔آپ کا لکھنے کا انداز بڑا پروفیشنل ہے ۔۔۔ بالکل صحافیوں جیسا ۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:
پر کھانا دینے سے زراعت صنعت اور تجارت کے لیے ماحول سازگار ہوگا ؟
کھانا کھلانا ثواب ہے اگر کوئی یہ کام کررہا ہے تو کرنے دیں ویسے بھی تو اتنے کام کئے ہیں ترقی کے لئے جب اُن سے کوئی فرق نہیں پڑا تو اِس سے بھی نہ پڑے پر کسی غریب کا فائدہ تو ہو ہی جائے گا کھانے کے پیسے بچیں گے تو بیچارے کپڑے اور دیگر ضروریات کی طرف دیکھیں گے۔
 
عمران خان صاحب ٹھیک ہیں پر وہ اکیلے تو سب کچھ نہیں کرسکتے ہر کسی کو اپنی اپنی جگہ پر کوشش کرنا ہوگی ہر بندہ اگر ایمانداری سے کام کرے اپنے اپنے جو بھی فرائض ہیں اُن کو بخوبی نبھائے تو پاکستان بھی ضرور ترقی کرسکتا ہے جتنے بھی پڑھے لکھے لوگ ہیں اِن لوگوں کو آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا کم سے کم کوئی ایک کام تو ایسا کریں پوری زندگی میں جس سے ہمارا ملک پاکستان ترقی کرے۔
 

سیما علی

لائبریرین
میم آپ کسی اخبار میں بھی لکھتی ہیں؟ ۔۔۔۔۔یہ آرٹیکل میں نے کسی ایڈیٹوریل میں پڑھا تھا۔۔۔۔۔ یہ یاد نہیں آرہا کہاں پر۔۔۔۔۔آپ کا لکھنے کا انداز بڑا پروفیشنل ہے ۔۔۔ بالکل صحافیوں جیسا ۔۔۔۔۔
ہم نے بھی پڑھا تھا اور شئیر کیا منقول لکھنا بھول ہم کوئی پروفیشنل لکھاری نہیں اور پھر آپ ﷺپر قلم اُٹھانے کے قابل ہم کہاں بڑے لوگوں کی لکھی تحاریر کو شریکِ محفل کرنے کی جرُات ہی اُردو محفل کے طفیل ہے یہ اسی محفل کی دین ہے کہ ہم جیسے نابلد لوگوں کو بھی کچھ لکھنے پڑھنے کا موقعہ فراہم کرتی ہے ہمیں تو اُردو لکھنا ہی اس محفل اور محفل والوں کی مدد سے آیا ورنہ رومن میں لکھتے تھے:):)
 

جاسم محمد

محفلین
حکومت کا کام انڈسٹریاں لگانا اور بے روزگاروں کو روزگار دینا نہیں ہے بلکہ زراعت،صنعت اور تجارت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔۔۔
ماحول سازگار ہوگا تو لوگ باقی کام خود کرلیں گے!!!
کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری دنیا میں معاشی سرگرمیاں زوال کا شکار ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ میں اب تک 4 کھرب ڈالر کا ریلیف پیکیج منظور کیا جا چکا ہے! اس کے مقابلہ میں حکومت پاکستان نے اپنی عوام کو کچھ بھی نہیں دیا۔
What's in the $2 trillion stimulus package - CNNPolitics
Covid relief bill: Congress sends $1.9 trillion pandemic relief package to Biden's desk - CNNPolitics
 
Top