ام اویس
محفلین
ہر مہینے کی آخری جمعرات کو مجلس حریم ادب ہوتی ہے ۔ اس میں شامل ہونے کی شرط ہے کہ آپ کچھ نہ کچھ ضرور پڑھ کر سنائیں ۔ اپنی لکھی کہانی ، شاعری ، افسانہ ، آب بیتی ، جگ بیتی کچھ بھی
پھر وہاں اس پر بحث ہوتی ہے خامیاں بتائی جاتی ہیں ، اصلاح کی جاتی ہے اور بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے ۔ آج کی مجلس حریم ادب کے لیے میں نے یہ تحریر لکھی ہے ۔
سنانے کے بعد کیا ہوگا آکر بتاؤں گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنوان ۔ ویزا
مجھے پتہ تھا آپ کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کریں گی
دروازہ دھڑ سے کھول کرگھر میں داخل ہوتے ہوئے ساقی نے غصے سے کہا
میں نے کہا بھی تھا پھر میری بات کیوں نہیں مانی
سچی بات ہے مجھے خیال نہیں رہا میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا وہ کاغذات میرے بیگ میں رہ گئے تھے
ساجدہ بیگم نے ندامت سے ہلکی آواز میں جواب دیا
مجھے پتہ تھا ساقی بیسویں بار بولا آپ کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کریں گی اسی لیے بار بار آپ سے کہہ رہا تھا ۔
ہر کام انسان کی مرضی ومنشا پر نہیں ہوتا کچھ چیزیں قسمت میں لکھ دی جاتی ہیں ۔ ساجدہ بیگم نے دھیمے سے کہا
ہونہہ غلطی اپنی ہو اور الزام قسمت پر ڈال دینا یہ عجیب منطق ہے
میں مانتی ہوں بیٹا یہ میری غلطی ہے مجھے بہت دھیان سے تمام کاغذات جمع کروانے چاہیے تھے شاید میں نے اس بات کو اتنی اہمیت نہیں دی ۔
اب زہرا کا سوچیں وہ کیا کرے گی ساقی کے تصور میں بہن کی رونی صورت آئی تو پریشان لہجے میں آہستہ سے بولا
اس کے پاس اس کا شوہر موجود ہے وہ سمجھدار ہے ۔ اپنی بیوی اور اولاد کے معاملے میں حساس ہے سنبھال لے گا ۔ اس معاشرے میں ماں سے زیادہ شوہر کی موجودگی ضروری ہے تم فکر نہ کرو ساجدہ بیگم نے اپنے بیٹے کو تسلی دیتے ہوئے کہا
اگرچہ خود ان کا ذہن مسلسل بیٹی کی پریشانی میں الجھا ہوا تھا
زہرا ان کی چھوٹی بیٹی تھی لندن میں اپنی پانچ سالہ بچی اور شوہر کے ساتھ خوش خوش زندگی گزار رہی تھی کچھ ہی دن بعد اس کے آنگن میں دوسرا پھول کھلنے والا تھا کہ اچانک پیچیدگی کی وجہ سے ذاکٹرز نے آپریشن تجویز کردیا ۔
زہرا اور اس کا شوہر پریشان ہوگئے پانچ سال پہلے بڑی بچی کی پیدائش پر زہرا نے اپنی ماں کو اپنے پاس بلا لیا تھا ۔ اس کے شوہر حسیب نے ساجدہ بیگم کو سپانسر کے کاغذات بھیجے تھے ۔ اس وقت ایجنٹ نے بڑی احتیاط سے ساجدہ بیگم کے تمام ضروری کاغذات ویزا درخواست کے ساتھ لگائے اور پوری ذمہ داری سے ویزا درخواست جمع کروائی ۔ ساجدہ بیگم ، ساقی خود زہرا اور اس کا شوہر حسیب بہت فکر مند تھے معلوم نہیں ویزا لگے گا یا نہیں ۔ تمام کاروائی احتیاط سے مکمل کرنے کے بعد بھی زہرا دن رات دعا کرتی رہی اور باربار ماں سے کہتی امی جان دعا کریں ویزا لگ جائے تاکہ اس مشکل وقت میں آپ میرے پاس ہوں ۔
