جنات انسان پر قابض ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟

ناصر رانا

محفلین
پہلے ان کے انٹرنیٹ کا وجود تو ثابت ہو جائے۔
کون جانے انہیں اس کی احتیاج ہے بھی کہ نہیں۔
آپ چونکہ عقل انسانی سے سوچتے ہیں جو کہ محدود ہے لہٰذا آپ کی اپروچ بھی محدود ہی رہے گی تاوقتیکہ سائنس اپنے تجربات سے اسے ثابت نہ کر دے۔
اب چاہے ایسا تب ہو جب آپ اور ہم موجود نہ ہوں یا اب تب میں ہوجائے۔
ہم جن پر ایمان رکھتے ہیں اس پر سوچنے کی زحمت سے مبرا ہیں۔ جنات کا وجود چونکہ قران سے ثابت ہے تو اب ہمیں سائنس کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں۔
 

نور وجدان

لائبریرین
آپ لیجئے ۔۔۔۔۔۔میں نے دن کا وقت تو اس جگہ اکیلے گزارا ہے ۔۔۔۔۔۔مجھے پڑھنا ہوتا تھا تو یہ جگہ سنسان ہوتی تھی اور خاموشی بھی میں یہاں بیٹھ کر دن اور شام کیا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دن میری چچی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔بیٹی ویسے ہی خوبصورت ہے اس پر تو فورا جن نے چمڑ جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سفید رنگت ہے ۔۔۔اس کو اوپر نہ بیٹھنے دیا کرو۔۔۔۔۔۔مجال جو ہم ان کی سنیں ۔۔۔۔۔اسی کمرے میں اندھیرے کے ساتھ بھی بیٹھی رہا کرتی جب لائٹ جاتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید یقین ۔۔۔۔۔ اس کی قوت ڈرنے نہیں دیتی :D:D

کیا جن صرف سفید فام پر آتے ہیں؟

یہاں پر کوئی آباد نہیں ہوسکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اس گھر کو ری کنسٹرکٹ 1973 میں کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی آباد نہیں ہو پایا۔۔۔۔۔ رات کا وقت کٹھن ہوتا ۔مزے کی بات ہے یہاں کے بلب اور ٹیوب لائٹس خود ہی بند ہوجاتے جیسے ہی ہم لگاتے ۔۔۔ اب یہ بھی تو اتفاق ہے اجتماعی کہ وہاں پر سیڑھیوں سے وزن اور ٹانگوں کے پہیہوں کو گھسیٹنے کی آواز آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی عامل نے بتایا ۔۔۔۔۔یہاں جنات کی قسم چوڑے رہتے ہیں اور ان کے پورے قبیلے آباد ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔جانے کون سے چوڑے ۔۔۔

مجھے نہیں پتا کیونکہ میں اس کے پاس نہیں تھی ۔مجھے اپنے بڑوں سے خبر ملی تھی ۔۔۔۔۔۔پھر رابطہ نہیں ہوا میرا۔۔۔۔۔۔


کن معانی میں استعمال کیا عامل نے یہ لفظ؟


جن سے پھر رابطہ نہیں ہوا؟

میں نے ایک بات بتائی تھی جس سے آپ نے خود سے مفروضہ باندھا کہ میری جن سے ملاقات ہوئی ہے ۔یہاں سے آپ کو کہاں لگا ہے کہ میرا رابطہ کسی جن سے ہوا ہے ؟
 

arifkarim

معطل
آپ چونکہ عقل انسانی سے سوچتے ہیں جو کہ محدود ہے لہٰذا آپ کی اپروچ بھی محدود ہی رہے گی تاوقتیکہ سائنس اپنے تجربات سے اسے ثابت نہ کر دے۔
تو کیا دین و مذہب کے بارہ میں سوچنے کیلئے وہی "محدود" عقل انسانی استعمال نہیں ہوتی؟ یا یہاں جنات و مؤکلات کو زحمت دینی پڑتی ہے؟

