تصاویر، نیٹ اور اخلاق

زیک

مسافر
ایک زمانے میں میں نے اپنے بچپن کی تصاویر اپنے بلاگ پر پوسٹ کی تھیں۔ ان میں ایک والدین اور بہن بھائی کے ساتھ طرابلس لیبیا کی تصویر تھی۔ کسی صاحب نے اسے ہاٹ لنک کر کے اپنے سائٹ پر اس کیپشن کے ساتھ لگایا "ایک لیبین فیملی"۔ اسے سمجھایا کہ میری تصویر اور بینڈوڈتھ چوری کرنے کے ساتھ ساتھ تم غلط بھی ہو کہ میرا لیبیا سے محض یہ تعلق ہے کہ میں نے زندگی کے 6 سال وہاں گزارے۔ تینوں باتیں اسے سمجھانے میں کافی وقت لگا۔
 

تلمیذ

لائبریرین
آپ کے اس دھاگے کے عنوان میں ایک لفظ ہے 'اخلاق'۔ نیٹ، انسانوں کے باہمی تعامل کا ایک ایسا وسیلہ ہے جس میں اس صفت کا استعمال بہت کم ہوتا ہے اور میرے خیال میں فی الوقت عوام الناس کی اس کوتاہی کاکوئی شافی حل موجود نہیں، بجز اخلاقی پیمانوں پر پورا نہ اترے والے نا پسندیدہ پورٹل کو بلاک کر دینے کے۔
 
کچھ تصاویر تو ٹھہریں ذاتی نوعیت کی۔ مگر بہت سی تصاویر خبروں کی ہوتی ہیں۔ مثلاً کسی واقعے کی تصویر یا کسی مشہور شخصیت کی تصویر وغیرہ اسکے بارے میں زیک و شمشاد صاحب کی کیا رائے ہے؟
 

زیک

مسافر
کچھ تصاویر تو ٹھہریں ذاتی نوعیت کی۔ مگر بہت سی تصاویر خبروں کی ہوتی ہیں۔ مثلاً کسی واقعے کی تصویر یا کسی مشہور شخصیت کی تصویر وغیرہ اسکے بارے میں زیک و شمشاد صاحب کی کیا رائے ہے؟
خبر سے متعلق تصویر پوسٹ کرنے میں کوئی ہرج نہیں مگر ہمیشہ سورس دیں۔ یہ نہ ہو کہ برما کی تصویر یوکرائن کی بن جائے
 

زیک

مسافر
آپ کے اس دھاگے کے عنوان میں ایک لفظ ہے 'اخلاق'۔ نیٹ، انسانوں کے باہمی تعامل کا ایک ایسا وسیلہ ہے جس میں اس صفت کا استعمال بہت کم ہوتا ہے اور میرے خیال میں فی الوقت عوام الناس کی اس کوتاہی کاکوئی شافی حل موجود نہیں، بجز اخلاقی پیمانوں پر پورا نہ اترے والے نا پسندیدہ پورٹل کو بلاک کر دینے کے۔
سمجھ نہیں پایا کہ اس کا میری گزارشات سے کیا تعلق ہے
 

سید عاطف علی

لائبریرین
میرے خیال میں انٹر نیٹ ایک پبلک نیٹورک کی جگہ ہے جسے استعمال کرنے والے اور جہاں پر کچھ مواد رکھے جانے کے بارے میں رکھنے والے کو اس کی "قانونی شروط" اور "اخلاقی آداب " کا پتہ استعمال کرنے سے قبل ہونا چاہئے کہ کیا پبلک ہے کیا پرائیویٹ ہے۔جیسے کہ کسی اور چیز کے استعمال کی حدود ہوتی ہیں۔خصوصاً انٹرنیٹ پر جہاں مواد کی سیکیورٹی کا ایک پورا نظام موجود ہے جس پر بڑی بڑی کمپنیاں خطیر بجٹ کے ساتھ فعّال ہوں وہاں انٹرنیٹ کے ان شروط وآداب کا استعمال سے پہلے علم از حد ضروری ہے ورنہ ممکنہ نقصان محض غیر ذمہ داری سے استعمال کرنے والا ہوگا ۔ ۔تصاویر (یا کسی دوسرے ڈیٹا) کو اس وقت تک پبلک سمجھا جائے گا جب تک اس کو کاپی رائٹ کے کسی طریقے سے نشان زد نہ کیا گیا ہواور اسے دانستہ پبلک کیا گیا ہو۔۔۔۔ اسی وجہ سے بینک وغیرہ کی خصوصی سروسز ایک معیار سے سیکیور رکھی جاتی ہیں۔اور وی پی این سروسز والے پرووائڈرس اپنے صارفین کو تحفظ کے ساتھ متصل رہنے کے ذرائع فراہم کرتے ہیں اور ایک واضح ۔
زیک صاحب کی سائیکل والی مثال یہاں مکمل طور پر درست نہیں لگتی کیوں سائیکل گیراج سے چرائی گئی ہو یا کسی سڑک سے وہ چوری ہے وہ چوری ہی ہے جب تک آپ اس سائیکل پر لکھ نہ دیں ، کیوں کہ اب وہ سائیکل آپ سے چھین لی گئی ہے اور چرانے والا مختار ہے جبکہ ڈیجیٹل ڈیٹا آپ کے پاس موجود رہتا ہے:)۔
یہاں استعمال کرنے والے پر کوئی اعتراض بجا نہیں ہوگا۔البتہ اگر عموماً حوالہ فراہم کیا جائے اور اتھینٹک سورس کو کوٹ کیے جانے کا خیال رکھا جائے تو اور اچھا ہے۔البتہ اگر کوئی کسی کی بنائی ہوئی تصویر یا ڈیٹا کو اپنے نام سے کوٹ کرے خواہ کوئی فائدہ حاصل کرے یا نہ کرے تو وہ غیر مہذب اور جھوٹا کہلائےانے کے مستحق ہوگا۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
میرا خیال ہے کہ جب تک تصویر پر واضح طور پر کاپی رائٹ فری کا نوٹس نہ لگا ہو، اس کے استعمال میں محتاط رہنا چاہئے۔ عمارات، مناظر وغیرہ میں شاید میں بھی شیئرنگ کر لوں حوالہ دے کر، مگر انسانوں کی اور بالخصوص بچوں کی تصاویر شیئر کرنا مجھے اچھا نہیں لگتا
میرے خیال میں تو جہاں کاپی رائٹ کا نوٹس ہو بس وہاں احتیاط کی ضرورت ہے۔;)
 

