جامی اور حافظ میں مماثلتیں - محمد علی عجمی

حسان خان

لائبریرین
مولانا عبدالرحمٰن جامی! یہ نام ہمیشہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ایسے مرد کو لاتا ہے جو ہمیشہ زہد کی حالت میں رہنے والا عارف، اور مسلسل سجدے کرتے رہنے والا شیخ ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ جس وقت اُن کے آثار کا بہ دقتِ تمام مطالعہ کیا جائے، تو ایسی کاملاً متفاوت چیزیں دیکھی جا سکتی ہیں کہ جو ان مردِ بزرگ کی ظاہری حالت سے شباہت نہیں رکھتیں۔ اس (ادبی) فضا اور حال و ہوا میں وہ مکمل طور پر ایک دوسرے ہی شخص ہیں، کہ جو کبھی مولانا رومی کے ہمراہ عشق کے آسمانوں تک جاتے ہیں، کبھی سعدی کے ہمراہ عشق کے سفر پر نکلتے ہیں، تو کبھی حافظِ رند کے ہمراہ عشق کے ساغر نوش فرماتے ہیں۔ ہرچند جامیِ بزرگ نے مولانا جلال الدین رومی اور شیخ سعدی کے مقام کو نیز نظر میں رکھا ہے، لیکن اُنہوں نے ان دو شاعروں سے زیادہ حافظِ رند کی جانب ارادت ظاہر کی ہے۔ ان تینوں بزرگ مردوں کا چہرہ عبدالرحمٰن جامی کے افکار کے پیچھے بہ شدت موجود ہے، اور یہ تین چہرے دیکھنے کے لیے، کہ جن سے جامی کو خاص محبت ہے، فکرِ جامی کے عمیق مطالعے کی ضرورت ہے۔ صرف اسی صورت میں یہ درک کیا جا سکتا ہے کہ جامی کس قدر صمیمیت و اخلاص سے ان تین شاعرانِ بزرگ کے مفتون ہیں اور کس قدر وہ ان تینوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ بعض اوقات قاری تعجب کرنے لگتا ہے کہ ایسا -حافظ کے بقول- 'پاکیزہ سرشت' شخص کیسی رندیوں میں مشغول تھا، کہ جن کا ایسے کسی شخص کی نسبت باور کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ سب باتیں اس بات کی شاہد ہیں کہ مولانا عبدالرحمٰن جامی دین کو تنہا صورتِ ظاہر میں نہیں دیکھتے تھے، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ دینی رہنما خود کو باطن سے بھی صاف کر چکے ہوں اور ان شاعرِ بزرگ کے لیے باطنی تازگی ظاہری جلووں سے زیادہ اہم تھی۔ اسی مناسبت سے مزید تصویر کشی کے لیے میں جامی کی ایک غزل پیش کر رہا ہوں:
حریمِ منزلِ جانان برون ز عالمِ ماست
خوشا کسی که در این گفتگوی محرمِ ماست
ز بارِ غم قدِ ما حلقه گشت چون خاتم
به فرق سنگِ ملامت نگینِ خاتمِ ماست
جدا ز لاله‌رخان فرشِ سبزه را در باغ
بساطِ عیش مگو، کآن پلاسِ ماتمِ ماست
مزاجِ خسته‌دلان را به جز غمِ تو نساخت
علاجِ ما به غم اولیٰ، اگر ترا غمِ ماست
درازیِ شبِ ما را اگر ‌نمی‌دانی
ز ناله پرس که تا وقتِ صبح همدمِ ماست
طبیب ریشِ مرا دید و گفت: در جگری
که زخمِ عشق کند جا، چه جای مرهمِ ماست؟
به بزمِ ما سخن از جامِ جم مگو جامی
سفالِ میکده جام و گدای او جمِ ماست

