تذکرہ : نامور مصنف " محی الدین نواب " کا ۔۔۔۔۔

باذوق نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 4, 2008

  1. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    8,426
    موڈ:
    Cheerful
    ناول غالباً وجدان نامی ایک لڑکے کی کہانی تھی۔ جس کے ماں باپ قتل کر دیے جاتے ہیں اور وہ قاتلوں سے بچتا مختلف لوگوں کی پناہ تلاش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ خود اتنا طاقتور ہوجاتا ہے کہ قاتلوں سے انتقام لے سکے۔
    ناول کی لاتعداد اقساط میں کہیں ایک شخص کا تذکرہ تھا جس کے کردار اور حالات کی مماثلت مذکورہ بھارتی فلم کے ولن کے ہوبہو تھی۔ فلم 2000ء کی جبکہ ناول اس کے بعد جاسوسی ڈائجسٹ میں شائع ہوتا تھا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  2. اوشو

    اوشو محفلین

    مراسلے:
    2,271
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    X-Men سیریز میں دیوتا کے کئی کرداروں کی مماثلت ملتی ہے۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,658
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    وجدان والا ناول میں نے بھی پڑھا ہوا ہے. اس کے مصنف کا نام کوئی اور تھا.
     
    • متفق متفق × 1
  4. ابن سعید

    ابن سعید خادم

    مراسلے:
    59,662
    اگر موصوف کی تحریریں یونیکوڈ اردو میں دستیاب ہوں (کاپی رائٹ ہولڈرز کے پاس ان پیج فائل ضرور ہونی چاہئے) تو کسی معاہدے کے تحت ان کے ترجمے کا کام کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ کچھ اس قسم کا ہو سکتا ہے کہ یونیکوڈ فائل ہونے کے باوجود جوں کے توں اشاعت کے حقوق موجودہ کاپی رائٹ ہولڈر کے پاس محفوظ رہیں، جبکہ ان کی بدلی ہوئی شکل کی اشاعت کا حق مترجم کے پاس ہو جس کے منافع کا کچھ حصہ کاپی رائٹ ہولڈر کو جائے۔ اردو سے قابل قبول ہندی ترجمہ مشینی مترجم کی مدد سے تھوڑی سی کوشش اور ریسرچ کے ذریعہ ممکن ہے جس کے بعد اس کی درستگی کا کام رہے گا۔ یونیکوڈ اردو میں دستیابی کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ترجمے کے بعد یہ پیرلل کارپس کا کام کرے گا اور اس کی مدد سے مستقبل میں مشینی ترجمے میں بہتری لائی جا سکے گی۔ :) :) :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  5. ساقی۔

    ساقی۔ محفلین

    مراسلے:
    3,304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اقبال کاظمی صاحب نے ایک ناول لکھا تھا ۔۔ آتش فشاں ۔۔۔ جس میں وجدان نامی لڑکا مرکزی کردار تھا ۔ مارشل آرٹ اور" چی " کا ماہر
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  6. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,658
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    اقبال کاظمی کی وفات اسی ناول کے دوران ہوئی تھی۔ پھر حسام بٹ نے شاید یہ ناول مکمل کیا تھا۔
     
    • متفق متفق × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. امجد میانداد

    امجد میانداد محفلین

    مراسلے:
    4,845
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dead
    آپ مہربانی کر کے پی ڈی ایف ہمیں بھی عنایت کر دیں۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  8. امجد میانداد

    امجد میانداد محفلین

    مراسلے:
    4,845
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dead
    اور یہ ناول یقیناََ 2000 سے پہلے کا ہونے کے قوی چانسسز ہیں کیوں کہ میں 2000 سے پہلے پہلے ہی بہت زیادہ پڑھا کرتا تھا اور میں نے یہ ناول سارا پڑھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. انجانا

    انجانا محفلین

    مراسلے:
    520
    موڈ:
    Brooding
    محی الدین نواب 6 فروری 2016 کو فوت ہوئے.
    اللہ مغفرت فرمائے.
     
