جو کچھ چاہیں وہ فرمائیں، اُن کو تم فرمانے بھی دو - کوکب شادانی

فاروقی

معطل
جو کچھ چاہیں وہ فرمائیں، اُن کو تم فرمانے بھی دو
میرے دل کی حالت دیکھو، اُن کو قسمیں کھانے بھی دو

خشک ہوا ہے نخلِ تمنّا، پھلنے کی امید نہیں ہے
باقی ہیں جو پھول کہیں پر اُن کو اب مرجھانے بھی دو

جینا کیا، جینے کی خوشی کیا، دل ہے جب بربادِ تمنّا
جاؤ اب آنسو نہ بہاؤ مجھ کو تم مر جانے بھی دو

ناز و ادا سے کام رکھو تم، جور و جفا کی مشق کرو تم
کوئی اگر مٹتا ہے جہاں میں اُس کو تم مٹ جانے بھی دو

رگ رگ میں ایک آگ لگی ہے، دل ہے تیرِ غم کا نشانہ
رونے دو، رونے دو مجھ کو، آنسو کچھ بہہ جانے بھی دو

ختم نہ ہوگی غم کی کہانی، نیند تمہیں جھٹ آجائےگی
چھوڑو بھی اس افسانے کو، جانے بھی دو جانے بھی دو

عمہدِ وفا کوکب! دھوکا ہے، کوئی کسی کا کب ہوتا ہے
غم نہ کرو اگلی باتوں کا، یاد آئیں یاد آنے بھی دو

(کوکب شادانی)
 
Top