اس بار ساجدہ بیگم کو محسوس تو ہو رہا تھا کہ سب نے اس معاملے کو اہمیت نہیں دی لیکن انہوں نے توجہ نہ دی ۔ درخواست جمع کرواتے وقت نہ غور سے پڑھی نہ مکمل ہدایات پر عمل کیا ۔ بیٹے کی تاکید کے باوجود ایک ضروری کاغذ جمع کروانا بھول گئیں ۔ایجنٹ بھی یہی کہتا رہا کوئی بات نہیں آپ کا ویزا ایک بار لگ چکا ہے اب بھی لگ جائے گا ۔ ادھر زہرا بھی مطمئن تھی کہ کوئی مسئلہ نہیں پہلے بھی امی میرے پاس تھیں اب بھی آجائیں گی لیکن جب ویزا نہ لگنے کی اطلاع ملی تو سب کو جیسے ایک جھٹکا لگا امیدوں اور خیالوں کے جہان سے حقیقت کی تلخ دنیا میں واپس آگئے ۔
ایک طرف بیٹی کی فکر دوسری طرف اپنی غلطی کا احساس ساجدہ بیگم سوچ رہی تھیں ایک معمولی سی کوتاہی ہوئی اگر میں درخواست کی تمام ہدایات خود پڑھ کر دیکھ لیتی ، اگر میں بیگ کھول کر دیکھ لیتی اور کاغذات کی اچھی طرح پڑتال کرلیتی ، اگرکوئی میری توجہ اس طرف مبذول کروا دیتا ، اگر کاونٹر پر بیٹھی خاتون ایک بار کہہ دیتی کہ کچھ رہ تو نہیں گیا ۔ اگر ۔۔ اگر
تو آج یہ پریشانی نہ ہوتی ۔ بیٹی کے اس مشکل وقت میں اس کے ساتھ ہوتی ۔
کاش کا لفظ انہیں پسند نہیں تھا اور انہیں اس بات پر بھی یقین تھا کہ الله کا حکم اور مشیت اسی میں تھی لیکن پھر بھی افسوس کا احساس سب خیالات پر حاوی تھا ۔
اسی ادھیڑ بن میں نماز کا وقت ہوگیا وضو کرکے جائے نماز پر کھڑی ہوئیں تو یکدم جیسے میدان حشر ان کی نگاہوں کے سامنے آگیا عجیب نفسا نفسی کا عالم تھا ہر شخص ہاتھ میں نامہ اعمال لیے ادھر سے ادھر پریشان و سرگرداں تھا ۔
وہ بھی ہاتھ میں نامہ اعمال لیے اس کے ورق ورق کو دیکھ رہیں تھیں
آہ میری نمازیں ، میری عبادتیں ، میرے نیک اعمال ، حقوق الله ، حقوق العباد ، آخرت میں کام آنے والے سکے زندگی کا ایک ایک لمحہ ان کی نگاہوں میں پچھتاوا بھرنے لگا
الله سبحانہ وتعالی نے اپنی رضا کے حصول کی جو درخواست طلب کی تھی اس پر غور کیوں نہیں کیا ، زندگی گزارنے کا ہدایت نامہ تومکمل تھا اس کو کھول کر کیوں نہیں دیکھا ، ایک اہم خط بھی تو تھا اسے کس طاق میں سجا کر رکھ دیا ، دستور زندگی کی ایک ایک شق موجود تھی اس سے لاپرواہی کیوں اختیار کی ۔ سپانسر کے کاغذات تو مکمل اور مضبوط تھے ان میں کوئی کمی تھی نہ کجی پھر ان کی اہمیت کا ادراک کیوں نہ ہوا ۔
کس اہم رشتے کو برتنے میں کہاں کوتاہی کی ، کس دستاویز کو سنوارنے میں وقت نہ لگایا ، لمحوں کے پنوں پر کس جگہ اپنی موجودگی کی مہر نہ لگائی ، کہاں ہونا چاہیے تھے اس وقت کہاں ناموجود ہوئی ، زندگی کے ہر پل کی لمحہ بلمحہ ، قدم بقدم رہنمائی موجود تھی پھر کیسے بھٹک گئی ۔ کتاب حیات کے ورق ورق جمع کراتے سمے جن اہم دستاویزات سے لاپرواہی برتی اب ان پر مہر شفقت کیسے لگے گی۔
