1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جون ایلیا جانے کہاں گیا وہ، وہ جو ابھی یہاں تھا؟ - جون ایلیا

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 10, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,081
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    جانے کہاں گیا وہ، وہ جو ابھی یہاں تھا؟
    وہ جو ابھی یہاں تھا، وہ کون تھا، کہاں تھا؟

    تا لمحہ گزشتہ یہ جسم اور بہار آئے
    زندہ تھے رائیگاں میں، جو کچھ تھا رائیگاں تھا

    اب جس کی دید کا ہے سودا ہمارے سر میں
    وہ اپنی ہی نظر میں اپنا ہی اک سماں تھا

    کیا کیا نہ خون تھوکا میں اس گلی میں یارو
    سچ جاننا وہاں تو جو فن تھا رائیگاں تھا

    یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر؟
    تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا

    اس شہر کی حفاظت کرنی تھی جو ہم کو جس میں
    آندھی کی تھیں فصلیں اور گرد کا مکاں تھا

    تھی اک عجب فضا سی امکانِ خال و خد کی
    تھا اک عجب مصور اور وہ مرا گماں تھا

    عمریں گزر گئیں تھیں ہم کو یقیں سے بچھڑے
    اور لمحہ اک گماں کا، صدیوں میں بے اماں تھا

    میں ڈوبتا چلا گیا تاریکیوں کہ تہہ میں
    تہہ میں تھا اک دریچہ اور اس میں آسماں تھا​
    جون ایلیا
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر