واصف جذبات زیرِ گردشِ حالات سو گئے- واصف علی واصفؒ

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 25, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    جذبات زیرِ گردشِ حالات سو گئے
    چھائی گھٹا تو رندِ خرابات سو گئے

    منزل سے دور جاگتی سوچیں تھیں ذہن میں
    منزل پہ آ گئے تو خیالات سو گئے

    تاروں نے ہم کو دیکھ کے شبنم سے یہ کہا
    یہ بدنصیب وقتِ مناجات سو گئے

    کیا دلگداز موسمِ گل کا تھا انتظار
    فصلِ بہار آئی تو نغمات سو گئے

    آنکھوں میں ہم نے کاٹ دی شامِ غمِ فراق
    آیا کوئی جو بہرِ ملاقات سو گئے

    اک خواب کے سوا ہے یہ ہستی تمام خواب
    آئی ہے جن کے ذہن میں یہ بات سو گئے

    آیا جو وقت معرکہِ حق و کفر کا!
    کیوں صاحبانِ کشف و کرامات سو گئے
    واصف علی واصفؒ
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 25, 2018
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,589
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    اک خواب کے سوا ہے یہ ہستی تمام خواب
    آئی ہے جن کے ذہن میں یہ بات سو گئے​
     
  3. ابن جمال

    ابن جمال محفلین

    مراسلے:
    468
    کیابات ہے
     

اس صفحے کی تشہیر