ہم جن پر ایمان رکھتے ہیں اس پر سوچنے کی زحمت سے مبرا ہیں۔ جنات کا وجود چونکہ قران سے ثابت ہے تو اب ہمیں سائنس کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں۔
ایمان لانے کا یہ مطلب کیسے نکلا کہ عقل و منطق کے تمام دروازے اپنے پر بند کر لئے جائیں؟
 

زیک

مسافر
میں نے ایک بات بتائی تھی جس سے آپ نے خود سے مفروضہ باندھا کہ میری جن سے ملاقات ہوئی ہے ۔یہاں سے آپ کو کہاں لگا ہے کہ میرا رابطہ کسی جن سے ہوا ہے ؟
یہی تو پوچھا تھا کہ کس سے پھر رابطہ نہیں ہوا؟ جن سے؟ بڑوں سے؟ عامل سے؟
 

فاتح

لائبریرین
سمجھ نہیں آتا کہ جن ہی کیوں قابض ہوتے ہیں۔۔۔ پری کیوں نہیں ہوتی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔

نہ تو جن رہا نہ پری رہی، جو رہی سو بے خبری رہی :ڈ :ڈ
امین بھائی، یہ سراسر دھوکا ہے۔ یہی سوال میرے ذہن میں آیا ابھی اس لڑی کو پڑھ کر لیکن آپ میرے ذہن کا سوال میرے ذہن میں آنے سے پہلے ہی چرا چکے تھے۔
سب فراڈیے ہیں جنات پکڑنے والے۔ جنات پکڑنے کے چکر میں لڑکیوں کو پکڑ رہے ہوتے ہیں۔ پیسا بھی ملتا ہے اور مزے بھی۔ ;)
 

arifkarim

معطل
امین بھائی، یہ سراسر دھوکا ہے۔ یہی سوال میرے ذہن میں آیا ابھی اس لڑی کو پڑھ کر لیکن آپ میرے ذہن کا سوال میرے ذہن میں آنے سے پہلے ہی چرا چکے تھے۔
سب فراڈیے ہیں جنات پکڑنے والے۔ جنات پکڑنے کے چکر میں لڑکیوں کو پکڑ رہے ہوتے ہیں۔ پیسا بھی ملتا ہے اور مزے بھی۔ ;)
ہم جنس جنات مسلمان ہو چکے ہیں :)
 

ناصر رانا

محفلین
کس کو ریٹنگ دے رہے ہیں؟
آپ کو۔ (میں کسی طور بھی کسی کو منفی ریٹنگ نہیں دے سکتا)
تو کیا دین و مذہب کے بارہ میں سوچنے کیلئے وہی "محدود" عقل انسانی استعمال نہیں ہوتی؟ یا یہاں جنات و مؤکلات کو زحمت دینی پڑتی ہے؟
ایمان لانے کا یہ مطلب کیسے نکلا کہ عقل و منطق کے تمام دروازے اپنے پر بند کر لئے جائیں؟
دیکھیے پیارے بھائی عارف اور زکریا بھائی، آپ لوگ ترقی یافتہ ممالک میں رہتے ہیں اور بہت زیادہ صاحب علم ہیں۔
میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا کہ دین اسلام سوچنے، غور و فکر کرنے یا عقل و منطق کے استعمال سے منع کرتا ہے، بلکہ دین اسلام جتنا علم حاصل کرنے پر زور دیتا ہے اتنا کوئی بھی مذہب نہیں کہتا۔ بلکہ دین تو چیلنج بھی کرتا ہے کہ اپنی عقل استعمال کرو اور خود ہی پرکھ لو کہ کیا ٹھیک ہے کیا غلط۔
میں نے محدود عقل کا استعارہ اس زمرے میں لیا تھا کہ سائنس محدود ہے اپنے ارتقاء تک، جوں جوں ہمارا علم بڑھتا جاتا ہے ہم پر عرفان و ادراک ہوتا ہے یا یوں کہیں کہ ہم سائنسی ترقی حاصل کرتے ہیں، مرحلہ وار علم کے مدارج طے کرتے ہیں۔ اور ایمان کا تقاضا ہے کہ جب قران کہتا ہے کہ جنات کا وجود ہے تو بس ہے، چاہے سائنس ابھی اس مرحلے پر نہ پہنچی ہو کہ جنات کے وجود یا عدم وجود کو ثابت کر سکے یا ابھی پیرا نارمل ایکٹیویٹیز کے نام پر ابتدائی مدارج طے کر رہی ہو۔ لہٰذا فی الواقع ہم اس زحمت سے مبرا ہیں کہ جن کے وجود یا عدم وجود پر بحث کریں، علاوہ ازیں سائنس بات کرتی ہے شہادت کی تجربات کی اور منطقی استدلال کی۔ بیشر سائنسی ریسرچ کا آغاز ہوتا ہے قیاس سے اور قریب ترین مفروضوں پر تجربات کر کے محصول نتائج کی اوسط پر اختتام ہوتا ہے۔
پتا نہیں میں اپنا مطمع نظر کس حد تک سمجھا سکا ہوں۔ فی الحال اتنا ہی۔
 