سید عاطف علی

لائبریرین
ایک زمانے میں میں نے اپنے بچپن کی تصاویر اپنے بلاگ پر پوسٹ کی تھیں۔ ان میں ایک والدین اور بہن بھائی کے ساتھ طرابلس لیبیا کی تصویر تھی۔ کسی صاحب نے اسے ہاٹ لنک کر کے اپنے سائٹ پر اس کیپشن کے ساتھ لگایا "ایک لیبین فیملی"۔ اسے سمجھایا کہ میری تصویر اور بینڈوڈتھ چوری کرنے کے ساتھ ساتھ تم غلط بھی ہو کہ میرا لیبیا سے محض یہ تعلق ہے کہ میں نے زندگی کے 6 سال وہاں گزارے۔ تینوں باتیں اسے سمجھانے میں کافی وقت لگا۔
زیک ! اگر آپ نے اپنے بلاگ پر (یا ویب سائٹ پر اس کی شروط کے مطابق ) ہاٹ لنک کی ممانعت کا نوٹس آویزاں نہیں کیا تھا تھی تو آپ نے اس پر بینڈ ودتھ چوری کرنے کا ناحق الزام لگا یاہے :)۔البتہ تصویر کے کیپشن کی غلط بیانی نا مناسب اور غلط تھی ۔
 

اوشو

لائبریرین
میرا خیال ہے سب سے پہلے تصاویر اپلوڈ کرنے والوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی تصاویر عوام الناس کی پہنچ میں ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ تصاویر اپلوڈ کریں یا اپنی پرائیویسی کا خود خیال رکھیں۔ کہ ان تک عام انٹرنیٹ یوزرز کی رسائی نہ ہو سکے
 

زیک

مسافر
میرا خیال ہے سب سے پہلے تصاویر اپلوڈ کرنے والوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی تصاویر عوام الناس کی پہنچ میں ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ تصاویر اپلوڈ کریں یا اپنی پرائیویسی کا خود خیال رکھیں۔ کہ ان تک عام انٹرنیٹ یوزرز کی رسائی نہ ہو سکے
جی بالکل۔ نیٹ پر کوئی بھی تصویر اپلوڈ کرتے ہوئے آپ کو یہ سوچنا چاہیئے کہ یہ تمام دنیا کی پہنچ میں ہو گی اور کوئی اس سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ مگر اس سے عام یوزر کی ذمہ داری میں کمی نہیں ہوتی
 
کاپی رائٹ اور فیئر یوز کا خیال رکھتے ہوئے آپ کی نظر میں کیا مناسب ہے؟
یہ بات درست ہے کہ جب کسی کی تصویر ہم لنک کے ذریعے شئر کرتے ہیں تو اسکی بینڈوڈتھ کو استعمال کرتے ہیں۔
اگر کوئی ویب سائٹ خبری ہو یا کوئی اور اگر اپنی تصویر کو شئر کرنے سے منع کرے تو استعمال نہیں کرنی چاہئے۔
لیکن خبری ویب سائٹ منع نہیں کرتی مگر کھلے لفظوں اجازت بھی نہیں دیتی ۔ تو ہم ماخذ بتا کر اس کی تشہیر بھی کر رہے ہیں جو ظاہر ہے کہ انکے لئے پسندیدہ ہے (تشہیر) تو میرے خیال میں برا نہیں ہے۔ یعنی ہم انکی بینڈوڈتھ استعمال کرکے انکی تشہیر بھی کر رہے ہیں تو انکو اعتراض نہیں ہوگا غالباً۔ :)
 

سید عاطف علی

لائبریرین
جی بالکل۔ نیٹ پر کوئی بھی تصویر اپلوڈ کرتے ہوئے آپ کو یہ سوچنا چاہیئے کہ یہ تمام دنیا کی پہنچ میں ہو گی اور کوئی اس سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ مگر اس سے عام یوزر کی ذمہ داری میں کمی نہیں ہوتی
عام یوزر کی ذمہ داریوں کی حدود ڈیفائن کرنے کا حتمی اختیار کس کے پاس ہوگا ۔اوراس کا کرائٹیریا کیا ہو گا۔
 
Top