تو مرے دل مری تنہائی کا افسانہ بنا

میری ایک تازہ غزل ... اساتذہ کی خدمت میں اصلاح کی غرض سے پیش ہے
غزل بحر رمل مثمن مخبون محذوف
فاعلاتن فعلا تن فعلا تن فعلن / فعلن
میں ہے ....
استاد محترم جناب محمد یعقوب آسی صاحب
استاد محترم جناب الف عین صاحب
استاد محترم جناب محمد اسامہ سَرسَری صاحب

گل بھی ہے خار بھی ہے، ان سے گلستاں نہ بنا
تو مرے دل، مری تنہائی کا، افسانہ بنا

بجلیاں روز گریں، خاک ہو گلشن تیرا
آشیاں تنکے جمع کر کے تو روزانہ بنا

مجھ سے بد ذن جو ہوا، حسنِ تکلّم کی قسم
اس کے الفاظ کا اس دل میں ہے بت خانہ بنا

میں اکیلا تھا چلا، جانبِ منزل، لیکن
یہ جو تم قافلہ.دیکھو، پئے رندانہ بنا

سر پہ بس دھوپ کی چادر کو ہی تانے رہتے
اک جنوں اوڑھ کے نکلے تو یہ کاشانہ بنا

بڑھ کے آیے تھے بھنور کتنے، ڈبونے مجھ کو
یہ معرکئہ جو پڑھو تم، وہی افسانہ، بنا

قلزم ہستی میں یادوں کے جزیرے کاشف
دل نے اک عمر گزاری تو یہ ویرانہ بنا
----------------------------------------
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
پہلے مطلع درست کیا جائے۔ محض گلستا‘ اگر درست ہوتا تو گلستا نہ بنا درست ہو سکتا تھا۔ لیکن ’گلستاں‘ کے ساتھ نہیں۔
معرکہ والا شعر سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کا تلفظ بھی غلط باندھا گیا ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
معرکہ فاعلن کے وزن پر باندھیں ۔۔۔جیسے ۔معرکہ تم نے پڑھا جو وھی افسانہ بنا ۔لیکن انداز مضمون کے مطابق نہ ہو تو لطف جاتا رہتاہے۔
مجھے لگا کہ انداز اور مضمون اکثر جگہ موافق نہیں ہو رہے۔مکمل نظر ثانی کریں ۔
 
اساتذہ اکرم جناب الف عین صاحب
جناب محمد یعقوب آسی صاحب
جناب محمد اسامہ سَرسَری صاحب
تصحیحات کے بعد غزل حاضر ہے ...
بحر ۔۔۔۔ فا علا تن... فعلا تن.. فعلا تن .. فعلن
خاکسار اپنی غلطیوں کی نشاندہی کا منتظر رہیگا
ممنوں فرمائیں ..

1. بھر کے اک لذّت آزار کا پیمانہ بنا
پھر مرے دل مری تنہائی کا افسانہ بنا

2. بجلیاں روز گریں، خاک ہو گلشن، لیکن
آشیاں تنکے جمع کر کے تو روزانہ بنا

3. اس کی ہر بات نے یوں گھر کیا دل میں میرے
جیسے ہر لفظ سے اس دل میں ہو بت خانہ بنا

4. میں اکیلا ہی چلا، جانبِ منزل، لیکن
یہ جو تم قافلہ.دیکھو، پئے رندانہ بنا

5. سر پہ بس دھوپ کی چادر کو ہی تانے رہتے
اک جنوں اوڑھ کے نکلے تو یہ کاشانہ بنا

6. وہ تو بروقت سنبھالا ترے غم نے، ورنہ
ایسی خوش فہمی تھی، لگتا تھا کہ دیوانہ بنا

7. قلزم ہستی میں یادوں کا جزیرہ کاشف
عمر بھر اس میں مشقت کی تو ویرانہ بنا


سید کاشف
 
اگر میں کہوں "کاشفِ اَسرار" یعنی بھیدوں کو کھولنے والا تو بھائی، ایک کھلا بھید جسے "سر عیاں" کہتے ہیں یہ ہے کہ ہر شعر کلامِ منظوم ہوتا ہے مگر ہر کلامِ منظوم شعر نہیں ہوتا۔
 
ع : اس کی ہر بات نے یوں گھر کیا دل میں میرے
اس میں "گھر" کی نادرست نشست اس کو بقیہ غزل کے وزن سے خارج کر رہی ہے۔ توجہ فرمائیے گا۔
 
پوچھا جائے کہ اس میں کیا غلط ہے؟ تو شاید جواب ہو کہ کچھ بھی نہیں۔ مگر کچھ ایسا ہے ضرور کہ جو اس کے شعر بننے میں مانع ہے۔
جناب الف عین کی خصوصی توجہ درکار ہے کہ آپ کو بات کرنے کا ڈھب آتا ہے۔
 
میں اکیلا ہی چلا، جانبِ منزل، لیکن
یہ جو تم قافلہ.دیکھو، پئے رندانہ بنا

اس پر ایک بہت مشہور شعر ذہن میں تازہ ہو گیا۔ شاعر کا نام یاد نہیں ہے:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
 
اگر میں کہوں "کاشفِ اَسرار" یعنی بھیدوں کو کھولنے والا تو بھائی، ایک کھلا بھید جسے "سر عیاں" کہتے ہیں یہ ہے کہ ہر شعر کلامِ منظوم ہوتا ہے مگر ہر کلامِ منظوم شعر نہیں ہوتا۔

جی استاد محترم ۔۔۔ درست فرمایا ۔۔۔
شعر کہنا تو بس ابھی چند ماہ قبل شروع کیا ہے ۔۔۔۔ ابھی تو چند مصرع بھی درست نہیں لکھ پایا ھوں۔۔
منتظر ہوں کہ آپ اس کم عقل کی اغلاط کو مزید واضع کر دیں تاکہ اصلاح کر پاؤں ۔۔۔
جزاک اللہ ۔۔۔
 

الف عین

لائبریرین
پوچھا جائے کہ اس میں کیا غلط ہے؟ تو شاید جواب ہو کہ کچھ بھی نہیں۔ مگر کچھ ایسا ہے ضرور کہ جو اس کے شعر بننے میں مانع ہے۔
جناب الف عین کی خصوصی توجہ درکار ہے کہ آپ کو بات کرنے کا ڈھب آتا ہے۔
میرا یہ خیال ہے کہ اس مصرع میں عروض کی کوئی غلطی نہیں ہے، محض یہ ہے کہ ’گھر کر لینا‘ محاورہ ہوتا ہے، محض ’گھر کرنا‘ نہیں۔
 
Top