::: جہاد ، تعریف اور اقسام ::: پہلا حصہ :::

السلام علیکم و رحمۃُ اللہ وبرکاتہ
دور جدید کی جدید سوچوں کا عمومی ہدف اسلام اور اسلامی اصطلاحات ہیں ، کہ جَس قدر اور جہاں سے ممکن ہو اَن میں بگاڑ پیدا کیا جائے اور مسلمان کو ایسی راہوں پر چلایا جائے جو بظاہر اللہ کی طرف جانے والی لگتی ہوں لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہو ،
جہاد کا معنی و مفہوم بھی آج کچھ اور بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ، آئیے ذرا دیکھیں کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا بتایا ہے


جِہاد ، تعریف اور اِقسام
اَعُوذُ بِاللّہِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ و مِن ھَمزِہِ و نَفخہِ و نَفثِہِ
جِہاد ، کا لغوی مفہوم ہے ::: کِسی کام کو کرنے کےلیئے اپنے تمام وسائل اور قوتوں کو اِستعمال کرنا۔
اور شریعت میں اِسکا مفہوم ہے کہ ::: مسلمانوں کی طرف سے کافروں ، مشرکوں ، باغیوں اور مرتد لوگوں کے سے لڑائی اور جنگ کرنے میں اپنے تمام وسائل خرچ کرنا ۔
: : : جِہاد کی فضیلت ::: اللہ تعالیٰ کا فرمان ::: ( اِنَّ اللَّہ َ اَشتَریٰ مِن المؤمِنِینَ اَنفُسَھُم بِاَنَّ لَھُم الجَنَّۃ َ یُقَاتِلُون َ فی سبِیلِ اللَّہِ فَیَقتُلُونَ و یُقتَلُونَ ، وَعداً علِیہِ حَقاً فِی التَّوراۃِ و الاَنجِیلِ و القُرانِ و مَن اَوفَی بِعَھدِہِ مِن اللَّہ ) ( بے شک اللہ نے اِیمان والوں کی جانیں اور اُن کے مال اُن سے اِس وعدے پر خرید لیئے ہیں ، کہ اِسکے بدلے میں اُن کے لیے جنّت ہے ، ( وہ لوگ اپنے مال و جان سے ) اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں ، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیئے جاتے ہیں ، ( اِس کام کے بدلے میں جنت دینے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) سچا وعدہ ہے ( جو کہ ) تورات میں اور اِنجیل میں اور قُران ہے ، اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ) سورت التوبہ / آ یت ١١١،
: : : جِہاد کا شرعی حُکم ::: جِہاد بحیثیتِ جِنس شریعت کے اَحکام میں فرضِ عین ہے ، یعنی ہر ایک مُسلمان پر فرض ہے ، اور اپنی اقسام اور درجات کے مُطابق فرضِ کفایہ ہے ، یعنی اگر مسلمانوں میں سے کوئی ایک یا کچھ وہ کام کرنے لگیں تو باقیوں پر فرضیت نہیں رہتی۔
ْ دلیل ::: ( وَ مَا کانَ المُؤمِنُونَ لِیَنفِرُوا کآفَۃً ج فَلَولا نَفرَ مِن کُلِّ فِرقَۃٍ مِنھُم طآئفِۃٌ لِیَتَفَقَھُوا فی الدِّینِ و لِیُنذِرُوا قَومَھُم اِذا رَجَعُوا اِلِیہِم لَعلَّھُم یَحذَرُون َ ) ( اور اِیمان والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں ، ، لہذا ایسا کیوں نہیں کیا جاتا کہ ہر جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تا کہ وہ دِین کی سمجھ حاصل کریں اور جب ( باہر جانے والے ) واپس آئیں تو یہ(دِین کا عِلم حاصل کرنے والے ) لوگ(واپس آنے والوں کو شریعت کے احکام سُنا کر آخرت کے عذاب سے ) ڈرائیں ، تا کہ(باہر جانے سے جو عِلم وہ نہ پا سکیں اُسے جان لیں اور اُس کے مطابق اپنی زندگیوں میں)احتیاط کریں ) سورت التوبہ / آیت ١٢٢
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ::: ( جاھِدُوا المُشرکِینَ بِاَلسِنَتِکُم ، و اَنفُسِکُم ، واَموالِکُم ، واَیدِیَکُم )( مُشرکِین سے جِہاد کرو ، اپنی زبانوں کے ذریعے ، اور اپنی جانوں کے ذریعے ، اور اپنے مال کے ذریعے ، اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے ) اَبو داؤد ، ٢٥٠٤ ، النسائی ، ٣٠٩٨ ، امام الالبانی نے صحیح قرار دِیا،
:::: لیکن مندرجہ ذیل حالات میں سے کِسی حالت کے ظاہر ہونے کی صورت میں جِہاد فرضِ عین ہو جاتا ہے ::::
( ١ ) جب قتال کے لئیے مقرر شدہ مسلمانوں کا سامنا دُشمن سے ہو جائے :::
ْ دلیل ::: ( یا اَِیھا الذِین َ اَمَنُوۤا اِذا لَقِیتُمُ الذِینَ کَفَرُوا ز َحفاً فَلا تُوَلُّوھُم الاَدبار ّ وَ مَن یُوَلِیھِم یَومَئِذٍ دُبَرَہ ُ اِلّا مُتحَرفَاً لِقِتَالٍ اَو مُتَحِیزاً اِلیٰ فِئِۃٍ فَقَد بآءَ بِغَضبٍ مِن اللَّہِ و ماَوَئہ جہنَّمُ و بِئسَ المَصِیرُ ) ( اے اِیمان والوں جب تم لڑائی کےلیئے کافروں کے سامنے آ جاؤ تو اِن کی طرف کمر مت پھیرنا ّ اور جو کوئی ، لڑائی کا پینترا بدلنے یا ( اپنی ) جماعت کی طرف پناہ لینے کے عِلاوہ اُن ( کافروں ) کی طرف کمر پھیرے گا وہ اللہ کے غضب میں داخل ہو جائے گا اور اُس کا ٹھکانہ دوزخ ہو گااوروہ بہت ہی بُری جگہ ہے ) سورت الاَنفال/ آیت / ١٥ ، ١٦ ۔
