تشبیہ و استعارہ میں فرق

محمد ریحان قریشی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 15, 2016

  1. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    مجھے فرق سمجھ نہیں آرہا ۔ کیا صرف حرفِ تشبیہ کا فرق ہے تو پھر کیا یہ شعر استعارے کے ہیں
    کھا کھا کے اوس اور بھی صحرا ہرا ہوا
    تھا موتیوں سے دامنِ صحرا بھرا ہوا

    سبزہء خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
    یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  2. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ موجود ہوتے ہیں یعنی جسے تشبیہ دی جا رہی ہے اور جس سے تشبیہ دی جا رہی ہے ان دونوں کا ذکر ہوتا ہے۔
    استعارے میں ایسا نہیں ہوتا
     
    • متفق متفق × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,220
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مذکورہ اشعار میں استعارے ہیں، تشبہیات نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    لیکن جناب اشعار میں دونوں مشبہ مشبہ بہ کا ذکر موجود ہے جیسے سبزہء خط اور زمرد
    افعی اور کاکل ، موتی اور اوس۔ تو فاتح صاحب کی ڈیفینیشن کے مطابق تو یہ تشبیہات ہونی چاہئیں اور استعارے کی مثال کوئی ایسا شعر ہونا چاہیے
    جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
    یا
    کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
    جس میں گل اور شیر کہا گیا ہے مگر جن کے لیے مستعار لیا گیا ہے وہ موجود نہیں ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,321
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    تشبہیہ کی مثال میر کی ایک غزل سے لے لیں ۔استعارے کا فرق شاید اس مثال سے واضح ہو جائے۔

    ہستی اپنی حباب کی سی ہے
    یہ نمائش سراب کی سی ہے۔

    نازکی ان لبوں کی کیا کہیے
    پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے۔

    میر ان نیم باز آنکھوں میں
    ساری مستی شراب کی سی ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    مجھے معلوم ہے کہ حرفِ تشبیہ ہوگا تو تشبیہ ہے اور اگر مستعار لہ نہیں ہوگا تو استعارہ ہے مگر ایک درمیانی صورتحال بھی ہے جدھر مشبہ مشبہ بہ دونوں ہیں مگر حرفِ تشبیہ نہیں ہے۔ وہ جناب الف عین کے مطابق تو استعارے ہیں مگر شرحِ غالب میں مولانا طباطبائی اور غلام رسول مہر ایسے اشعار کو تشبیہ ہی قرار دیتے ہیں۔ جیسے ایک اور شعر ہے
    اچھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصور
    دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 16, 2016
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,220
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ان اشعار میں مشبہ اور مشبہ بہ کی طرف صرف اشارے کئے گئے ہیں، یہ نہیں کہا گیا کہ کاکل افعی کی طرح اور اوس لے قطرے موتی کی طرح ہیں۔
     
    • متفق متفق × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. فرحان عباس

    فرحان عباس محفلین

    مراسلے:
    300
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اچھا سوال ہے.
     
  9. نسیم اکرم

    نسیم اکرم محفلین

    مراسلے:
    3
    میرے خیال میں استعارے اور تشبیہ کے بھی اقسام ہوتے ہیں۔۔۔ایسے تشبیہ بھی ہے جس میں حرفِ تشبیہ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
     
  10. ارم گڈاوی

    ارم گڈاوی محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    استعارہ اور تشبیہ کی الگ الگ مثالیں پیش کریں
     
  11. ارم گڈاوی

    ارم گڈاوی محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding
    "زید شیر ہے" قستعارہ ہے یا تشبیہ؟
     
  12. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    کافی پرانی لڑی ڈھونڈ نکالی آپ نے۔ اب میرے لیے یہ فرق غیر ضروری ہے اس لیے کچھ کہنا ضروری نہیں سمجھوں گا۔
     
    • متفق متفق × 1
  13. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    235
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بھائی اِس بہانے معلومات کی بہم رسانی کا ایک سلسلہ چل نکلا تھا ، چلنے دیتے۔۔۔۔۔۔۔
     
  14. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بحر الفصاحت میں اس موضوع پر خاطرخواہ بحث کی گئی ہے، بحث بھی کچھ فلسفیانہ نوعیت کی ہے جس سے مبتدی پرہیز ہی کریں تو اچھا ہے۔ بہرحال اس کا ماحصل جو مجھے سمجھ آیا وہ یہ ہے کہ استعارہ تشبیہ کی ایک قسم ہے جس میں مشبہ کا ذکر یا تو مفقود ہوتا ہے یا پھر خود میں مشبہ بہ کو تحلیل کر کے رکھتا ہے۔یہ مسلک ہے علامہ سعد الدین تفتازانی کا۔
    اس مثال میں مشبہ موجود ہے اور اسے بعینہٖ مشبہ بہ قرار دیا گیا ہے، اسے تشبیہِ مضمر الاداۃ کہا جاتا ہے۔ یہ استعارہ نہیں ہے۔

    استعارہ میں اگر مشبہ موجود نہ ہو تو وہ استعارہ بالتصریح کہلاتا ہے، مثلاً دبیر کا مصرع

    کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

    اگر مشبہ بہ ، مشبہ میں ضم ہو گیا ہو تو اسے استعارہ بالکنایہ کہتے ہیں۔ اس صورت میں مشبہ بہ کا ذکر ترک کر دیا جاتا ہے مثلاً

    ہوسِ گل کا تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
    عجب آرام دیا بے پر وبالی نے مجھے

    اس شعر میں غالب نے پرندے کا ذکر کیے بغیر اس کا استعارہ اپنے لیے استعمال کیا ہے۔


    چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے

    یہاں چشمِ خوباں کے لیے ساز کی نوا پردازی مستعار لی گئی ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 15, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  15. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    235
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    حالانکہ درجہ بندی میں مجھے ’’معلوماتی‘‘ کو ٹیگ کرنا تھا یعنی آپ کا مراسلہ معلوماتی ہے مگر میں نے ’’زبردست ‘‘ قراردیا۔کیونکہ ہر وہ تحریر جسے میرے دل نے قبول کرلیا اور میرے ذہن نے اِس کی میرے دل کو داد دی۔۔۔۔ اُس تحریر کا ہر لفظ ہر نقطہ میرے نزدیک بہت ہی زبردست ہے، خدا آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ، آپ نے تشبیہ کے باب میں ۔۔۔ایک کوزہ لیااور اُس میں دریا اُنڈیل دیاتو۔۔۔ اِسے کمال نہ کہیں۔۔۔۔اور وہ بھی زبردست!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر