جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی

سیما علی

لائبریرین
بہت کچھ چلتا رہتا ہے کچھ بے ربط اور کچھ با ربط مگر ایک بات ہے کہ ہم سب کہیں نہ کہیں یہ سمجھتے تھے کہ ہم دنیا کے جھمیلے نمٹا کے آجائیں گے اور محفل شاید یہیں دروازے پہ انتظار کرے گی۔ ایسا کب ہوتا ہے؟ کہانیوں میں ہوتا ہوگا۔ اب جتنا تیز رفتار دور ہے لوگ کچھ دیر میں ہی آگے بڑھ جاتے ہیں اس نے تو پھر ہم سب کا کئی سال انتظار کیا۔ تاہم اس کے جانے پر میں جس سنجیدہ پہلی اور آخری خواہش کی تکمیل کرنا چاہوں گی وہ یہ لڑی بنانا اور اس میں بہتوں سے فیض پانا ہے۔
زیادہ تر لوگ بڑھاپے کی تنہائی سے بیزار ہوتے ہیں
جبکہ بڑھاپے کی انجمن آرائی الگ ہی ہے ۔یہ آپکو زندگی کے ہر ہر گوشے میں اطمینان سے
جھانکنے کی فرصت فراہم کرتا ہے نہ کسی نے آنا ہے اور نہ کسی کو جانا ہے گذرتے وقت کی چاپ سننے کا اپنا مزا ہے ظاہر کی آنکھ سے نہیں باطن کی آنکھ سے چیزوں کو دیکھنے کا اپنا مزا ہے
زندگی میں آنے والے کرداروں کو دیکھنے کا اپنا مزا پہلے وہ فرصت نہیں تھی اب فرصت ہی فرصت ہر پہلو سے دیکھینے پر پرت در پرت کردار کھل کر سامنے آتے ہیں ۔اور مثبت و منفی پہلو سامنے آتے جاتے ہیں ۔۔۔
صحیح کہا آپ نے ہم سمجھے کہ ہم اپنے جھمیلے نمٹا کے آئیں گے اور محفل دروازے پہ انتظار کرتی ہوگی۔
پر سب کچھ بدل گیا
اب ہم ہیں
لیکن ہمارا وقت 2019 سے کسقدر اچھا گذرا یہ آپکو نظرآتا ہوگا شاید اتنا سو شلائز ہم نے اپنے آپ کو سروس میں رہتے ہوئے نہیں کیا جتنا اردو محفل میں کیا ۔ کیونکہ سروس میں رہتے ہوئے آپکو بیحد محتاط رہنا پڑتا ہے اور خاص طور پر ہمارے معاشرے میں خواتین کو ۔لیکن ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں ہمارے نزدیک تر جو لوگ اردو محفل کے لوگ ہیں ہم نے بغیر دیکھیے جیسا اُنکو سوچا وہ بالکل ویسے ہی ہیں ۔جبکہ اصلی زندگی میں شاذ و نادر ہی ہوتا ہے
۔
 

سیما علی

لائبریرین
--- وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ 12:76
اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالا تر ہے
ہر علم والے سے اوپر ایک سب کچھ جاننے والا ہے۔ [76]
ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتداء ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے عبداللہ رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «فَوْقَ کُلِّ عَالِ۔مٍ عَ۔لِ۔یْمٌ» ہے۔
تفسير ابن كثير
 

الف نظامی

لائبریرین
شاید سبھی لوگوں کی بنیاد ایک جیسی نہ بھی ہو کہ وہ مذہب و عقائد پر ہی پیر جمائے رکھیں لیکن وہ کسی نہ کسی شے پر تو پیر جماتے ہیں نا۔ تو کیا یہ پیر جمانے کی متنوع وجہ انسانوں کے ذاتی رجحانات ہوتے ہیں یا کائنات کا ایلگورتھم ایسا ہے کہ جس سے جو کام لینا ہو اسے ویسے امتحان دیے جاتے، مواد دکھایا جاتا اور ذہن بنایا جاتا ہے؟
پیر جمانے یا اعتماد کرنا :
ہر انسان کو کسی نہ کسی فرد پر اعتماد کرنا ہوتا ہے اور ایک مسلمان کو اس حوالے سے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کلی اعتماد کرنا ہے جس کی جسٹی فیکیشن یہ ہے۔