( ٢ ) جب دشمن مسلمانوں کے کِسی ملک پر حملہ کر دے اور وہاں سے مسلمانوں کو نکالنا چاہے ، یا اُن کے مال اُن کی عزت کو لوٹنا چاہتا ہو ، اور وہاں کے مسلمان اُس دشمن کا مقابلہ نہ کر سکتے ہوں تو ایسی صورت میں اُس دشمن کے خلاف جِہاد کرنا تمام مسلمانوں پر فرض عین ہو جاتا ہے ::: جیسا کہ فلسطین، کشمیر ، افغانستان ، عِراق ،وغیرہ، میں ہو رہا ہے تو وہاں کے مسلمانوں پر ، اور جغرافیائی لحاظ سے اُن کے قریبی مسلمانوں پر، اُن کافروں کے خِلاف جو مسلمانوں کے علاقوں میں داخل ہو کر ملسلمانوں کی جان مال عِزت لوٹ رہے ہیں ، جہاد کرنا فرض ہے ، اورایسے اُن کے قریب والوں پر اِس کی فرضیت پہلے اور پھر اُن کے بعد والوں پھر ، پھر اُن کے بعد والوں پر اور اسی طرح یہ سلسلہ چلنا چاہیئے :::
ْدلیل ::: ( اَِیھا الذِین َ اَمَنُوۤا قاتِلوُا الذِینَ یَلُونَکُم مِن الکُفَّارِ ، و لیَجِدُوا فِیکُم غِلظَۃً ط و اَعلمُوا اَنَّ اللَّہَ مع المُتَّقِینَ ) ( اے اِیمان والوں اِن کافروں سے لڑو جو تُمہارے آس پاس ہیں ، اور اِن کافروں کو تُمہارے اندر سختی ملے ، اور یقین رکھو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے ) سورت التوبہ/ آیت ١٢٣۔
( ٣ ) جب مسلمانوں کا خلیفہِ وقت اُن کو جِہاد ( قتال ) کے لیئے نکلنے کا حُکم دے ۔
ْ دلیل ::: ( یا اَِیھا الذِین َ اَمَنُوۤا مَا لَکُم اِذا قِیلَ لَکُم انفِرُوا فی سبِیلِ اللَّہِ اََثَاقَلتُم اِلیٰ الاَرضِ اََ رَضِیتُم بالحَیاۃِ الدُّنِیا مِن الاَخِرۃِ ج فَمَا مَتَاعُ الحَیاۃِ الدُّنِیا فی الاَخِرۃِ اِلَّا قَلِیلٌ ) ( اے اِیمان والوں تُمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تُم سے کہا جاتا کہ چلو اللہ کی راہ میں نکلو تو تم ( اتنے ) وزنی ہو جاتے ہو ( کہ گویا ) زمین کی طرف ( چپکے جاتے ہو ) کیا تُم آخرت کے عوض دُنیا کی زندگی پر راضی ہوتو (سن لوکہ) دُنیا کی زندگی کا مزہ آخرت میں کچھ تھوڑا سا ہی ہے ) سورت البقرہ /آیت ٣٨ ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ( لا ھجرۃ بعد الفتح و لَکِن جِھادٌ و نیۃٌ ، و اِذا اُستُنفِرتُم فَانفِرُوا ) ( فتح کے بعد ) مکہ سے کِسی اور طرف ) کوئی ہجرت نہیں ہے ، لیکن جِہاد اور نیت ( یعنی نیک نیتی کے ساتھ کوئی اچھا کام کرنے کے لیئے کہیں جا رہنا ) ، اور جب ( حاکم ِوقت ) تُم لوگوں سے (جہاد کے لیے )نکلنا طلب کرے تو نکل پڑو ) مُتفقٌ علیہ ، صحیح البخاری / کتاب الجِہاد / پہلا باب ، صحیح مُسلم / کتاب الاَمارۃ / باب ٢٠ ۔
: جِہاد کا حُکم کبھی ختم یا منسوخ نہیں ہو گا ،
دلیل ::: ( الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إلی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ الْاََجْرُ وَالْمَغْنَمُ ) ( گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر بندھی ہوئی ہے ( اور وہ خیر ہے ) ثواب اور غنیمت ) صحیح البُخاری /کتاب الجہاد / باب ٤٤ ،
اِس موضوع پر ایک روایت جو سنن ابی داؤد میں ہے کہ ''' جب سے مجھے بھیجا گیا ہے جِہاد جاری ہو گیا ہے اور میری اُمت کے آخری لوگوں کی دجال سے لڑائی ختم ہونے تک رہے گا ''' یہ روایت ضعیف یعنی کمزور اور باقابل حُجت ہے اِ س لیے بطورِ دلیل اسے ذِکر نہیں کِیا ۔
::: جِہاد کی حِکمت اور مقاصد :::
اللہ سبحانہُ و تعالیٰ کا فرمان ہے ( و قَاتَلُوھُم حَتَّی لَا تَکُون ُ فِتنَۃٌ و یَکُون ُ الدِّین ُ لِلّہ فَاِنِ انتَہَوُا فَلَا عُدوَانَ اِلَّا عَلیٰ الظَّالِمِینَ )(اور اِن (کافروں)سے لڑو ، جب تک کہ(کُفر کا ) فتنہ ختم نہیں ہو جاتا اوردِین اللہ کے نہیں ہو جاتا (یعنی اللہ کا نازل کردہ دِین ہر طرف غالب نہیں ہو جاتا ) اور اگر یہ ( فتنہ پھیلانے والے ) باز آ جائیں ( تو تُم بھی رک جاؤ ) اور دشمنی صرف ظلم کرنے والے کے ساتھ ہی ہوتی ہے ) سورت البقرہ / آیت ١٩٣ ،
اور فرمایا ہے ( وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّہ فَاِنِ انتَہَوْاْ فَاِنَّ اللّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیْر ) ( اور اِن (کافروں)سے لڑو جب تک کہ(کُفر کا ) فتنہ ختم نہیں ہو جاتا اورسارے کا سارادِین اللہ کے لیے نہیں ہو جاتا (یعنی جب تک سارے دِین ختم نہیں ہو جاتے اوراللہ کا نازل کردہ دِین ہر طرف غالب نہیں ہو جاتا )اور اگر یہ ( فتنہ پھیلانے والے ) باز آ جائیں ( تو تُم بھی رک جاؤ کیونکہ ) بے شک جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ وہ سب جانتا ہے) سورت الانفال / آیت ٣٩ ،
اللہ وسبحانہُ و تعالیٰ کے اِن اوپر بیان کیے گئے فرامین سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جِہاد کی حِکمت ، اھداف اور مقاصد مندرجہ ذیل ہیں ،

