تلخئی زیست کا احساس گوارا بھی نہیں۔ ۔۔ ابن صفی

ربیع م نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 6, 2017

  1. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,569
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    تلخئی زیست کا احساس گوارا بھی نہیں
    کیا کروں دوست مجھے ضبط کا یارا بھی نہیں
    اُن کی مجبوری میرے شوق کی رسوائی بنی
    تو نے اے جذبہ بیتاب سنبھالا بھی نہیں
    اپنی بے باک نگاہی سے گلہ ہے مجھ کو
    دل کو کیا روؤں کہ دل شوق کا مارا بھی نہیں
    آہ زنداں میں سلاسل نے مجھے لوٹ لیا
    پائے وحشت کیلئے اب کوئی صحرا بھی نہیں
    اُس کے ارماں کوئی آئینہ غم سے پوچھے
    جس کے ہونٹوں کو تبسم نے سنوارا بھی نہیں
    پہلے تھی شورش امواج سے وحشت اسرار
    اب یہ عالم ہے کہ ساحل کی تمنا بھی نہیں

    اسرار ناروی (ابن صفی) ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر