تلفظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں اصل میں ی پر تشدید ہے جس کی وجہ سےلفظ کا صحیح وزن تو" فعِلاتن" ہے ۔ڈاکٹر اقبال نے غالباً کہیں اسی طرح باندھا ہے۔
ہر دم متلاطم تھے خرد کے نظریّات۔
اس طرح فعِلاتن(یعنی ع متحرک) پر تو مکمل طور پر درست ہوگا۔
لیکن اردو میں نظریہ عموماً ۔فعولن۔ کے وزن پر عام استعمال ہوتا ہے لہذا اس پر البتہ کلام کیا جاسکتا ہے۔میرے خیال میں تو استعمال کیا جا سلتا ہے۔مؤخر الذکر کی کوئی مثال ذہن میں نہیں لیکن لگتا ہے مل جائے گی۔واللہ اعلم
 
آخری تدوین:

شاہد شاہنواز

لائبریرین
تلفظ تو نَ ظَ رِ ی ی ہ ہی ہے۔ (ی پر تشدید) ۔ اور اقبال کی مثال بھی اسی کی تائید میں ہے۔ لغت بھی یہی بتاتی ہے۔
ہاں، اشعار کا اس ضمن میں فقدان ہے۔
یہاں اصل میں ی پر تشدید ہے جس کی وجہ سےلفظ کا صحیح وزن تو" فعِلاتن" ہے ۔ڈاکٹر اقبال نے غالباً کہیں اسی طرح باندھا ہے۔
ہر دم متلاطم تھے خرد کے نظریّات۔
اس طرح فعِلاتن(یعنی ع متحرک) پر تو مکمل طور پر درست ہوگا۔
لیکن اردو میں نظریہ عموماً ۔فعولن۔ کے وزن پر عام استعمال ہوتا ہے لہذا اس پر البتہ کلام کیا جاسکتا ہے۔میرے خیال میں تو استعمال کیا جا سلتا ہے۔مؤخر الذکر کی کوئی مثال ذہن میں نہیں لیکن لگتا ہے مل جائے گی۔واللہ اعلم
ویسے بولتے وقت وجہ کا تلفظ "وجا" ہوتا ہے، اشعار میں اس کا تلفظ محض "وج" ہے ، تو اس کی وجہ بھی وہی لغت کی پیروی ہے تاکہ زبان اپنی اصل حالت کو برقرار رکھے۔
 
Top