( ١) اللہ تعالیٰ کی بات (یعنی دِین )کی سر بلندی اور نفاذ کے لیے جِہاد :::
ْدلیل ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ( مَن قاتلَ لِیَکُونَ کَلِمَۃُ اللَّہ ھي العُلیا فَھُوَ فی سَبِیل اللَّہِ ) ( جِس نے اللہ کی بات کی سر بلندی کے لیے قتال (لڑائی ) کی وہ اللہ کی راہ میں (لڑائی ، جِہاد ) کرنے والا ہے ) مُتفقٌ علیہ ، صحیح البخاری ، کتاب الجہادو السیر /باب ١٥ ، صحیح مسلم / کتاب الامارہ /باب ٤٢ ۔
(۲) مظلوموں کی مدد کرنے کے لیے جِہاد:::
ْ دلیل ::: اللہ تعالیٰ کا فرمان ( وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا اََخْرِجْنَا مِنْ ہَ۔ذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اََہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ وَلِیّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیْراً ) ( تُم لوگوں کو کیا (روکاٹ ) ہے کہ اللہ کی راہ میں لرائی نہیں کرتے ہو جبکہ عورتوں مَردوں اور بچوں میں سے بے بس لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اِس بستی میں سے نکال دے جِس کے لوگ(ہم پر )ظُلم کرنے والے ہیں ، اور (اے ہمارے رب ہمیں اِس ظُلم سے نکالنے کے لیے ) اپنے پاس سے ہمارے لیے کوئی حاکم بنا دے اور اپنے پاس ہمارے لیے کوئی مدد گار بنا دے ) سورت النِساء / آیت ٧٥ ۔
(٣) اِسلام کے دشمنوں کے خِلاف اور اِسلام کی حفاظت کے لیے جِہاد :::
ْدلیل ::: اللہ تعالیٰ کا فرمان ( الشَّہْرُ الْْحَرَامُ بِالشَّہْْرِ الْْحَرَامِ وَالْْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْْتَدَی عَلَیْْکُمْْ فَاعْْتَدُواْْ عَلَیْْہِ بِمِثْْلِ مَا اعْْتَدَی عَلَیْْکُمْْ وَاتَّقُواْْ اللّہَ وَاعْْلَمُواْْ اََنَّ اللّہَ مَعَ الْْمُتَّقِیْْنَ ) ( حُرمت والے مہینے کے بدلے حُرمت والا مہینہ ہے ، اورحرمتوں کا بدلہ ہے ، لہذا جو کوئی تُم پر زیادتی کرے تو تُم لوگ بھی اُسی زیادتی کے برابر اُس سے بدلہ لو اور اللہ سے بچو (یعنی اُس کے عذاب سے بچو ) اور جان رکھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ (اللہ کے عذاب سے ) بچاؤ اِختیار کرنے والوں کے ساتھ ہے ) سورت البقرہ / آیت ١٩٤
جہاد کی اقسام کا بیان انشاء اللہ تعالیٰ اگلی قسط میں ہو گا ۔
تمام قارئین سے گذارش ہے کہ کوئی سوال کرنے سے پہلے مضمون کی تکمیل تک انتظار فرما لیں ، ہو سکتا ہے اُن کے سوال کا جواب سوال کرنے سے پہلے ہی انہیں مل جائے۔والسلام علیکُم و رحمۃُ اللہ وبرکاتہُ
 