کائنات کا الگورتھم یا اللہ تعالی کی منشا:
اللہ تعالی کی منشا ہم نہیں جان سکتے البتہ جتنا قرآن اور صاحب قرآن نے ہمیں بتایا ہو۔

انسان کا امتحان کن چیزوں سے ہوتا ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں،

یہ بات تو طے ہے کہ ہر شخص کی کہانی مختلف ہوتی ہے اور ہر شخص کا امتحان بھی مختلف ہوتا ہے۔ کسی کو خوف سے آزمایا جاتا ہے کسی کو بھوک سے ، کسی کو مال ، جان ، پھلوں کے نقصان سے۔ ان حالات میں ہر انسان مختلف رویہ اپناتا ہے جس سے اس کا مقام متعین ہوتا ہے۔ کوئی شکوہ شکایت ، جزع فزع کرتا ہے اور کوئی صبر و تسلیم و رضا سے کام لیتا ہے۔

امتحان کیوں لیا جاتا ہے؟
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ‎ 67:2
جس نے موت اور زندگی کو (اِس لئے) پیدا فرمایا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے، اور وہ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے

متعلقہ:
۱- قلیل عرصے میں مصائب کی کثرت و شدت اور امام عالی مقام کا مقام:
ہماری زندگی کی تمام پریشانیاں ، امامِ حسین پر ٹوٹنے والے مصائب کے پہاڑ کے مقابلے میں انتہائی قلیل ہوں گی اس کے باوجود اگر ہماری زندگی کی تمام پریشانیاں یکجا ہو کر نہایت ہی مختصر عرصہ میں ہم پر وارد ہوں تو عقل کا سلامت رہنا بہت مشکل ہے
اس کے برعکس امامِ حسین پر ایامِ محرم میں مصائب کے پہاڑ توڑے گئے لیکن پھر بھی قلیل عرصے میں مصائب کی کثرت و شدت آپ کے پایہ استقامت میں بال برابر بھی لرزش نہ لا سکی۔
اس لئے مورخ امامِ عالی مقام کے حیرت انگیز صبر و استقامت کو دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔
شیخ پڑے محراب حرم میں پہروں دوگانہ پڑھتے رہیں
سجدہ ایک اس تیغ تلے کا ان سے ہو تو سلام کریں.
---
۲- جب تک کسی کے صبر و ضبط کی آزمائش نہ ہو اس کی شخصیت خود اس سے محجوب رہتی ہے۔ خدا اس لئے نہیں آزماتا کہ وہ کسی کی شخصیت کی وسعت سے لاعلم ہے بلکہ خدا اس لئے آزماتا ہے کہ سائل خود اپنی حقیقت اور وسعت جان لے تا کہ تقاضا کرنے میں حیا داری کو اپنائے۔
"ہر نفس اپنی وسعت پر مکلف ہے"
بحوالہ: سکینۃ العارفین ، چودھری شہید الدین خان ندیم بھٹی قادری المعروف کندن لاہوری ، صفحہ 27، عباسی پبلیکیشنز گوجرانوالا۔

۳-
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
علم کا احاطہ کرنے کے لیے جنرلائزیشن درکار ہے یعنی ہر شعبہ علم کو کلی طور پر جاننا جو کہ محال ہے
جہاں علم کو "لامحدود" کہا جاتا ہے، اس کی نسبت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف ہوتی ہے۔
العلیم:
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت "العلیم" ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ تمام علم کا مالک اور جاننے والا ہے۔ اس کا علم ہر شے کو محیط ہے، جیسا کہ فرمایا گیا:
"ان اللَّهَ بِكُل شَيْء عَلِيم"
اللہ کے علم کی یہ لامحدودیت اس کی شانِ الوہیت کا حصہ ہے، اور مخلوق کے علم کا ہر پہلو اسی سے مستفاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد تمام مخلوقات کا علم محدود، ناقص، اور متعین ہے۔ انسان جتنی بھی ترقی کر لے، اس کا علم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ایک قطرے کی مانند ہے۔
چونکہ وہاں اس وضاحت کو تفصیل سے نہیں پیش کیا گیا تھا، اس لیے کچھ احباب نے اسے عمومی یا انسانی علم کے حوالے سے سمجھا، جو کہ درست تشریح نہیں ہے۔
دعا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی بارگاہ سے علم عطا فرمائے اور ہمیں علم کی عظمت کو سمجھنے اور اس کے ذریعے اس کی معرفت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی علم کی اصل ہے، اور یہی ہماری عاجزی اور اللہ کے قریب ہونے کا سبب ہے۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ
آمین۔
۔
 