اگر اس غزل سے حضرتِ جامی کا تخلص حذف ہو جائے تو اُس قاری کے ذہن میں، کہ جو حافظ کے اشعار سے مسلسل سر و کار رکھتا ہو، یہ خیال آئے گا کہ اس غزل کو اُس نے اِس سے پہلے دیوانِ حافظ میں کیوں نہیں دیکھا ہے۔ یقیناً، یہ غزل نہ صرف میکدہ، ساقی، جام، طبیب جیسے کلموں کے استعمال کی نظر سے حافظ کی کسی غزل کی یاد آوری کرتی ہے، بلکہ بیان و موسیقی کے لحاظ سے بھی خواجہ حافظ کی غزلوں سے عجیب شباہت رکھتی ہے۔ میں تقابل کے لیے صرف دو ابیات لانے پر اکتفا کر رہا ہوں۔
حافظ:
دی گفت طبیب از سرِ حسرت چو مرا دید
هیهات که رنجِ تو ز قانونِ شفا رفت

جامی:
طبیب ریشِ مرا دید و گفت: در جگری
که زخمِ عشق کند جا، چه جای مرهمِ ماست؟

ان دو اشعار میں بالاترین حرف عشق ہے۔ حافظِ رند بھی اور مولانا عبدالرحمٰن جامی بھی قاری کے لیے عشق کا مقام و مرتبہ اور انسانوں کی زندگی میں عشق کا اثر بیان کر رہے ہیں۔ اس قلمرو کے شاعروں کے آثار میں عشق گوناگوں شیووں سے شرح و معنی کیا جاتا ہے اور مختلف کنایوں کے پردوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ کبھی ان شاعروں کے اشعار میں عشق سے ذاتِ حق کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے اور کبھی محبت و رحمتِ خدا عشق کے پردے میں بیان ہوتی ہے۔ انہی مناسبتوں کی وجہ سے بعض دفعہ قاری نہیں جان پاتا کہ شعرِ شاعر میں عشق سے کون سا عشق مراد ہے اور شاعر کا مخاطًب کون سا عشق ہے۔ در ہر صورت، جیسا کہ اہلِ دل فرماتے ہیں، حافظ اور جامی جیسے شاعروں کے اشعار میں عشق آبِ حیات کا کنایہ ہے اور جو بھی اسے نوش کرتا ہے وہ جاودانگی تک پہنچ جاتا ہے۔ یہی عشق ہے جو انسان کو دوبارہ خالقِ یکتا کی دہلیز پر لا کھڑا کرتا ہے۔
حافظ:
هرچند غرقِ بحرِ گناهم ز صد جهت
تا آشنای عشق شدم، ز اهلِ رحمتم

جامی:
من که خدمت کرده‌ام رندانِ دُردآشام را
کی شمارم پخته وضعِ زاهدانِ خام را
تا شدم فارغ به استغنای عشق از هر مراد
بر مرادِ خویش یابم گردشِ ایام را

خواجہ حافظ کہتے ہیں کہ میرے جملہ گناہوں کے باوجود، جب میں عشق سے آشنا ہوا، تو رحمت سے بہرہ ور ہوا اور خداوند نے مجھے اہلِ رحمت کے درمیان ایک شائستہ جگہ عطا کی۔ جامی اسی مطلب کو دوسری نگاہ سے بیان کر رہے ہیں، یعنی عشق کی برکت سے میں رندانِ دُرد آشام کی خدمت میں پہنچ گیا اور میں نے زاہدانِ خام سے خلاصی پا لی۔ جب میں نے عشق کو دریافت کیا تو دنیا کی ہوسوں سے جدا ہو گیا اور عشق نے مجھے اپنی طرح بے نیاز کر دیا اور اب گردشِ ایام کو بھی میں اپنی مرادوں سے سازگار دیکھتا ہوں۔
اب ہم جامی اور حافظ کے اشعار میں موجود ہم رنگ الفاظ پر تقابلی نظر ڈالیں گے اور اس تقابل کو لفظِ 'پیر' سے آغاز کرتے ہیں۔ یہ لفظ خواجہ حافظ کے اشعار میں فراواں استعمال ہوا ہے اور اس کا لغوی معنی طریقت کا وہ پیرِ کامل ہے جو سالک کو سیر و سلوک میں رہنمائی کرتا ہے:
حافظ:
دوش از مسجد سوی میخانه آمد پیرِ ما
چیست یارانِ طریقت بعد از این تدبیرِ ما؟