::: جہاد ، تعریف اور اقسام ::: دوسرا ( آخری ) حصہ :::


::: گذشتہ سے پیوستہ ::: جہاد ، تعریف اور اِقسام ::: دوسری( آخری ) قِسط :::
: جِہاد کی چار اِقسام (قِسمیں ) ہیں ،
(١) نفس کے خِلاف جِہاد ::: اور اِسکے چار درجات (درجے) ہیں :::
( ١ ) دِین اور ھدایت کا عِلم اور کام سیکھنے کے لیئے نفس کے خِلاف جِہاد ۔
( ٢ ) عِلم حاصل کرنے کے بعد اُس پر عمل کرنے کےلیئے نفس کے خِلاف جِہاد ۔
( ٣ ) عِلم حاصل کرنے کے بعد اُسکی طرف لوگوں کو بلانے ، اور وہ عِلم لوگوں کو سِکھانے کے لیے نفس کے خِلاف جِہاد ۔
( ٤ ) اللہ کے دِین کی دعوت میں پیش آنے والی مصیبتوں اور پریشانیوں پر صبر کرنے کے لیئے نفس کے خِلاف جِہاد ۔
(٢) شیطان کے خِلاف جِہاد ::: اِس کے دو درجات ہیں :::
( ١ ) اِیمان اور عقیدے میںجو شکوک و شبہات ، اور وسواس شیطان کی طرف سے ڈالے جاتے ہیں اُن کو دور کرنے کے لیئے اور خود کو اُن سے محفوظ رکھنے کے لیئے شیطان کے خِلاف جِہاد ۔
( ٢ ) بُرے کاموں کا لالچ ، اور گُناہوں کی رغبت ، جو شیطان کی طرف سے اِنسان کے دِل و دِماغ میں پیدا کی جاتی ہے اُسکو دور کرنے اور خود کو اُس سے محفوظ رکھنے کے لیئے شیطان کے خِلاف جِہاد ۔
(٣) کافروں اور مُشرکوں کے خِلاف جِہاد ::: اِسکے بھی چار درجات ہیں :::
( ١ ) دِِل کے ذریعے جِہاد ۔ ( ٢ ) زُبان کے ذریعے جِہاد ۔
(٣) مال کے ذریعے جِہاد ۔ ( ٤ ) ہاتھ کے ذریعے جِہاد ۔

