جو لوگ اس کو یہاں آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

جی گرو جی

محفلین
جو لوگ اس کو یہاں آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
وہ حشر اپنا جہاں سے گزر کے دیکھتے ہیں

سیاہ فام تو دیکھے ہیں پر نہ ایسے بھی
کہ اہل حبش بھی اس کو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ناک پہ طوطوں کو رشک آتا ہے
سنا ہے دانت بھی کچھ لوگ ڈر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولے تو بدبو بھی منہ سے آتی ہے
سو لوگ ناک پہ رومال دھر کے دیکھتے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
جس کی بھی ہے، اچھی خاصی پیروڈی ہے۔۔ لیکن یہ حَبَش کو کیا ہو گیا؟ حَب ش تلفظ باندھا گیا ہے۔
 

جی گرو جی

محفلین
شاعری کا تو مجھے بھی نہیں پتہ کس کی ہے اچھی لگی تو لکھ دی باقی رہا حبش تو یہ حبشہ والا حبش ہے۔
پسند کرنے کا شکریہ:thumbsup:
 

محمد وارث

لائبریرین
محترم، اعجاز صاحب کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ شاعر نے 'حَبَش' کا تلفظ غلط باندھا ہے شعر میں، شاعر نے حَبَش (حَ بَش) کو حبش (حب،ش) تلفظ کیا ہے جو کہ غلط ہے اور اس وجہ سے مصرع بھی وزن سے خارج ہو رہا ہے!

اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ شاعر بھی بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)
 
Top