آخری تدوین:

یوسف سلطان

محفلین
یعنی جنوں میں بھی ذات پات کا مکمل انتظام ہے۔
اگر دیکھا جائے تو لفظ "جن " کے معنی لغت میں پوشیدگی اور محفی کے ہیں ۔ اور قرآن پاک میں لفظ "جن " بائیس بار آیا ہے
زکریا بھائی یہ حقیقت ہے کے جن بھی ہوتے ہیں اور ان کی نسل بھی ہوتی ہے اوران میں بعض مسلمان ہوتے ہیں اور بعض کافر ۔ اور اس کے علاوہ قرآن پاک میں پوری اک سورہ بھی ہے "سورہ جن " جن کی کچھ آیات کا اوپر نایاب انکل ذکر کر بھی چکے ہیں ۔
اور ءکرام فرماتے ہیں ،کہ جنات بھی انسانوں کی طرح اک مخلوق ہے اور یہ بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں ۔ جیسا کہ
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
(الذَّارِيَات ، 51 : 56)
اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔

جنوں کا وجود کب سے ہے
ایسی طرح اک اور جگہ پہ ارشاد فرمایا

وَالْجَآنَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ
الحجر 27
اور جنات کو اس سے پہلے کہ وہ گرم ہوئے تھے پیدا کر چکے تھے۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے پیدا کیے گئے تھے۔
ان کی آبادی کتنی ہے
معلوم نہیں مگر یہ پڑھ رکھا ہے کہ ان میں توالد و تناسل بھی ہوتا ہے یعنی انسانوں کی طرح ، ان کی بھی نسل بڑھتی اور پھولتی پھلتی ہے ، کھاتے پیتے ، جیتے مرتے ، مگر ان کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں
دنیا کے کس کس خطے میں رہتے ہیں؟ کس کس مذہب کے پیروکار ہیں
یہ جن و شیاطین صرف روئے زمین پر ہی اپنے مذموم عزائم برپا کرسکتے ہیں ۔ آسمانی دنیا پر ان کا داخلہ ممنوع ہے۔ اگر وہ ملائکہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہونے والی گفت و شنیدکی ٹوہ میں جائیںگے تو ان پر ستاروں کی مار لگائی جاتی ہے او ر وہ زمین کی طرف چیختے چلاتے واپس آجاتے ہیں ۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے۔ ترجمہ: ’’ یقینا ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور دیکھنے والوں کے لیے اسے سجا دیا ہے اور اسے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھاہے۔ ہاں! مگر جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرے، اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگتا ہے‘‘۔ (سورہ الحجر آیات 16تا18)
س آیۂ مبارکہ میں دو الفاظ رجیم اور مردود آئے ہیں ۔ رجیم کے معنیٰ سنگسار کرنے کے ہیں۔ شیطان کو رجیم اس لئے بھی کہا گیا ہے کہ جب یہ آسمانوں پر جانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب برسائے جاتے ہیں۔ اس سے کچھ شیاطین تو اسی وقت جل مرتے ہیں اور جو بچ کر آتے ہیں وہ نجومیوں اور کاہنوں سے مل کر شرارت کرتے ہیں (تفصیل کے لیے صحیح بخاری و تفسیر سورہ الحجر دیکھئے)