الف نظامی

لائبریرین
جہاں علم کو "لامحدود" کہا جاتا ہے، اس کی نسبت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف ہوتی ہے۔
العلیم:
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت "العلیم" ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ تمام علم کا مالک اور جاننے والا ہے۔ اس کا علم ہر شے کو محیط ہے، جیسا کہ فرمایا گیا:
"ان اللَّهَ بِكُل شَيْء عَلِيم"
اللہ کے علم کی یہ لامحدودیت اس کی شانِ الوہیت کا حصہ ہے، اور مخلوق کے علم کا ہر پہلو اسی سے مستفاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد تمام مخلوقات کا علم محدود، ناقص، اور متعین ہے۔ انسان جتنی بھی ترقی کر لے، اس کا علم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ایک قطرے کی مانند ہے۔
چونکہ وہاں اس وضاحت کو تفصیل سے نہیں پیش کیا گیا تھا، اس لیے کچھ احباب نے اسے عمومی یا انسانی علم کے حوالے سے سمجھا، جو کہ درست تشریح نہیں ہے۔
دعا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی بارگاہ سے علم عطا فرمائے اور ہمیں علم کی عظمت کو سمجھنے اور اس کے ذریعے اس کی معرفت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی علم کی اصل ہے، اور یہی ہماری عاجزی اور اللہ کے قریب ہونے کا سبب ہے۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ
آمین۔
۔
بہت شکریہ ، تدوین کر دی ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
جب انسان بڑھاپے کی سرحد کو پہنچ جاتا ہے تو اُسے بڑی حد تک وقت کی اہمیت کا احساس ہوا چلا جاتا ہے ۔ جہاں توجہ ، قرابت داریاں ، تعلقات ، محبتیں ، فکری ارتقاء، اسکے عقل و فہم اور تجربے و مشاہدے پروان چڑھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ وقت کی اہمیت اس پر واضع ہوجاتی ہے۔
مولاعلی علیہ السلام فرماتے ہیں
غم آدھا بڑھاپا ہے ۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر افرا د کی متوقع عمر اٹھاون سال ہے۔اس کا مطلب ہے کہ عمر کے حساب سے تو پاکستان میں بڑھاپا آنے سے پہلے ہی لوگ مر جاتے ہیں۔
اور اگر درد و غم، مسائل و مصائب ،خوراک و صحت کے حوالے سے بڑھاپے تو اکثر بڑھاپے کی پیمائش کی جائے تو پاکستان میں بچے بھی بوڑھے ہی ہوتے ہیں۔
عمر رسیدہ افراد کے بھی جب قوی مضمحل ہو جاتے ہیں اور عناصر بے اعتدال ہو جاتے ہیں تو ضعیفی جرم بن جاتا ہے۔
جہاں معاشی
آسودگی ہے وہاں مسائل کم ہیں لیکن انکی تعداد بہت کم ہے
یہاں پاکستان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بڑا ذکر کیا جاتا ہے۔انھوں نے اپنی مسلم اور غیر مسلم رعایا کے عمر رسیدہ افراد کے لیے ایک وظیفہ مقرر کیا تھا اور اس طرح کے وظائف ترقی یافتہ دنیا میں رائج ہیں جن سے عمر رسیدہ افراد کی زندگی کا معیار کافی بلند ہو گیا ہے۔لیکن جیسے سیٹی بجانے سے بجلی نہیں آتی،ویسے ان کا ذکر کرنے سے عمر
رسیدہ افراد کی زندگی بہتر نہیں ہو گی۔ پاکستان
میں
معیشت، معاشرت اور سیاست اس وقت تک بہتر نہیں ہوتی جب تک شہری ریاست کی ترجیح نہیں بن جاتا اور پاکستان میں شہری ریاست کی اولین ترجیح نہیں ہے۔
جہاں تک قرابت دارویوں اور سماجی ومعاشرتی تعلقات کا تعلق ہے تو یہ بھی آسودگی کے ساتھ جڑی ہے ۔بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس حوالے سے اپنا کردار کس طرح ادا کرتے ہیں ۔
 
