جون ایلیا حال خوش تذکرہ نگاروں کا - از جون ایلیا

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
حال خوش تذکرہ نگاروں کا
تھا تو اک شہر خاکساروں کا​

پہلے رہتے تھے کوچہء دل میں
اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا​

کوئے جاناں کی ناکہ بندی ہے
بسترا اب کہاں ہے یاروں کا​

چلتا جاتا ہے سانس کا لشکر
کون پُرساں ہے یادگاروں کا​

اپنے اندر گھسٹ رہا ہوں میں
مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا​

ان سے جو شہر میں ہیں بے دعویٰ
عیش مت پوچھ دعویداروں کا​

کیسا یہ معرکہ ہے برپا جو
نہ پیادوں کا نہ سواروں کا​

بات تشبیہہ کی نہ کیجو تُو
دہر ہے صرف استعاروں کا​

میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا
کیا ہوا جانے جانثاروں کا​

کچھ نہیں اب سوائے خاکستر
ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا​

جون ایلیا​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top