    • غمناک غمناک × 3
  10. سارہ خان

    سارہ خان محفلین

    مراسلے:
    15,818
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    مجھے یہ ناول درکار ہے۔۔ علیم الحق حقی کا ہے۔۔ ایک قسط پڑھی تھی۔۔ نام یاد نہیں رہا کہ دوسری قسط تلاش کر سکوں۔۔ اور یہاں بھی نام نہیں لکھا ۔۔ :?
     
  11. نوشاب

    نوشاب محفلین

    مراسلے:
    688
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Ornery
    آمین
     
  12. ابن عادل

    ابن عادل محفلین

    مراسلے:
    301
    محی الدین نواب صاحب کا اردو ڈائجسٹ میں ایک انٹرویو
    ایک قسط کا معاوضہ 40 سے 50 ہزار لیتے تھے ۔
    http://urdudigest.pk/mahiy-ud-din-nawab/
     
  13. سید لبید غزنوی

    سید لبید غزنوی محفلین

    مراسلے:
    3,265
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ان کے ڈاؤنلوڈ لنک یا پھر ای میل کے ذریعےمل سکتی ہیں ؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    16,517
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    پرانی بات ہے۔۔۔ اب دیکھنا پڑے گا۔
     
  15. حماد علی

    حماد علی محفلین

    مراسلے:
    469
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    "دیوتا" میں جب نہم جماعت میں تھا تب پڑھنی شروع کی اور دہم کے امتحانات کے بعد جو وقت تعطیلات کا تھا ان میں ختم کیا ۔ اس ناول کا غالباً گھر میں ۲۲ حصہ پڑا تھا جو کے کوئ اور مصروفیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے عنوان یعنی "دیوتا" میں دلچسپی محسوس کرتے ہوے پڑھنا شروع کیا اور پھر پتا ہی نہ چلا کے کب اور کیسے اس ناول کے سحر میں گرفتار ہوا کے اس کے 57 کے 57 حصے پڑھ کر ہی دم لیا ۔ اور بے شک یہ ایسا ناول تھا کے مجھے اس کے اختتام پر یقین ہی نہ آیا کے میں نے تمام کی تمام جلدیں پڑھ لی ہیں اور اب بس۔۔۔۔اس ناول کا اتنے طویل عرصے تک ساتھ رہا کے فرہاد مجھے اپنی زندگی کا ہی حصہ لگنے لگا تھا!

    اسی طرح "آدھا چہرا" بھی پڑھا اور بے شک یہ بھی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحریر تھی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. بدر الفاتح

    بدر الفاتح محفلین

    مراسلے:
    2,036
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    واقعی اتنی طویل داستانیں پڑھی جا سکتی ہیں؟!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    8,426
    موڈ:
    Cheerful
    حالانکہ ان سینکڑوں گھنٹوں میں ستاون معقول کتب پڑھی جاسکتی تھیں۔
     
