جدائی پہ اس کی نہ آنسو بہائے

الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
----------
جدائی پہ اس کی نہ آنسو بہائے
مگر بعد رخصت کے نکلی ہے ہائے
-----------
اسے یاد کرتا ہوں آنے بہانے
میں اب چاہتا ہو وہ پھر لوٹ آئے
----------
یہ دنیا ہے ساری سکھوں کی ہی ساتھی
مصیبت میں بنتے ہیں اپنے پرائے
--------
مرے گھر کی صورت مرا دل ہے ویراں
ترے بعد کوئی بھی آئے نہ جائے
----------
خبر میرے مرنے کی ان کو ہے لیکن
وہ میّت پہ میری ابھی تک نہ آئے
---------
جھکی ہیں نگاہیں ندامت سے ان کی
وہ آئے ہیں لیکن ہیں نظریں جھکائے
----------
جمی ہیں نگاہیں تری ان پہ ارشد
مگر تیری نظریں نہ وہ دیکھ پائے
-------
 
جدائی پہ اس کی نہ آنسو بہائے
مگر بعد رخصت کے نکلی ہے ہائے
کون جدائی پر آنسونہ بہائے یا کس نے
اُس کی جدائی میں آنسو نہ بہائے؟
اور کس کے(منہ سے) ہائے برآمد ہوئی ؟

اسے یاد کرتا ہوں آنے بہانے
میں اب چاہتا ہو وہ پھر لوٹ آئے
توپہلے کیا چاہتے تھے کہ وہ چلاجائے
تاکہ آنے بہانے یاد کرنے کا موقع
ہاتھ آئے۔شعرسے کچھ اِس طرح کا
مفہوم نکل رہا ہے۔

یہ دنیا ہے ساری سکھوں کی ہی ساتھی
مصیبت میں بنتے ہیں اپنے پرائے
دنیا کے رویے پر یہاں طنز و تنقید کی بجائے
تعریف و توصیف کا پہلو نکل رہا ہے یعنی دنیا
سکھ کی ساتھی ہے اور مصیبت میں بھی پرائے
اپنے بن جاتے ہیں،واہ اگر ایسا ہوتو کیا بات
ہے ۔ مطلب یہ ہے ارشد صاحب کہ شعر میں
الفاظ کے درو بست میں کسر رہ جانے سے

ابہام کو سراٹھانے کاموقع ملا ہے الفاظ کی
نشستیں دُرست کرلینے سےیہ عیب دور ہو
جائے گاجیسے:
یہ دنیا ہے ساری سکھوں کی ہی ساتھی
مگر دکھ میں اپنے بھی ہیں اب پرائے


مرے گھر کی صورت مرا دل ہے ویراں
ترے بعد کوئی بھی آئے نہ جائے
مرے گھر کی صورت ہے دل بھی یہ ویراں
ترے بعد کوئی یاں آئے نہ جائے

خبر میرے مرنے کی ان کو ہے لیکن
وہ میّت پہ میری ابھی تک نہ آئے
خبر میرے مرنے کی پہنچی اُنھیں بھی
جنازے میں دیکھو مگر وہ نہ آئے

جھکی ہیں نگاہیں ندامت سے ان کی
وہ آئے ہیں لیکن ہیں نظریں جھکائے
پہلے مصرعے میں ندامت کی وجہ ظاہر ہو تو
دوسرے میں کہہ سکتے ہیں:
وہ آئے مگر آئے ہیں سرجھکائے

جمی ہیں نگاہیں تری ان پہ ارشد
مگر تیری نظریں نہ وہ دیکھ پائے
جمی ہیں نگاہیں تو ان پر ہی ارشد
مگر میری آنکھیں نہ وہ دیکھ پائے
 
آخری تدوین:
ایک ممکنہ صورت :

۔۔۔۔۔غزل
جُدا ہو تے اُن سے کب آنسو بہائے
مگر پھر جو روئے ،ہیں پوچھو نہ ہائے
۔۔۔اُنھیں یاد کرتے ہیں آنے ،بہانے
۔۔۔گیا وقت اے کاش پھر لوٹ آئے
خوشی میں تو سب ساتھ مل کر ہیں چلتے
مگر د کھ میں تنہا ۔،ہر اک چھوڑ جائے
۔۔۔مرا دل مرا گھر ہیں دونوں ہی ویراں
۔۔۔ترے بعد کوئی یاں آئے نہ جائے
خبر میرے مرنے کی پہنچی اُنہیں بھی
مگر چل کے وہ دو قدم تک نہ آئے
۔۔۔مرا دل۔، دکھا کے ہیں وہ بھی پشیماں
۔۔۔جو بیٹھے ہیں محفل میں نظریں جھکائے
جمی تھیں نگاہیں اُنھیں پر اے ارؔشد
واں اُن کے سِوا ہم نہ کچھ دیکھ پائے
 
آخری تدوین:
آخری تدوین:
Top