افسوس افسوس ! پچھتاوا پچھتاوا
پھر وہاں اس پر بحث ہوتی ہے خامیاں بتائی جاتی ہیں ، اصلاح کی جاتی ہے اور بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے ۔ آج کی مجلس حریم ادب کے لیے میں نے یہ تحریر لکھی ہے ۔
سنانے کے بعد کیا ہوگا آکر بتاؤں گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنوان ۔ ویزا
مجھے پتہ تھا آپ کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کریں گی
دروازہ دھڑ سے کھول کرگھر میں داخل ہوتے ہوئے ساقی نے غصے سے کہا
میں نے کہا بھی تھا پھر میری بات کیوں نہیں مانی
سچی بات ہے مجھے خیال نہیں رہا میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا وہ کاغذات میرے بیگ میں رہ گئے تھے
ساجدہ بیگم نے ندامت سے ہلکی آواز میں جواب دیا
مجھے پتہ تھا ساقی بیسویں بار بولا آپ کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کریں گی اسی لیے بار بار آپ سے کہہ رہا تھا ۔
ہر کام انسان کی مرضی ومنشا پر نہیں ہوتا کچھ چیزیں قسمت میں لکھ دی جاتی ہیں ۔ ساجدہ بیگم نے دھیمے سے کہا
ہونہہ غلطی اپنی ہو اور الزام قسمت پر ڈال دینا یہ عجیب منطق ہے
میں مانتی ہوں بیٹا یہ میری غلطی ہے مجھے بہت دھیان سے تمام کاغذات جمع کروانے چاہیے تھے شاید میں نے اس بات کو اتنی اہمیت نہیں دی ۔
اب زہرا کا سوچیں وہ کیا کرے گی ساقی کے تصور میں بہن کی رونی صورت آئی تو پریشان لہجے میں آہستہ سے بولا
اس کے پاس اس کا شوہر موجود ہے وہ سمجھدار ہے ۔ اپنی بیوی اور اولاد کے معاملے میں حساس ہے سنبھال لے گا ۔ اس معاشرے میں ماں سے زیادہ شوہر کی موجودگی ضروری ہے تم فکر نہ کرو ساجدہ بیگم نے اپنے بیٹے کو تسلی دیتے ہوئے کہا
اگرچہ خود ان کا ذہن مسلسل بیٹی کی پریشانی میں الجھا ہوا تھا
زہرا ان کی چھوٹی بیٹی تھی لندن میں اپنی پانچ سالہ بچی اور شوہر کے ساتھ خوش خوش زندگی گزار رہی تھی کچھ ہی دن بعد اس کے آنگن میں دوسرا پھول کھلنے والا تھا کہ اچانک پیچیدگی کی وجہ سے ذاکٹرز نے آپریشن تجویز کردیا ۔
زہرا اور اس کا شوہر پریشان ہوگئے پانچ سال پہلے بڑی بچی کی پیدائش پر زہرا نے اپنی ماں کو اپنے پاس بلا لیا تھا ۔ اس کے شوہر حسیب نے ساجدہ بیگم کو سپانسر کے کاغذات بھیجے تھے ۔ اس وقت ایجنٹ نے بڑی احتیاط سے ساجدہ بیگم کے تمام ضروری کاغذات ویزا درخواست کے ساتھ لگائے اور پوری ذمہ داری سے ویزا درخواست جمع کروائی ۔ ساجدہ بیگم ، ساقی خود زہرا اور اس کا شوہر حسیب بہت فکر مند تھے معلوم نہیں ویزا لگے گا یا نہیں ۔ تمام کاروائی احتیاط سے مکمل کرنے کے بعد بھی زہرا دن رات دعا کرتی رہی اور باربار ماں سے کہتی امی جان دعا کریں ویزا لگ جائے تاکہ اس مشکل وقت میں آپ میرے پاس ہوں ۔
