جو گزری ہے اس پر لکھی ہے

La Alma

لائبریرین
جو گزری ہے اس پر لکھی ہے
قلم بھی مرا کاغذی ہے

قیامت تو ہے بعد کی بحث
کسی کی ابھی جاں گئی ہے

مرے تھے مگر جی اٹھے ہیں
پسِ مرگ بھی زندگی ہے

نئے حادثے کا ہے آغاز
ازل کل بھی تھا آج بھی ہے

یہاں بھی ہے اک حشر برپا
وہاں بھی عدالت لگی ہے

کبھی کُل ہے جُز کے برابر
کبھی ایک پَل بھی صدی ہے

کہانی مکمل نہیں تھی
مگر ہم نے پوری پڑھی ہے

اٹھے جو کسی اور جانب
وہ پہلا قدم آخری ہے

یہ فرصت غنیمت سمجھیے
یہ مہلت گھڑی دو گھڑی ہے

نہ بن پائی ہم سے کوئی بات
ہماری کہی، ان کہی ہے

ابد بھی ہوا ختم المٰیؔ
اجل سامنے پھر کھڑی ہے
 
مرے تھے مگر جی اٹھے ہیں
پسِ مرگ بھی زندگی ہے
نئے حادثے کا ہے آغاز
ازل کل بھی تھا آج بھی ہے
اٹھے جو کسی اور جانب
وہ پہلا قدم آخری ہے
عمدہ۔ ڈھیروں داد اور دعائیں۔
 
جو گزری ہے اس پر لکھی ہے
قلم بھی مرا کاغذی ہے

قیامت تو ہے بعد کی بحث
کسی کی ابھی جاں گئی ہے

مرے تھے مگر جی اٹھے ہیں
پسِ مرگ بھی زندگی ہے

نئے حادثے کا ہے آغاز
ازل کل بھی تھا آج بھی ہے

یہاں بھی ہے اک حشر برپا
وہاں بھی عدالت لگی ہے

کبھی کُل ہے جُز کے برابر
کبھی ایک پَل بھی صدی ہے

کہانی مکمل نہیں تھی
مگر ہم نے پوری پڑھی ہے

اٹھے جو کسی اور جانب
وہ پہلا قدم آخری ہے

یہ فرصت غنیمت سمجھیے
یہ مہلت گھڑی دو گھڑی ہے

نہ بن پائی ہم سے کوئی بات
ہماری کہی، ان کہی ہے

ابد بھی ہوا ختم المٰیؔ
اجل سامنے پھر کھڑی ہے
عمدہ غزل ہے ، المیٰ صاحبہ ! داد حاضر ہے .
 
Top