تجرباتی محدودیت کا تعلق پیمائشی آلات کی پیمائش کی حد سے ہے۔
جب ہم کسی آلے سے پیمائش کرنے لگتے ہیں تو پہلے اس میں زیرو ایرر یا پھر اس کی پیمائش کی حدود اور غلطی کے امکانات پر غور تو کرتے ہیں۔ کیا ہمیں پھر بھی آنے والے نتائج پر انسانی علم کی محدودیت کے باعث اس قدر شکوک رکھنے چاہئیں کہ ہم حقیقت کے قریب تر کبھی نہ پہنچ پائیں گے اس لیے جستجو کی اس راہ پر ہی نہ چلیں؟
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت وہ ہے جس تک حواس خمسہ سے پہنچا نہیں جا سکتا یا حقیقیت وہ ہے جو حواس خمسہ سے درجہ بدرجہ مدرک ہو پائے؟
اگر یہ سوال حقیقت کائنات کے متعلق ہے تو اُس کی حقیقت معلوم کرنے کا دائرہ انسان کی تجزیاتی و کمپوٹیشن و تجرباتی لمٹ تک محدود ہے۔

اگر یہ سوال خالق کائنات کے متعلق ہے تو ذات باری تعالی کی حقیقت کے بارے میں جستجو سے منع کیا گیا ہے ،
خالق کائنات کی معرفت اس کے اسما و صفات تک حاصل ہو سکتی ہے اور اس کا تحمل بھی آسان نہیں ہے۔
اس معرفت کا تعلق لطائف سے ہے۔ مزید جاننے کی سچی طلب ہو تو اس فیلڈ کے کسی استاد سے رجوع فرمائیں۔

جب ہم کسی آلے سے پیمائش کرنے لگتے ہیں تو پہلے اس میں زیرو ایرر یا پھر اس کی پیمائش کی حدود اور غلطی کے امکانات پر غور تو کرتے ہیں۔ کیا ہمیں پھر بھی آنے والے نتائج پر اس قدر شکوک رکھنے چاہئیں کہ ہم حقیقت کے قریب تر کبھی نہ پہنچ پائیں گے

اس لیے جستجو کی اس راہ پر ہی نہ چلیں؟
یہ کس نے کب کہا؟

جستجو کی راہ پر چلیں اور زیادہ گہرائی میں جائیں کوانٹم سطح پر اور معلوم کریں کہ ان سرٹینیٹی پرنسپل ہمیں کیسے محدود کرتا ہے۔
مزید :
can we measure beyond Planck length?
 
آخری تدوین:
ایک بنیاد آپ کی ویلیوز ہیں۔ اکثر لوگ اسے مذہب سے ملاتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں۔ پھر تجسس بھی اس میں شامل ہے۔ مذہب یا سپرنیچرل قوتوں کا ہمارے مائنڈ اور ایوولیوشن سے کیا اور کتنا تعلق ہے اس پر بھی کتب لکھی گئی ہیں۔
کیا ویلیوز کا تعلق کنڈیشننگ سے ہوتا ہے یا ہمارے اندر پڑا ہوا بیج ہماری ویلیوز کوفطرتا الگ الگ پروان چڑھاتا ہے؟
 
معلوم نہیں کہ اس کا تعلق عمر سے ہے یا کسی اور چیز سے۔ صحیح طور تو میں بوڑھا نہیں ہوا لیکن مصروفیات بڑھ گئی ہیں اور ترجیحات میں تبدیلی آئی ہے
کیا ایسا ہے کہ ہم صرف مادی طور پر عمر رسیدہ ہوتے جاتے ہیں مگر ہماری روح کو کتنی عمر زمین پر گزر گئی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟
 