اس بار ساجدہ بیگم کو محسوس تو ہو رہا تھا کہ سب نے اس معاملے کو اہمیت نہیں دی لیکن انہوں نے توجہ نہ دی ۔ درخواست جمع کرواتے وقت نہ غور سے پڑھی نہ مکمل ہدایات پر عمل کیا ۔ بیٹے کی تاکید کے باوجود ایک ضروری کاغذ جمع کروانا بھول گئیں ۔ایجنٹ بھی یہی کہتا رہا کوئی بات نہیں آپ کا ویزا ایک بار لگ چکا ہے اب بھی لگ جائے گا ۔ ادھر زہرا بھی مطمئن تھی کہ کوئی مسئلہ نہیں پہلے بھی امی میرے پاس تھیں اب بھی آجائیں گی لیکن جب ویزا نہ لگنے کی اطلاع ملی تو سب کو جیسے ایک جھٹکا لگا امیدوں اور خیالوں کے جہان سے حقیقت کی تلخ دنیا میں واپس آگئے ۔
ایک طرف بیٹی کی فکر دوسری طرف اپنی غلطی کا احساس ساجدہ بیگم سوچ رہی تھیں ایک معمولی سی کوتاہی ہوئی اگر میں درخواست کی تمام ہدایات خود پڑھ کر دیکھ لیتی ، اگر میں بیگ کھول کر دیکھ لیتی اور کاغذات کی اچھی طرح پڑتال کرلیتی ، اگرکوئی میری توجہ اس طرف مبذول کروا دیتا ، اگر کاونٹر پر بیٹھی خاتون ایک بار کہہ دیتی کہ کچھ رہ تو نہیں گیا ۔ اگر ۔۔ اگر
تو آج یہ پریشانی نہ ہوتی ۔ بیٹی کے اس مشکل وقت میں اس کے ساتھ ہوتی ۔
کاش کا لفظ انہیں پسند نہیں تھا اور انہیں اس بات پر بھی یقین تھا کہ الله کا حکم اور مشیت اسی میں تھی لیکن پھر بھی افسوس کا احساس سب خیالات پر حاوی تھا ۔
اسی ادھیڑ بن میں نماز کا وقت ہوگیا وضو کرکے جائے نماز پر کھڑی ہوئیں تو یکدم جیسے میدان حشر ان کی نگاہوں کے سامنے آگیا عجیب نفسا نفسی کا عالم تھا ہر شخص ہاتھ میں نامہ اعمال لیے ادھر سے ادھر پریشان و سرگرداں تھا ۔
وہ بھی ہاتھ میں نامہ اعمال لیے اس کے ورق ورق کو دیکھ رہیں تھیں
آہ میری نمازیں ، میری عبادتیں ، میرے نیک اعمال ، حقوق الله ، حقوق العباد ، آخرت میں کام آنے والے سکے زندگی کا ایک ایک لمحہ ان کی نگاہوں میں پچھتاوا بھرنے لگا
الله سبحانہ وتعالی نے اپنی رضا کے حصول کی جو درخواست طلب کی تھی اس پر غور کیوں نہیں کیا ، زندگی گزارنے کا ہدایت نامہ تومکمل تھا اس کو کھول کر کیوں نہیں دیکھا ، ایک اہم خط بھی تو تھا اسے کس طاق میں سجا کر رکھ دیا ، دستور زندگی کی ایک ایک شق موجود تھی اس سے لاپرواہی کیوں اختیار کی ۔ سپانسر کے کاغذات تو مکمل اور مضبوط تھے ان میں کوئی کمی تھی نہ کجی پھر ان کی اہمیت کا ادراک کیوں نہ ہوا ۔
کس اہم رشتے کو برتنے میں کہاں کوتاہی کی ، کس دستاویز کو سنوارنے میں وقت نہ لگایا ، لمحوں کے پنوں پر کس جگہ اپنی موجودگی کی مہر نہ لگائی ، کہاں ہونا چاہیے تھے اس وقت کہاں ناموجود ہوئی ، زندگی کے ہر پل کی لمحہ بلمحہ ، قدم بقدم رہنمائی موجود تھی پھر کیسے بھٹک گئی ۔ کتاب حیات کے ورق ورق جمع کراتے سمے جن اہم دستاویزات سے لاپرواہی برتی اب ان پر مہر شفقت کیسے لگے گی۔
افسوس افسوس ! پچھتاوا پچھتاوا