جنات میں جہاں بد طینت قسم کا گروہ تھا وہاں اچھے نیک اور بزرگ گروہ بھی تھے۔ وہ اپنی ذات سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ ان میں ہدایت حاصل کرنے کا عزم اور ولولہ تھا جس کی اولین مثال حضرت سلیمان ؑ کی ہے جن کے تابع فرمان رہ کر وہ مشکل سے مشکل امور سرانجام دیتے رہتے تھے۔ دوسری مثال نبی اکرمﷺ کے دور نبوت کی ہے جب جنات نے نبی اکرم ﷺ سے قرآن حکیم سنا تھا۔ اس گروہ نے جہاں آپؐ کی زیارت کا شرف حاصل کیا وہاں اپنی سماعت کو بھی منور کیا اور پھر اپنے قبیلے یا خاندان میں جاکر بڑی حیرت و استعجاب کے ساتھ اس واقعے کو سنایا۔
یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں پیش آیا جہاں آپؐ صحابہ کرام ؓ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جنوں کو تجسس تھا کہ آسمان پر ہم پر بہت زیادہ سختی کردی گئی ہے اور اب ہمارا وہاں جانا تقریباً نا ممکن بنا دیا گیاہے، کوئی بہت اہم واقعہ رونما ہوا ہے جس کی بناء پر ایسا ہوا ہے۔ چناںچہ مشرق و مغرب کے مختلف اطراف میں جنوں کی ٹولیاں واقعے کا سراغ لگا نے کیلئے پھیل گئیں۔ انہی میں سے ایک ٹولی نے یہ قرآن سنا اور یہ بات سمجھ لی کہ نبی ؐ کی بعثت کا یہ واقعہ ہی ہم پر آسمان کی بندش کا سبب ہے اور جنوں کی یہ ٹولی آپؐ پر ایمان لے آئی اور جا کر اپنی قوم کو بھی بتلایا ۔(صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ )
۔


(والله عالم بالصواب)
یہ جو کچھ اوپر ہے صرف معلومات میں اضافہ کے لئے ہے ۔ اب ماننا نہ ماننا اپ کے اختیار میں ہے ۔
اور زکریا بھائی معافی چاہتا ہوں اس بات کے لئے بھی کہ اپ ناصر بھائی سے مخطاب تھے ان سوالات کے لئے ،اور اس کے علاوہ بھی۔کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت ۔
(یہ علیحدہ بات کے میرے ساتھ کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا)مگر میرا اک دوست ہے اس کے گھر میں یہ ہو چکا ہے ۔





 
آخری تدوین:
میری عمر تقریباً 9 سال کی تھی تب ہمارے گھر میں چوری ہو گئی تقریباً اب یہ تو یاد نہیں کتنے پیسوں کی چوری ہوئی تھی بس اتنا یاد ہے چوری ہوئی تھی اور جس پر شک کیا جا رہا تھا وہ ہمارے گھر میں کام کرنے والی ماسی تھی
خیر امی کو کسی عورت نے بتایا ایک عامل بابا جی ہیں جو چور کا بتا سکتے ہیں ایک دو چوریوں کے حوالے دے کر کہا کہ وہ فلاں کی چوری پکڑی گئی تھی وہ فلاں کے گھر چوری ہوئی وہ بھی پکڑی گئی تھی بابا جی کی وجہ سے امی نے ابو سے بات کی تو ابو نے کہا بلاو کر دیکھ لو خیر امی نے اس عورت کی وساطت سے بابا جی کو بلوا لیا ہماری ایک خالہ کے جو عمرہ کر کے آئی تھی ان کے تقریباً 3 ہزار ریال چوری ہوئے تھے وہ بھی آ گئی۔۔