(٤) ظلم کرنے والوں ، بدعت ، اور مُنکرات پر عمل کرنے اور کروانے والوں کے خِلاف جِہاد :::
اِسکے تین درجات ہیں :::
( ١ ) ہاتھ کے ذریعے جِہاد ، یعنی مُسلمان اِن کاموں کو ہاتھ سے روکا جائے ، لیکن اگر ایسا نہ کر سکتا ہو تو ،
( ٢ ) زُبان کے ذریعے جِہاد ، یعنی زُبان سے اِن چیزوں پر اِنکار کِیا جائے لوگوں کو اِن کے غلط ہونے کے بارے میں قُران و سُنّت کی دلیل کے ساتھ بتایا جائے ، لیکن اگر اِسکی قُدرت بھی نہ رکھتا ہو تو ،
( ٣ ) دِل کے ذریعے جِہاد ۔
::: حاصلِ کلام::: جِہاد کے کُل تیرہ درجات ہیں ،اور جِہاد بحیثیتِ جِنس فرضِ عین ہے ، یعنی ہر مُسلمان پر فرض ہے کہ مندرجہ بالا تیرہ درجات میں سے کِسی بھی درجے میں اللہ کی را ہ میں جِہاد کرے ، جہاد کی تمام تر اِقسام اور اُن میں سے صرف چوتھی قِسم ایسی ہے جِس میں ایک مُسلمان دوسرے مسلمان کے خِلاف جہاد کرے گا ،
آئیے ذرا اِس معاملے کی تفصیل کو سمجھیں ، کیونکہ اِس میں غلط فہمی اور کم عِلمی یا لا عِلمی کی وجہ سے ہمارے کئی مُسلمان بھائی بہن وہ کام کرتے اور اُن کی دعوت دیتے ہیں جو حرام ہیں ،
چوتھی قِسم کا جہاد ، ظُلم کرنے والوں ، بدعت ، اور مُنکرات پر عمل کرنے اور کروانے والوں کے خِلاف جِہاد ہے ،
اور جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا اِ س جِہاد کے تین درجات ہیں ، اِس میں پہلی قِسم کے مسلمان وہ ہیں جو ظالِم ہیں ،یاد رہے کہ کِسی پر بھی ظُلم کرنے والا پہلے خود اپنے
اوپر ظلم کر رہا ہوتا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظُلم کرنے والے مسلمان کو روکنے کا حُکم دیتے ہوئے فرمایا ((( انْْصُرْْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَو مَظْْلُومًا ::: اپنے (مُسلمان ) بھائی کی مدد کرو ظالم ہو یا مظلوم ))) صحابہ نے عرض کِیا ::: یا رَسُولَ اللَّہِ ہذا نَنْْصُرُہُ مَظْْلُومًا فَکَیْْفَ نَنْْصُرُہُ ظَالِمًا ::: اے اللہ کے رسول مظلوم کی مدد کریں (تو سمجھ میں آ گیا ) لیکن ظاِلم کی مدد کیسے کریں ( سمجھ نہیں آیا ) ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ((( تَاَْْخُذُ فَوْْقَ یَدَیْْہِ ::: اُسکے ہا تھ کو پکڑ لو ))) صحیح البخاری /کتاب المظالم /باب ، ٥ او ٤
دوسری روایت میں مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( انْصُرْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَو مَظْلُومًا ::: اپنے (مُسلمان ) بھائی کی مدد کرو ظالم ہو یا مظلوم ))) ایک صحابی نے عرض کِیا ::::::یا رَسُولَ اللَّہِ اَنْصُرُہُ اذا کان مَظْلُومًا اَفَرَاَیْتَ اذا کان ظَالِمًا کَیْفَ اَنْصُرُہُ ::: اے اللہ کے رسول اگر وہ مظلوم ہو تو میں اُسکی مدد کروں گا لیکن اگر وہ ظالِم ہو تو میں اُسکی مدد کیسے کروں؟ تو فرمایا ((( تَحْجُزُہُ اَو تَمْنَعُہُ من الظُّلْمِ فان ذلک نَصْرُہُ ::: اُسے ظُلم کرنے سے عاجز کر دو یا منع کرو ، بے شک یہ ہی اُسکی مدد ہے ))) صحیح البخاری / کتاب الاکراہ قول اللہ تعالیٰ اِلّا مِن اکراہ /باب ٧ ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت پر رحم کرتے ہوئے ہمیشہ مکمل راہنمائی فرمائی ، اور اِس موضوع کو بھی مکمل وضاحت سے سمجھایا کہ ، کوئی مُسلمان اپنے مُسلمان بھائی کو ظُلم سے روک کر درحقیقت اُس ظالِم کو اللہ کے عذاب سے بچنے میں مدد کرتا ہے ، اور اُس کو روکنے کے دو طریقے ہیں ، اگر ہمت ہو تو اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے ظُلم سے روکا جائے ، اور اگر ایسا نہیں تو اُسے زُبان سے منع کِیا جائے ، سمجھایا جائے کہ اُس کا عمل اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اور خُود اُس کی اپنی جان پر آخرت کا ظُلم ہے جو وہ خُود کر رہا ہے ، لیکن کِسی مسلمان بھائی ، بہن کو کِسی ظُلم ، یعنی گناہ زیادتی غلطی سے روکنے کا یہ طریقہ ہر گِز نہیں کہ اُس کی جان مال یا عِزت پر حملہ کِیا جائے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجۃ الوداع کے موقع پر صاف صاف یہ حُکم صادر