مولانا عبدالرحمٰن جامی نے نیز اس لفظ کو بکثرت استعمال کیا ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
جامی:
پیرِ ما بگذاشت آخر شیوهٔ زهاد را
ساخت فرشِ میکده سجادهٔ ارشاد را

حافظِ بزرگ اپنے پیر کے مسجد سے میخانے کی طرف روگردانی کرنے کے عمل پر متعجب ہیں۔ وہ حیرت کی حالت ہی میں یارانِ طریقت سے پوچھتے ہیں کہ پیر کے اس عمل کے بعد ہماری تدبیر کیا ہونی چاہیے؟ حافظ نے اپنی حیرت کا سوال کی حدود میں خلاصہ کیا ہے۔ عبدالرحمٰن جامی اپنے شعر میں گویا خواجہ کے سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ جامی کا پیر بھی خواجہ کے پیر اُسی حرکت کی تکرار کرتا ہے اور حتیٰ وہ اپنے عمل میں حافظ کے پیر سے بھی چند گام آگے ہے۔ جامی کے پیر نے شیوۂ زہد کو کنارے پر کر دیا ہے اب سجادۂ ارشاد سے فرشِ میکدہ بنا رہا ہے۔ یہی ہم رنگی اور مماثلت ہے جس کی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ جامی کلامِ خواجہ سے سرمست ہیں اور اُنہوں نے حافظ کے سخن سے فیوض حاصل کیے ہیں۔ اسی حال و ہوا کا ایک اور شعر:
حافظ:
بندهٔ پیرِ خراباتم که لطفش دایم است
ورنه لطفِ شیخ و زاهد گاه هست و گاه نیست

جامی:
گر پیرِ ما نه دوش نهان جرعه‌ای زده‌است
در نرگسش خمارِ شرابِ شبانه چیست؟

دونوں شعروں میں پیر کی جانب ارادت و وفاداری کا اظہار کیا گیا ہے۔ حافظ اعلان کرتے ہیں کہ وہ بندۂ پیرِ خرابات ہیں، کیونکہ اُس کا لطف دائمی ہے، یعنی مہربان ہے اور کسی وقت بھی وہ اپنے مرید کے سر سے دستِ مہر نہیں اٹھاتا۔ لیکن زاہد کا لطف و محبت اُس کی اپنی خواہش کے مطابق ہوتا ہے۔ لہٰذا خواجہ کہتے ہیں کہ شیخ و زاہد کا لطف کبھی ہے اور کبھی نہیں ہے۔ ضمناً خواجہ پیر کی صداقت و وفاداری کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں، کہ جو مرید کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔عبدالرحمٰن جامی بھی پیر کی جانب اپنے صدق و اخلاص کی نشان دہی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگرچہ اُن کا پیر شبانہ میگساری سے آیا ہے اور اُس کی نرگسِ مخمور اُس کے حال کی گواہ ہے، اس کے باوجود مرید، یعنی حضرتِ جامی، اپنے پیر کو بہ نظرِ محبت و اخلاص دیکھ رہے ہیں۔
ترکیبِ 'پیرِ مغاں' بھی خواجہ کی پسندیدہ اصطلاحوں میں سے ہے اور شاعر کی غزلوں میں اس ترکیب کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ جامی نے بھی اس ترکیب کو استعمال کیا ہے، اور یہ حافظ کے عمل سے شباہتیں رکھتا ہے۔
حافظ:
به می سجاده رنگین کن، گرت پیرِ مغان گوید
که سالک بی‌خبر نبوَد ز راه و رسمِ منزل‌ها

جامی:
خواهیم به یک جرعه می از خویش خلاصی
از پیرِ مغان نیست جز این ملتمسِ ما

دوست کی درگاہ پر توبہ کا بیان تمام عارف شعراء کے شعروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خواجہ حافظ اور عبدالرحمٰن جامی نے بھی اس روش سے استفادہ کیا ہے، کہ اس میں بھی معنی و بیان کی نظر سے دونوں باہم مماثل ہیں۔
حافظ:
خندهٔ جام می و زلفِ گره‌گیرِ نگار
ای بسا توبه که چون توبهٔ حافظ بشکست

