تذکرہ : نامور مصنف " محی الدین نواب " کا ۔۔۔۔۔

عثمان

محفلین
ناول غالباً وجدان نامی ایک لڑکے کی کہانی تھی۔ جس کے ماں باپ قتل کر دیے جاتے ہیں اور وہ قاتلوں سے بچتا مختلف لوگوں کی پناہ تلاش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ خود اتنا طاقتور ہوجاتا ہے کہ قاتلوں سے انتقام لے سکے۔
ناول کی لاتعداد اقساط میں کہیں ایک شخص کا تذکرہ تھا جس کے کردار اور حالات کی مماثلت مذکورہ بھارتی فلم کے ولن کے ہوبہو تھی۔ فلم 2000ء کی جبکہ ناول اس کے بعد جاسوسی ڈائجسٹ میں شائع ہوتا تھا۔
 
ہندوستان ٹائمز کے شمس عدنان علوی کی ایک دلچسپ تحریر :
Legend in Lifetime: Magical Urdu storyteller Mohiuddin Nawab wants his stories to be translated in English and Hindi
(C) By INDSCRIBE

http://www.anindianmuslim.com/2014/02/legend-in-lifetime-magical-urdu.html
اگر موصوف کی تحریریں یونیکوڈ اردو میں دستیاب ہوں (کاپی رائٹ ہولڈرز کے پاس ان پیج فائل ضرور ہونی چاہئے) تو کسی معاہدے کے تحت ان کے ترجمے کا کام کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ کچھ اس قسم کا ہو سکتا ہے کہ یونیکوڈ فائل ہونے کے باوجود جوں کے توں اشاعت کے حقوق موجودہ کاپی رائٹ ہولڈر کے پاس محفوظ رہیں، جبکہ ان کی بدلی ہوئی شکل کی اشاعت کا حق مترجم کے پاس ہو جس کے منافع کا کچھ حصہ کاپی رائٹ ہولڈر کو جائے۔ اردو سے قابل قبول ہندی ترجمہ مشینی مترجم کی مدد سے تھوڑی سی کوشش اور ریسرچ کے ذریعہ ممکن ہے جس کے بعد اس کی درستگی کا کام رہے گا۔ یونیکوڈ اردو میں دستیابی کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ترجمے کے بعد یہ پیرلل کارپس کا کام کرے گا اور اس کی مدد سے مستقبل میں مشینی ترجمے میں بہتری لائی جا سکے گی۔ :) :) :)
 

دوست

محفلین
اقبال کاظمی کی وفات اسی ناول کے دوران ہوئی تھی۔ پھر حسام بٹ نے شاید یہ ناول مکمل کیا تھا۔
 
نواب صاحب تلخ حقیقتوں کو بیاں کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ میرے پاس انکی کافی کتب پی-ڈی-ایف میں موجود تھیں۔ آج رات اپنی ڈیجیٹل لائبریری کا جائزہ لینا پڑے گا۔ :)
آپ مہربانی کر کے پی ڈی ایف ہمیں بھی عنایت کر دیں۔ :)
 
اقبال کاظمی کی وفات اسی ناول کے دوران ہوئی تھی۔ پھر حسام بٹ نے شاید یہ ناول مکمل کیا تھا۔
اور یہ ناول یقیناََ 2000 سے پہلے کا ہونے کے قوی چانسسز ہیں کیوں کہ میں 2000 سے پہلے پہلے ہی بہت زیادہ پڑھا کرتا تھا اور میں نے یہ ناول سارا پڑھا ہے۔
 

سارہ خان

محفلین
نواب صاحب کا ایک اور مشہور افسانہ وہ ہے جس میں انڈیا سے ان کی ایک فین پاکستان آتی ہے ، پھر ان سے شادی کرتی ہے پھر اس کی وفات بھی ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔ (ویسے مجھے شک ہے کہ یہ نواب صاحب کا افسانہ ہے یا علیم الحق حقی کا؟؟)
مجھے یہ ناول درکار ہے۔۔ علیم الحق حقی کا ہے۔۔ ایک قسط پڑھی تھی۔۔ نام یاد نہیں رہا کہ دوسری قسط تلاش کر سکوں۔۔ اور یہاں بھی نام نہیں لکھا ۔۔ :?
 