فرمایا تھا ، ہونا تو یہ چاہیئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجۃ الوداع کا خطبہ ہر مسلمان کو یاد ہو ، بہر حال اُس کی مختلف روایات کا مجموعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ::: ((( یہ دِن کونسا ہے ؟))) صحابہ نے فرمایا ::: اللہ اور اُس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی بہتر جانتے ہیں ::: جب کہ صحابہ بھی جانتے تھے کہ اِس سوال کا جواب کیا ہے ، لیکن یہ اُن کا اِیمان ، محبت اور ادب تھا کہ خاموش رہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے جواب کے انتظار میں کافی دیر تک خاموش رہے ، صحابہ یہ خیال کرنے لگے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِسکو کوئی اور نام دے دیں گے ، کافی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( کیا یہ قُربانی کرنے کا دِن نہیں ہے ؟ ))) صحابہ نے عرض کیا ::: جی ہاں بے شک ::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((( یہ مہینہ کون سا ہے ؟ ))) صحابہ نے فرمایا ::: اللہ اور اُس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی بہتر جانتے ہیں ::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے جواب کے انتظار میں کافی دیر تک خاموش رہے ، صحابہ یہ خیال کرنے لگے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس کو کوئی اور نام دے دیں گے ، کافی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( کیا یہ حج کا مہینہ نہیں ہے ؟ ))) صحابہ نے عرض کیا ::: جی ہاں بے شک ::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((( یہ شہر کون سا ہے ؟ ))) صحابہ نے فرمایا ::: اللہ اور اُس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی بہتر جانتے ہیں ::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلماُن کے جواب کے انتظار میں کافی دیر تک خاموش رہے ، صحابہ یہ خیال کرنے لگے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس کو کوئی اور نام دے دیں گے ، کافی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( کیا یہ حُرمت والا شہر (مکہ المرمہ )نہیں ہے ؟ ))) صحابہ نے عرض کیا ::: جی ہاں بے شک ::: یہ سوال کرنے کا مقصد صحابہ کے ذہنوں اور دِلوں میں اِن تینوں چیزوں کی حُرمت اور تقدس کی تاکید اجاگر کرتے ہوئے اپنے اگلے فرمان کی اہمیت کا احساس دِلانا تھا ، ورنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور صحابہ بھی یہ سب باتیں جانتے تھے ، صحابہ کی طرف سے جواب اور با تاکید جواب کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ::: ((( فان دِمَاء َکُمْ وَاَمْوَالَکُمْ وَ اَعرَاضُکُم عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہذا فی شَہْرِکُمْ ہذا فی بَلَدِکُمْ ہذا الی یَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ اَلا ہل بَلَّغْتُ ، وَ اَنتْم تْساَلْونَ عَنِی فَمَا اَنتْم قَائِلْونَ ؟ ::: ( تو پھر بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عِزتیں ایک دوسرے پر اسوقت تک جب تم اپنے رب سے ملو گے ، حرام ہیں ، بالکل تمہارے اِس شہر میں ، تمہارے اِس مہینے میں تمہارے آج کے دِن کی طرح (حرام ہیں ، اور اب یہ بتاؤ کہ ) کیا میں نے ( اللہ کا ) پیغام پہنچا دِیا (کیونکہ ) تُم لوگوں سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تُم لوگ کیا جواب دو گے ))) قالْوا ؛نَشھَدْ اِنَکَ قَد بَلّغتَ رِساَلاتِ رَبِکَ اَدِیتَ ، و نَصَحَتَ لِاْمتَکَ ، و قَضِیتَ اَلَّذِی عَلِیکَ ::: سب صحابہ نے کہا ::: ہم گواہی دیں گے کہ آپنے اپنے رب کے پیغامات کی تبلیغ کر دی اور (اپنے فرض کی )اَدا ئیگی کر دی ، اوراپنی اُمت کو نصیحت کر دی ، اور جو آپ پر فرض تھا وہ آپ نے پورا کر دِیا ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اُنگلی آسمان کی طرف اُٹھا کر اور پھر صحابہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرمایا ((( اللَّھْم