جامی:
بگذر از توبه و تقویٰ که همه پندار است
در پی مطرب و می باش که کار این کار است

حافظ:
به عزمِ توبه سحر گفتم استخاره کنم
بهارِ توبه‌شکن می‌رسد، چه چاره کنم؟

جامی:
بیا ساقی که امشب توبهٔ ما
ز می چون روزهٔ فردا حرام است

ساقی کا لفظ آیا، تو ذرا اس کا بھی ذکر کرتے چلیں۔ یہ لفظ بھی ان دو شاعرانِ بزرگ کے اشعار میں بکثرت نظر آتا ہے اور دونوں نے حالتِ وجد اور اپنی حالتِ روانی و روحانی کو ظاہر کرنے کے لیے اس لفظ سے بڑا بلیغ و بدیع استفادہ کیا ہے۔
حافظ:
بده ساقی میِ باقی که در جنت نخواهی یافت
کنارِ آبِ رکناباد و گلگشتِ مصلیٰ را

جامی:
گفتگوی خرد از حد بگذشت، ای ساقی
باده درده، که ندارم سرِ این مشغله‌ها

اگرچہ ان دونوں اشعار کا وزن مختلف ہے، لیکن زبان، معنی، اور لفظوں کی موسیقی کے لحاظ سے کس قدر باہم مماثل ہیں۔ گویا دونوں شاعروں کی فکر نے ایک ہی سرچشمے سے آب نوش کیا ہے۔
ایک اور لفظ، کہ جس کا استعمال حافظ و جامی کے ہاں بکثرت دیکھا جا سکتا ہے، 'صبا' ہے۔ حافظ کے لیے صبا ہمراز، ہمدل اور ایک صمیمی دوست ہے، اُس کا جو دل چاہتا ہے بغیر کسی احتراز کے صبا کے گوش گزار کر دیتا ہے۔ عبدالرحمٰن جامی نے بھی اپنی غزلوں میں 'صبا' کو اسی حالت میں مقام دیا ہے، اور یہ بھی حافظ سے بہت شباہت رکھتا ہے۔
حافظ:
به بوی نافه‌ای، کآخر صبا زان طره بگشاید
ز تابِ جعدِ مشکینش چه خون افتاد در دل‌ها

جامی:
صبا شمیمِ گل و بویِ یارِ گل‌رخ داد
مرا و مرغِ چمن را در اضطراب انداخت

خواجہ حافظ اور عبدالرحمٰن جامی صبا کے ہمراز و ہمدل ہیں اور دونوں یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ صبا سے کچھ حد تک وابستہ ہیں۔ اسی نقطۂ نظر نے ان دونوں شعروں کو باہم نزدیک کر دیا ہے۔
جو کچھ میرا دل کہنا چاہتا ہے، یہ مختصر مضمون اُس کا احاطہ نہیں کرتا۔ کیونکہ ان دو عارف شاعروں کے اشعار میں باہمی مماثلت بہت زیادہ ہے اور اس جگہ جو اس بارے میں کہا گیا ہے، وہ بہت کم ہے۔ آخر میں مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شعرِ حافظ و جامی میں باہمی شباہتیں بے تردید محققوں کے لیے تحقیق و ادبیات شناسی میں ایک تازہ موضوع بن سکتی ہیں۔

(محمد علی عجمی‌)
====
یہ مضمون دو روز قبل تاجکستان کے سرکاری نشریے جمہوریت میں 'مانندی ہائے آثارِ دو شاعرِ عارف' کے نام سے شائع ہوا تھا۔ آج کل تاجکستان میں مولانا عبدالرحمٰن جامی کا چھ سو سالہ جشن منایا جا رہا ہے، اس لیے مختلف تاجک مطبوعات میں تواتر سے جامی پر مضامین شائع ہو رہے ہیں۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
ہماری اردو کا جتنا تعلق فارسی سےہے کاش اتنا ہی ہمارا جامی سے ہوتا۔
کیا جامی اس ایسی دیگر شخصیات کے لیے ایسے ایونٹ ہمارے ادبی ماحول میں دیکھے گئے۔ہمیں تو اکثر پتہ بھی نہیں چلتا۔
 
Top