1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

مجاز حجابِ فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا ۔ ( مجاز)

ظفری نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 19, 2009

  1. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,533
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    حجابِ فتنہ پرور ، اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا
    خود اپنے حسن کو ، پردہ بنا لیتی تو اچھا تھا

    تیری نیچی نظر ، خود تیری عصمت کی محافظ ہے
    تُو اس نشتر کی ، تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا

    ترے ماتھے کا ٹیکہ ، مرد کی قسمت کا تارا ہے
    اگر تُو سازِ بیداری ، اٹھا لیتی تو اچھا تھا

    تیرے ماتھے پہ یہ آنچل ، بہت ہی خوب ہے لیکن
    تُو اس آنچل سے ، اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 10
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,276
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ ظفری بھائی خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. عمران شناور

    عمران شناور محفلین

    مراسلے:
    668
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اچھی غزل ہے جناب ظفری صاحب۔ شیئر کرنے کے لیے شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,902
    بہت خوب انتخاب ہے شامل کرنے کا بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    بہت خوب ظفری صاحب۔۔
     
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    (نوجوان خاتون سے)
    حجابِ فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا
    خود اپنے حُسن کو پردہ بنا لیتی تو اچھا تھا
    تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہے
    تو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا
    تری چینِ جبیں خود اک سزا قانونِ فطرت میں
    اسی شمشیر سے کارِ سزا لیتی تو اچھا تھا
    یہ تیرا زرد رخ، یہ خشک لب، یہ وہم، یہ وحشت
    تو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھا
    دلِ مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصل؟
    تو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھا
    ترے زیرِ نگیں گھر ہو، محل ہو، قصر ہو، کچھ ہو
    میں یہ کہتا ہوں تو ارض و سما لیتی تو اچھا تھا
    اگر خلوت میں تُو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصل؟
    بھری محفل میں آ کر سر جھکا لیتی تو اچھا تھا
    ترے ماتھے کا ٹیکا مرد کی قسمت کا تارا ہے
    اگر تو سازِ بیداری اٹھا لیتی تو اچھا تھا
    عیاں ہے دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبے
    انہیں تو رنگِ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھا
    سنانیں کھینچ لی ہیں سر پھرے باغی جوانوں نے
    تو سامانِ جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا
    ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
    تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
    (اسرار الحق مجاز)
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,616
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جناب حسان خان صاحب!
    نظم بہت خوبصورت و پر اثر ہے، لطف اندوز ہوا
    مکمل غزل چسپاں کرنے کے لئے تشکّر
    اور انتخاب پر ڈھیر ساری دادقبول کیجئے

    بہت خوش رہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شکریہ طارق صاحب :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    مکمل کلام شیئر کرنے کے لیئے بہت شکریہ حسان صاحب! خوش رہیئے۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    غزل
    (اسرار الحق مجاز)
    حجابِ فتنہ پرور ، اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا
    خود اپنے حسن کو ، پردہ بنا لیتی تو اچھا تھا

     

اس صفحے کی تشہیر