    • متفق متفق × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. جاسمن

    جاسمن لائبریرین

    مراسلے:
    5,442
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    نواب صاحب کی تقریباََ تمام کہانیاں پڑھی ہیں۔ دیوتا کے لئے پرانے شمارے پڑھے ان کی تحریریں پہچاننا شاید کسی کے لئے مشکل نہیں۔۔ بلاشبہ اُن کو اللہ کی طرف سے بہت صلاحیتوں سے نوازا گیا تھا۔
    لیکن میرے خیال میں تین باتوں نے اُن کی تحریروں کی خوبصورتی کو زائل کیا۔
    ایک یکسانیت
    دوسری طوالت
    تیسری بلا ضرورت ایسی ویسی باتیں
    جب انہوں نے اپنی بیماری کے بعد اجل کے عنوان سے کہانیوں کا سلسہ شروع کیا تو میں نے سوچا کہ شکر ہے نواب صاحب دیر سے سہی ،راہ پہ تو آئے۔۔۔لیکن وہی کہ جیسے ہی تندرست ہوئے،اُن کے حواسوں پہ وہی سب کچھ سوار ہوگیا۔جہاں تک میں نے سمجھا۔ اُن کی شخصیت دو رُخوں میں تقسیم تھی۔ ایک ویسی،جیسی کہانیاں اںہوں نے صحت مندی کے دور میں لکھیں(یہ اُن کی اصل شخصیت تھی اور بوجہ وہ اِس پہ قابو نہیں پاسکتے تھے۔ وہ شاید مجبور تھے)،دوسری ویسی جیسی کہانیاں انہوں نے اجل کے عنوان سے لکھیں ( یہ اُن کی خواہش،یا آئیڈیل ازم تھا کہ انہیں ایسا ہونا چاہیے)
    جیہ نے انہیں کرشن چندر کے مماثل کہا ہے۔ لیکن مجھے بالکل بھی ایسا نہیں لگتا۔ کرشن چندر بڑا افسانہ نگار تھا۔۔ اور معذرت کے ساتھ نواب صاحب فارمولہ کہانیان لکھنے والے تھے۔
    وہ چاہتے تو اپنی صلاحیتوں کے سبب شاندار ترین کہانیاں لکھ سکتے تھے۔
    بہرحال۔یہ حقیقت ہے کہ ڈائجسٹوں کی دنیا میں اُن کا بہت بڑا نام ہے۔
    اللہ سے دعا ہے کہ ان کی مغفرت فرمائے۔ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ ان کی قبر کو ٹھنڈا،روشن،ہودار،اور روشن کرے۔اس میں جنت کی کھڑکیاں کھولے۔ ان کے لواحقین کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور انہیں مرھوم کے لئے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین!
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 21, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    20,390
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    لڑکپن اور جوانی میں اس طرح کی "حرکتیں" ہو ہی جاتی ہیں اور کسی حد تک "معقول" اس لیے ہیں کہ بالکل ہی کچھ نہ پڑھنے سے تو دیوتا ہی بہتر ہے بعد میں زمانے کا گرم و سرد خود ہی بتا دیتا ہے کہ اب کیا پڑھنا ہے۔ لیکن میں ایسے بھی کئی خواندگان کو جانتا ہوں کہ ساری زندگی بس عمران سیریز اور دیوتا ہی پڑھتے رہے، کسی اور معقول کتاب کو ہاتھ تک نہ لگایا :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  20. حماد علی

    حماد علی محفلین

    مراسلے:
    469
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اگر بات معقولیت کی ، کی جائے تو ناول کے آخر میں مجھے بھی وہ غیر ارضی مخلوق والی بات کچھ نامناسب لگی لیکن بہرحال اس کو نا معقول کہنا تو سرا سر زیادتی ہے میری نظر میں!
    اگر آپ کا خیال ہے کے یہ داستان معقولیت کے پیمانے پر پوری نہیں اترتی تو میں آپ کا خیال بالکل نہیں بدل سکتا ۔ اگر تو آپ نے یہ پوری داستان پڑھی ہے اور اس کے بعد بھی آپ کا خیال ہے کے قاری اس سے کوئ معقول بات اخذ نہیں کر سکتا تو
    پھر یقیناً آپ کو اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے !
    یہ سب تو ہیں میرے خیالات جن پر میں معذرت کرتا ہوں اگر آپ پر گراں گزریں تو !
    ویسے اگر آج کل کی نامعقولیت جو کہ ہر طرف پھیلی ہوئ ہے اس میں کوئ اس نا معقول داستان پر اپنے سینکڑوں گھنٹے ضایع کرتا ہے تو بالکل مناسب کرتا ہے ۔
    میں نہیں جانتا آپ نے کن پیمانوں پر اس کی معقولیت اور نا معقولیت کو ماپا ہے ! اس لیے آپ کو منصفانہ طور پر غلط نہیں کہ سکتا کے میں کیا اور میری بساط کیا '
     

اس صفحے کی تشہیر