اب بابا جی آگئے اور ڈرائنگ روم میں بیڈ کے اوپر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے بابا جی کا طریقہ واردات کچھ ایسا تھا کہ ان کو ایک دس سال سے چھوٹے بچے کی ضرورت تھی جس کو اپنے سامنے بیٹھا کر حاضری لگا سکیں خیر پہلے میرے چھوٹے بھائی کو بولا کے بیٹا سامنے آ کر بیٹھ جاو ہم سب بہن بھائی اور اور خالہ وغیرہ سب ڈرائنگ روم میں آ گئے تا کہ جن دیکھ سکیں مجھے تو بابا جی بھی کو جن کے خاندان سے ہی لگ رہے تھے کالا سیاہ چہرہ اور بے ترتیب داڑھی تھی ایک دم کسی بندے کے سامنے آ جائیں تو آگلا بند ایک دفعہ تو ڈر جائے۔ خیر پہلے چھوٹے بھائی کو بولا بیٹا ڈر تو نہیں جاو گئے چھوٹا بھائی بولا نہیں ڈروں گا خیر بابا جی نے چھوٹے بھائی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور تھوڑی خوشبو وغیرہ چھوٹے کے کپڑوں پر لگا دی اور کچھ پڑھ کر چھوٹے پر پھونکیں مارنا شروع کر دی تھوڑی دیر کے بعد بولے کچھ نظر آ رہا ہے نہیں بھاری سی آواز کے ساتھ بول رہے تھے بابا جی اپنی بات پھر سے دوہراتے رہے کوئی پانچ یاں چھ بار دہرانے کے چھوٹا بولا ایک بندہ نظر آ رہا ہے بابا بولا پوچھ کیا تم سلیمان ہو چھوٹے نے بھی یہی سوال دہرایا اور جواب دیا ہاں میں سلیمان ہوں پھر خیر بابے نے چوری کے متعلق سوالات کرنا شروع کر دیے اور چھوٹے نے بھی چوری کا سارا الزام کام والی ماسی کو دے دیا اور سلیمان جو چھوٹے بھائی کو نظر آیا تھا ان سے اجازت لے کر چھوٹے بھائی والی نشست ختم ہو گئی۔۔
اب خالہ نے اپنی چوری کے متعلق بات کی بابا جی سے تو بابا جی نے کہا اب دوبارہ حاضری لگانا ہو گی بابا جی نے مجھے بلا لیا میں بھی جن دیکھنے کے شوق میں دوپٹہ وغیرہ لے کر بابا جی کے سامنے جا کر بیٹھ گئی بابا جی نے میرے ہاتھ پر کافی تیز قسم کا سینٹ لگا دیا اور بولے بیٹا اپنے کپڑوں پر لگا لو میں نے لگا لیا اب بابا جی نے میری آنکھوں پر بھی پٹی باندھ دی کافی ضرور سے پٹی اتنی زور سے تھی کی بابا جی کی پہلی ہی کوشش میں مجھے جن نظر آ گیا :rollingonthefloor: خیر مذاق ایک طرف کوئی جن نہیں تھا بس کافی زور سے پٹی باندھی ہونے کی وجہ سے کچھ خیالی عکس وغیرہ آنکھوں کے سامنے آ گئے اور بابے کے سوالات کا سلسلہ شروع ہو گیا چوری کے متعلق سوالے کرنے کو کہتے مجھے جن سے تو میں جیسے بابا جی بول دیتے ویسے ہی بول دیتی لیکن جواب کے معاملے میں خاموش رہتی کیوں کے سامنے کوئی ہوتا تو جواب ملتا آخر بابا جی کو کوئی خالہ کے سلسلے میں کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی بابا جی نے یہ بولے کہ لڑکی کی عمر زیادہ ہے اس لیے جوابات نہیں مل رہے :rollingonthefloor::rollingonthefloor:
شاید میں بابا جی کے پوری طرح ٹرانس میں نہیں آئی تھی :rollingonthefloor:
یاں شاید جن مجھ سے ڈر گیا تھا:rollingonthefloor:
 
Top