حماد علی

محفلین
"دیوتا" میں جب نہم جماعت میں تھا تب پڑھنی شروع کی اور دہم کے امتحانات کے بعد جو وقت تعطیلات کا تھا ان میں ختم کیا ۔ اس ناول کا غالباً گھر میں ۲۲ حصہ پڑا تھا جو کے کوئ اور مصروفیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے عنوان یعنی "دیوتا" میں دلچسپی محسوس کرتے ہوے پڑھنا شروع کیا اور پھر پتا ہی نہ چلا کے کب اور کیسے اس ناول کے سحر میں گرفتار ہوا کے اس کے 57 کے 57 حصے پڑھ کر ہی دم لیا ۔ اور بے شک یہ ایسا ناول تھا کے مجھے اس کے اختتام پر یقین ہی نہ آیا کے میں نے تمام کی تمام جلدیں پڑھ لی ہیں اور اب بس۔۔۔۔اس ناول کا اتنے طویل عرصے تک ساتھ رہا کے فرہاد مجھے اپنی زندگی کا ہی حصہ لگنے لگا تھا!

اسی طرح "آدھا چہرا" بھی پڑھا اور بے شک یہ بھی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحریر تھی ۔
 

عثمان

محفلین
"دیوتا" میں جب نہم جماعت میں تھا تب پڑھنی شروع کی اور دہم کے امتحانات کے بعد جو وقت تعطیلات کا تھا ان میں ختم کیا ۔ اس ناول کا غالباً گھر میں ۲۲ حصہ پڑا تھا جو کے کوئ اور مصروفیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے عنوان یعنی "دیوتا" میں دلچسپی محسوس کرتے ہوے پڑھنا شروع کیا اور پھر پتا ہی نہ چلا کے کب اور کیسے اس ناول کے سحر میں گرفتار ہوا کے اس کے 57 کے 57 حصے پڑھ کر ہی دم لیا ۔ اور بے شک یہ ایسا ناول تھا کے مجھے اس کے اختتام پر یقین ہی نہ آیا کے میں نے تمام کی تمام جلدیں پڑھ لی ہیں اور اب بس۔۔۔۔اس ناول کا اتنے طویل عرصے تک ساتھ رہا کے فرہاد مجھے اپنی زندگی کا ہی حصہ لگنے لگا تھا!

اسی طرح "آدھا چہرا" بھی پڑھا اور بے شک یہ بھی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحریر تھی ۔
حالانکہ ان سینکڑوں گھنٹوں میں ستاون معقول کتب پڑھی جاسکتی تھیں۔
 

