جو سر سناں پہ سجے، وہ جھکاؤ چاہتے ہیں۔۔۔۔ محمد بلال اعظم

محمد بلال اعظم

لائبریرین
بابا جانی کے دلی شکریہ کے ساتھ

غزل

جو سر سناں پہ سجے، وہ جھکاؤ چاہتے ہیں
یہ کون لوگ سفر میں پڑاؤ چاہتے ہیں

یہی ہیں وہ، جنہیں زعمِ شناوری تھا بہت
کنارِ نیل جو پہنچے تو ناؤ چاہتے ہیں

یہ پارسا جو طریقت کی بات کرتے ہیں
یہ داغ داغ ہیں، اپنا بچاؤ چاہتے ہیں

تکلفات ہوئے ہیں سرشت میں شامل
محبتوں میں بھی ہم رکھ رکھاؤ چاہتے ہیں

ہمیں خبر ہے کہ ترکش میں تیر کتنے ہیں
ہم اہلِ جذب و جنوں، پھر بھی گھاؤ چاہتے ہیں

(محمد بلال اعظم)
 

باباجی

محفلین
واہ واہ بہت ہی خوب بلال
کیا روانی ہے ماشاءاللہ

یہی ہیں وہ، جنہیں زعمِ شناوری تھا بہت
کنارِ نیل جو پہنچے تو ناؤ چاہتے ہیں​

یہ پارسا جو طریقت کی بات کرتے ہیں
یہ داغ داغ ہیں، اپنا بچاؤ چاہتے ہیں​
 
بہت عمدہ بلال بھائی بہت خوب
بابا جانی کے دلی شکریہ کے ساتھ

غزل

جو سر سناں پہ سجے، وہ جھکاؤ چاہتے ہیں
یہ کون لوگ سفر میں پڑاؤ چاہتے ہیں

یہی ہیں وہ، جنہیں زعمِ شناوری تھا بہت
کنارِ نیل جو پہنچے تو ناؤ چاہتے ہیں

یہ پارسا جو طریقت کی بات کرتے ہیں
یہ داغ داغ ہیں، اپنا بچاؤ چاہتے ہیں

تکلفات ہوئے ہیں سرشت میں شامل
محبتوں میں بھی ہم رکھ رکھاؤ چاہتے ہیں

ہمیں خبر ہے کہ ترکش میں تیر کتنے ہیں
ہم اہلِ جذب و جنوں، پھر بھی گھاؤ چاہتے ہیں

(محمد بلال اعظم)
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
واہ واہ بہت ہی خوب بلال
کیا روانی ہے ماشاءاللہ
یہی ہیں وہ، جنہیں زعمِ شناوری تھا بہت
کنارِ نیل جو پہنچے تو ناؤ چاہتے ہیں​

یہ پارسا جو طریقت کی بات کرتے ہیں
یہ داغ داغ ہیں، اپنا بچاؤ چاہتے ہیں​
ممنون ہوں فراز بھائی
:)
 

نور وجدان

لائبریرین
جو سر سناں پہ سجے، وہ جھکاؤ چاہتے ہیں
یہ کون لوگ سفر میں پڑاؤ چاہتے ہیں

ہوا نہ جانے کہاں لے گئی وہ تیر کہ جو​
نشانے پر بھی نہ تھا اور کمان میں بھی نہ تھا​
ایسے ہی جمال احسانی کا یہ شعر مجھے یاد آگیا ہے ۔۔معانی دونوں کے گرچہ مختلف ہیں ۔۔۔۔۔​

یہی ہیں وہ، جنہیں زعمِ شناوری تھا بہت
کنارِ نیل جو پہنچے تو ناؤ چاہتے ہیں

واہ ۔۔۔۔۔۔۔ کیا شعر کہا ہے آپ نے

یہ پارسا جو طریقت کی بات کرتے ہیں
یہ داغ داغ ہیں، اپنا بچاؤ چاہتے ہیں
زبردست ۔۔۔۔

مقطع کا تو جواب ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔خوب
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
ہوا نہ جانے کہاں لے گئی وہ تیر کہ جونشانے پر بھی نہ تھا اور کمان میں بھی نہ تھا​
ایسے ہی جمال احسانی کا یہ شعر مجھے یاد آگیا ہے ۔۔معانی دونوں کے گرچہ مختلف ہیں ۔۔۔۔۔​
بہت بڑے شاعر جمال احسانی
نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیا​
بس ایک صبح یونہی خلق سے کنارہ کیا​

واہ ۔۔۔۔۔۔۔ کیا شعر کہا ہے آپ نے​
زبردست ۔۔۔۔
مقطع کا تو جواب ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔خوب
سر تا پا سپاس گزار ہوں :)
 

نور وجدان

لائبریرین
بہت بڑے شاعر جمال احسانی
نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیابس ایک صبح یونہی خلق سے کنارہ کیا​

یہ جو یونہی یونہی لکھ دیتے ہیں ان کو پڑھا غور سے جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔یہی جھلک اسی منظوم میں بھی ہے ۔۔۔جیسے یونہی لکھا ہے جسے عرف عام میں بے ساختگی اور خیال کی روانی کہتے ہیں
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
یہ جو یونہی یونہی لکھ دیتے ہیں ان کو پڑھا غور سے جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔یہی جھلک اسی منظوم میں بھی ہے ۔۔۔جیسے یونہی لکھا ہے جسے عرف عام میں بے ساختگی اور خیال کی روانی کہتے ہیں
کچھ نہیں مانگتے ہم لوگ بجز اذنِ کلام
ہم تو انسان کا بے ساختہ پن مانگتے ہیں
احمد ندیم قاسمی
 
بہت خوب بلال ! کیا خوبصورت اشعار ہیں !!
تکلفات ہوئے ہیں سرشت میں شامل
محبتوں میں بھی ہم رکھ رکھاؤ چاہتے ہیں
بہت اچھا شعر ہے!! اللہ کرے زور ِ سخن اور زیادہ!
مطلع کمزور ہے کچھ ۔ شاید کربلا کا استعارہ ہے!؟ مجموعی طور پر غزل بہت اچھی ہے ۔ مزا آیا پڑھ کر۔ بہت داد آپ کیلئے!!
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
بہت خوب بلال ! کیا خوبصورت اشعار ہیں !!
تکلفات ہوئے ہیں سرشت میں شامل
محبتوں میں بھی ہم رکھ رکھاؤ چاہتے ہیں
بہت اچھا شعر ہے!! اللہ کرے زور ِ سخن اور زیادہ!
آپ کی داد ہفت قلیم سے بڑھ کر ہے :)
مطلع کمزور ہے کچھ ۔ شاید کربلا کا استعارہ ہے!؟
جی! یہاں یہی کہنا چاہا ہے کہ ہم نے اپنی روایات کو کس قدر مسخ کیا ہے، ہمارے آبا کیا تھے اور ہم نے ان کی قائم کی گئی مثالوں اور روایتوں کو توڑ دیا ہے۔
جو سر سناں پہ سجے، وہ جھکاؤ۔۔۔
ہم تو نہیں ہو سکتے ان کے پیروکار! یہ کون لوگ سفر میں۔۔۔

میں کوشش کروں گا کہ اسے بدلا جا سکے۔
مجموعی طور پر غزل بہت اچھی ہے ۔ مزا آیا پڑھ کر۔ بہت داد آپ کیلئے!!
شکر گزار ہوں آپ کا
 
Top