میرا خیال ہے کہ آپ سوال پر سوال کر رہیں ہیں کہ آپ کے پچھلے سوالوں کے جوابات ہنوز مکمل نہیں ہوئے ہیں ۔یا پھر اس لڑی کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ بس جہاں سے شروع ہونا ہو ۔ شروع ہوجاوٗ۔ :D :D
میں پہلا سوال ہی اب تک ڈھونڈ رہا ہوں ۔ :idontknow:
کیا آپ کو پہلا سوال ملا؟ اور کیا کسی سوال کا جواب کبھی مکمل ہو سکتا ہے؟
 
وقت گذرنے کیساتھ اسے اس بات کا بھی ادراک ہوجاتا ہے کہ مال و جاہ سے زیادہ معافی ، محبت اور خلوص اہم ہے ۔پھروہ رشتوں میں بہتری کا خواہ ہوجاتا ہے ۔
کیا کوئی انسان جس نے زندگی بھر رشتوں میں بہتری ہی کمائی ہو اس کو بھی وقت گزرنے کے بعد یہی احساس ہوگا یا وہ سوچےگا کہ مال کچھ کما لیتا تو آج کچھ بہتر حالوں میں ہوتا اور پیچھے رہنے والوں کو چھوڑ کر جاتا؟ یعنی کیا وقت گزرنے کے ساتھ انسان پہ اس چیز کی اہمیت کا ادراک ہوتا ہے جو اس سے چھوٹ چکی ہوتی ہے یا نہیں؟
 

الف نظامی

لائبریرین
ہر چوائس کے consequences تو ہوتے ہیں۔ تو پہلے سوال پر ہی علم کی محدودیت پر قائل ہونے کے consequences کیا ہوا کرتے ہیں؟
نہیں ہم نے تو کہیں قدغن نہیں لگائی آپ جو دل چاہے کیجیے
آپ کی زندگی ، آپ کی چوائسز۔ جو دل آئے کیجیے۔
:)
 
انسان کا علم ہمیشہ probabilistic ہوتا ہے نہ کہ قطعی ۔ ہماری عقل ہمارے مشاہدے ، تجربات اور معلومات سے استفادہ کرتی ہے ۔ اور مکمل علم کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے ۔آج ہم دنیا کو بھی اس کے ماڈلیز میں دیکھتے ہیں ۔ یہ ماڈلز آئن اسٹائن کے بھی ہوسکتے ہیں اور نیوٹن کے بھی ۔ جو کہ بہتر اندازے ہیں ۔ مگر قطعی نہیں ہیں ۔ لہذا کسی قطعی علم یا یوں کہہ لیں کہ absolute- truth تک نہ پہنچ جانا کوئی کمزوری نہیں ہے بلکہ یہ ایک فطری دائرہ ہے ۔ اور سچ تو یہ ہے کہ فکری ارتقاء less- wrong سے ہی ممکن ہے ۔ فکری ، سائنسی اور سماجی ترقیاں ہمیشہ غلطیوں کی اصلاح سے ہی ممکن ہوتیں ہیں ۔ پرانے نظریے بھی اس فورمولے کے تحت رد کیئے جاتے ہیں اور نئے نظریوں کو جگہ ملتی ہے ۔ یہ عمل سائنس اور مذہب میں بھی اسی طرح عمل پیرا ہوتا ہے ۔ less- wrong میں کوئی قباحت نہیں ہے ہاں البتہ اگر انسان اپنی غلطی تسلیم نہ کرے ، اپنے سیکھنے کا عمل ترک کردے اور اپنی رائے کو قطعی حق سمجھے تو قباحت یہاں پیدا ہوتی ہے ۔
ہر فیصلہ ، ہر قانون اور کوئی بھی سائنسی کلیہ اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک اس پر کوئی قوی دلیل نہ آجائے ۔یعنی ہم زندگی "best -available -understanding" پر گزارتے ہیں اور اسی میں ترقی ہے۔
مطلق علم کی عدم دستیابی کے باوجود "کم غلط" ہوتے جانا،انسانی شعور، فکری دیانت، اور عقلی ارتقاء کی علامت ہے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ یہی عقلی سفر کا حقیقی رخ ہے۔
میرا تیسرا سوال: Less-wrong ہونے سے شاید سب سے پہلا احساس یہی ہوتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ پھر وہ لوگ جو فرسودہ معاشرتی اقدار پر ایقان کی حد تک کاربند ہوتے ہیں ان کے ساتھ کیسے چلا جائے یا سقراط کی طرح زہر پینا اور انبیاء کی طرح شہر بدر یا قتل ہونا ہی ہر less-wrong کا absolute-right-in-their-mind کی طرف سے مقدر ہے؟
 