فَاَشھِد ، اللَّھْم فَاَشھِد ، اللَّھْم فَاَشھِد فَلْیُبَلِّغْ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ اَوْعَی من سَامِعٍ فلا تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ::: اے اللہ گواہ رہ ، اے اللہ گواہ رہ ، اے اللہ گواہ رہ ( لوگو ) جو یہاں موجود ہے وہ ( یہ باتیں ) اُن تک پہنچا دے جو موجود نہیں ہیں ، ہو سکتا ہے جِس تک بات پہنچے وہ یہاں سننے والے سے زیادہ (اُس بات کی ) حفاظت کرنے والا ہو ، پس (میں نے جو کہا ہے وہ یاد رکھا جائے اور ) میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ کر واپس کافر نہ بن جانا ))) صحیح البخاری حدیث ١٦٥٤ / کتاب الحج /باب ١٣١ باب الخطبۃ ایام منی ، کتاب العِلم /باب ٩ ، کتاب الاَضاحی / باب ٥ ، کتاب الاَذان / باب ٤٣ ، کتاب الحدود / باب ٩ ، صحیح مُسلم حدیث ،١٦٥٩ /کتاب القسامۃ و المحاربین والقصاص والدیۃ / باب ٩ ، حدیث ١٢١٨کتاب الحج / باب ١٩ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات ،
اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ( اللہ کی قسم جِس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن کی اُمت کے لیے وصیت ہے ) صحیح البخاری ، کتاب الحج /باب ١٣١
اُمتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ وصیت بھول چکی ہے یا یہ کہیئے کہ جنہیں یاد تھی وہ بھی آج کے اُمتیوں کے لیے بھولی بسری بات ہیں تو وصیت کیا یاد ہو گی ، اور یہ بنیادی ترین اسباب میں سے ایک ہے کہ ہم آج وہاں ہیں جہاں نہیں ہونا چاہیئے تھا اور وہاں نہیں ہیں جہاں ہونا چاہیے تھا ،
بات ہو رہی تھی ، کہ کِسی ظالِم کو ظُلم سے روکنا بھی جِہاد ہے ، مُسلمانوں میں سے مُنکرات پر عمل کرنے اور کروانے والے یعنی مُسلمان مُشرک اور بدعتی کو شرک و بدعت سے روکنا بھی جِہاد ہے ، اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکموں کے خِلاف کام کرنے اور کروانے والے حاکموں اور محکوموں کو روکنا بھی جِہاد ہے ، لیکن اِس جِہاد میں کِسی مُسلمان کی جان مال عِزت پر ہاتھ ڈالنا حرام ہے ، اور کوئی حلال کام کرتے ہوئے کوئی حرام حلال نہیں ہو جاتا ،
کوئی بھی مُسلمان جو کِسی بھی مُنکر یعنی ناجائز و حرام کام میں ملوث ہے تو وہ اپنی جان پر ظُلم کرنے والا ہے ،اور اپنے اِس ظالِم مُسلمان بھائی یا بہن کو روکنے کے لیئے ہمیں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرنا ہے جِس کا ذِکر گذر چکا ہے ، نہ کہ اپنی عقل اور فلسفے کی بنیاد پر کِسی کلمہ گو کو کافر ارار دے کر اُس کی جان مال و عِزت پر حملہ آور ہونا ہے ، یہ جِہاد نہیں فساد ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اُس دِین کو جو اُس نے تمام تر مخلوق سے الگ اور بُلندی پر رہتے ہوئے ، وہاں سے اپنے رسول مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا ، اور جِس طرح نازل فرمایا ، کِسی کمی یا زیادتی کے بغیر اپنی یا کِسی کی عقل و فلسفے یا رائے اور سوچ کے عمل دخل کے بغیر سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ، اور اُسی عمل ہمارا خاتمہ فرمائے اور اُس عمل کو قُبُول فرمائے ۔
ان معلومات کا اچھی طرح سے مطالعہ کرنے کے بعد اگر کسی قاری کے ذہن میں جہاد ، اپنے ہی مسلمانوں کی جان مال عزت پر نام نہاد خود کُس حملوں کی حقیقت یا شرعی حیثیت کے بارے میں کوئی سوال یا شبہہ ہو تو خوش آمدید ، والسلام علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
طلبگارِ دُعا ، آپکا بھائی ، عادِل سُہیل ظفر ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل مضمون کا برقی نسخہ یہاں سے اتارا جا سکتا ہے ،
ان شا اللہ اگلی فرصت میں اسی موضوع سے متعلق """ شہادت ، شہید ، تعریف اور اقسام """ پیش کروں گا ۔
میرے بروزر میں کئی فونٹس اور سائز درست دکھائی نہیں دے رہے ، اگر قارئیئن میں سے بھی کسی کو ایسی کوئی شکایت ہو تو مجھے ضرور آگاہ فرمایے تا کہ انظامیہ کی مدد سے درستگی کی جا سکے ، جزاکم اللہ ، و السلام علیکم۔
 