جاسمن

مدیر
نواب صاحب کی تقریباََ تمام کہانیاں پڑھی ہیں۔ دیوتا کے لئے پرانے شمارے پڑھے ان کی تحریریں پہچاننا شاید کسی کے لئے مشکل نہیں۔۔ بلاشبہ اُن کو اللہ کی طرف سے بہت صلاحیتوں سے نوازا گیا تھا۔
لیکن میرے خیال میں تین باتوں نے اُن کی تحریروں کی خوبصورتی کو زائل کیا۔
ایک یکسانیت
دوسری طوالت
تیسری بلا ضرورت ایسی ویسی باتیں
جب انہوں نے اپنی بیماری کے بعد اجل کے عنوان سے کہانیوں کا سلسہ شروع کیا تو میں نے سوچا کہ شکر ہے نواب صاحب دیر سے سہی ،راہ پہ تو آئے۔۔۔لیکن وہی کہ جیسے ہی تندرست ہوئے،اُن کے حواسوں پہ وہی سب کچھ سوار ہوگیا۔جہاں تک میں نے سمجھا۔ اُن کی شخصیت دو رُخوں میں تقسیم تھی۔ ایک ویسی،جیسی کہانیاں اںہوں نے صحت مندی کے دور میں لکھیں(یہ اُن کی اصل شخصیت تھی اور بوجہ وہ اِس پہ قابو نہیں پاسکتے تھے۔ وہ شاید مجبور تھے)،دوسری ویسی جیسی کہانیاں انہوں نے اجل کے عنوان سے لکھیں ( یہ اُن کی خواہش،یا آئیڈیل ازم تھا کہ انہیں ایسا ہونا چاہیے)
جیہ نے انہیں کرشن چندر کے مماثل کہا ہے۔ لیکن مجھے بالکل بھی ایسا نہیں لگتا۔ کرشن چندر بڑا افسانہ نگار تھا۔۔ اور معذرت کے ساتھ نواب صاحب فارمولہ کہانیان لکھنے والے تھے۔
وہ چاہتے تو اپنی صلاحیتوں کے سبب شاندار ترین کہانیاں لکھ سکتے تھے۔
بہرحال۔یہ حقیقت ہے کہ ڈائجسٹوں کی دنیا میں اُن کا بہت بڑا نام ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ان کی مغفرت فرمائے۔ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ ان کی قبر کو ٹھنڈا،روشن،ہودار،اور روشن کرے۔اس میں جنت کی کھڑکیاں کھولے۔ ان کے لواحقین کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور انہیں مرھوم کے لئے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین!
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
حالانکہ ان سینکڑوں گھنٹوں میں ستاون معقول کتب پڑھی جاسکتی تھیں۔
لڑکپن اور جوانی میں اس طرح کی "حرکتیں" ہو ہی جاتی ہیں اور کسی حد تک "معقول" اس لیے ہیں کہ بالکل ہی کچھ نہ پڑھنے سے تو دیوتا ہی بہتر ہے بعد میں زمانے کا گرم و سرد خود ہی بتا دیتا ہے کہ اب کیا پڑھنا ہے۔ لیکن میں ایسے بھی کئی خواندگان کو جانتا ہوں کہ ساری زندگی بس عمران سیریز اور دیوتا ہی پڑھتے رہے، کسی اور معقول کتاب کو ہاتھ تک نہ لگایا :)
 

حماد علی

محفلین
حالانکہ ان سینکڑوں گھنٹوں میں ستاون معقول کتب پڑھی جاسکتی تھیں۔
اگر بات معقولیت کی ، کی جائے تو ناول کے آخر میں مجھے بھی وہ غیر ارضی مخلوق والی بات کچھ نامناسب لگی لیکن بہرحال اس کو نا معقول کہنا تو سرا سر زیادتی ہے میری نظر میں!
اگر آپ کا خیال ہے کے یہ داستان معقولیت کے پیمانے پر پوری نہیں اترتی تو میں آپ کا خیال بالکل نہیں بدل سکتا ۔ اگر تو آپ نے یہ پوری داستان پڑھی ہے اور اس کے بعد بھی آپ کا خیال ہے کے قاری اس سے کوئ معقول بات اخذ نہیں کر سکتا تو
پھر یقیناً آپ کو اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے !
یہ سب تو ہیں میرے خیالات جن پر میں معذرت کرتا ہوں اگر آپ پر گراں گزریں تو !
ویسے اگر آج کل کی نامعقولیت جو کہ ہر طرف پھیلی ہوئ ہے اس میں کوئ اس نا معقول داستان پر اپنے سینکڑوں گھنٹے ضایع کرتا ہے تو بالکل مناسب کرتا ہے ۔
میں نہیں جانتا آپ نے کن پیمانوں پر اس کی معقولیت اور نا معقولیت کو ماپا ہے ! اس لیے آپ کو منصفانہ طور پر غلط نہیں کہ سکتا کے میں کیا اور میری بساط کیا '
 
Top