الف نظامی

لائبریرین
میرا تیسرا سوال: Less-wrong ہونے سے شاید سب سے پہلا احساس یہی ہوتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ پھر وہ لوگ جو فرسودہ معاشرتی اقدار پر ایقان کی حد تک کاربند ہوتے ہیں ان کے ساتھ کیسے چلا جائے یا سقراط کی طرح زہر پینا اور انبیاء کی طرح شہر بدر یا قتل ہونا ہی ہر less-wrong کا absolute-right-in-their-mind کی طرف سے مقدر ہے؟
اگر دنیا میں سب انسانوں کے فہم کا درجہ یکساں ہوتا تو کوئی اختلاف نہ ہوتا۔ عالم کے علم کی زکوۃ یہی ہے کہ وہ کم علم کو برداشت کرے۔
 
الْعَجْزُ عَنْ دَرْكِ الْإِدْرَاكِ إِدْرَاكٌ
اصل ادراک، عدم ادراک کا ادراک ہے۔
یعنی یہ جان لینا کہ میں نہیں جانتا، یہ جان لینا کہ اس حقیقت علیا (ultimate truth) تک میں نہیں پہنچ سکتا، یہ جان لینا کہ اس کو سمجھنا میری ذاتی استعداد سے باہر ہے۔ جب انسان اس
مقام پر پہنچ جاتا ہے تو یہی اصل علم ہے۔
میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا، کیا یہ سارے پروسیس سے گزرنے کے بعد زیادہ مفید ہے یا ایک بچے کا پہلے روز اس پر یقین کرنا؟ اگر سب ایک جتنے لا علم ہیں کیونکہ وہ نہیں جان سکتے تو پھر علم والے اور بے علم کا برابر نہ ہونا کیوں کہا گیا؟
 

الف نظامی

لائبریرین
سٹیفن ہاکنگ اپنی کتاب دی یونیورس ان نٹ شیل اردو ترجمہ از یاسر جواد ، ناشر مقتدرہ قومی زبان ،صفحہ 107 میں لکھتا ہے:
ہم یہ فرض بھی نہیں کر سکتے کہ پاریٹیکل ایک پوزیشن اور ولاسٹی رکھتا ہے جو خدا کو معلوم ہیں ، لیکن ہم سے مخفی ہیں۔
اس قسم کی مخفی ویری ایبلز والی تھیوریز ایسے نتائج کی پیش گوئی کرتی ہیں جو مشاہدے کے ساتھ متفق نہیں۔ حتی کہ خدا بھی اصولِ لاقطعیت (Uncertainty principle)کے باعث بندھا ہوا ہے اور پوزیشن اور ولاسٹی نہیں جان سکتا ، وہ صرف ویو فنکشن ہی جان سکتا ہے۔

---
تبصرہ: ہم کہتے تھے کہ انسان کی تجزیاتی ، تجرباتی اور کمپوٹیشنل صلاحیتوں کی حد ہے اور سٹیفن ہاکنگ صاحب نے تو نعوذ باللہ خدا کو بھی محدود کر دیا۔
 

الف نظامی

لائبریرین
میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا، کیا یہ سارے پروسیس سے گزرنے کے بعد زیادہ مفید ہے یا ایک بچے کا پہلے روز اس پر یقین کرنا؟
طبیعاتی امور کے بارے پروسیس سے گزرنے کے بعد۔

اور مابعد الطبیعاتی امور میں ایمان بالغیب یعنی ماننے کے لیے جاننا ضروری نہیں۔ جاننے کے لیے ماننا ضروری ہے۔
 
Top