شمشاد

لائبریرین
عادل صاحب بہت شکریہ۔ جزاک اللہ

اس مضمون کا ماخذ کیا ہے؟ اگر تو آپ کا اپنا لکھا ہوا ہے تو کیا ہی خوب بات ہے اور اگر کہیں چھپ چکا ہے تو حوالہ دے دیں تو نوازش ہو گی۔
 
عادل صاحب بہت شکریہ۔ جزاک اللہ

اس مضمون کا ماخذ کیا ہے؟ اگر تو آپ کا اپنا لکھا ہوا ہے تو کیا ہی خوب بات ہے اور اگر کہیں چھپ چکا ہے تو حوالہ دے دیں تو نوازش ہو گی۔
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ ،
شمشاد صاحب ، یہ اللہ کی عطا کردہ توفیق سے میرا ہی لکھا ہوا ہے ، اور کہاں کہاں سے کیا کیا اخذ کیا گیا ہے تقریبا ہر بات کی دلیل ساتھ مذکور ہے ، و ما توفیقی الا باللہ ، الذی بنعمتہ تتم الصالحات ، و السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ۔
 

پیاسا

معطل
ماشااللہ .(میں ہوں . . . . پیاسا"

8yfcqg.jpg
 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، بھائی جی محبت سے مسکرانے والی نیکی کا جو اسلوب آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق تو یہ نیکی کافی خوفناک ہے ،:) کیا سچ مچ مسکرانے سے کام نہیں چلتا ؟ بٹن دبا کے ، یوں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ وہ مسکرا کرتے تھے ، بہت ہی کم ایسا ہوا کہ وہ ان کے مسکرانے یا ہنسنے کی وجہ سے ان کے دانت مبارک نظر آئے ، فداہ کل ما رزقنی اللہ ، اور ولقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ، و السلام علیکم
 
Top