تحریر سے مصنف کی شناخت : تحقیقی بحث

الف نظامی نے 'آئی ٹی کے سوال و جواب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 25, 2010

  1. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,481
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    یہ تھریڈ ایک کمپیوٹری مسئلے پر غور کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ الگورتھم تخلیق کار اس تحقیق میں حصہ لیں گے۔
    مسئلہ : ہر شخص کے لکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے ۔۔۔ایسا الگورتھم / نظام وضع کرنا جو کسی شخص کی مختلف تحاریر ( کالم ، فورم ، بلاگ پوسٹ ) کا تجزیہ کر نے کے بعد کسی دئیے گئے متن کے بارے میں یہ فیصلہ کر سکے کہ آیا وہ اس شخص کا لکھا ہوا ہے یا نہیں؟

    کیا اردو متن کے لیے ایسا الگورتھم / نظام وضع کرنا ممکن ہے اور اس حوالے سے تحریر میں کون کون سی اسلوبی خصوصیات کا جائزہ لینا ہوگا؟
    ماہرین اسلوب و لسانیات و کمپیوٹر متوجہ ہوں۔

    مفید روابط برائے مطالعہ:

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 12
    • زبردست زبردست × 7
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  2. ابن سعید

    ابن سعید خادم

    مراسلے:
    60,165
    دلچسپ موضوع ہے یہ بھی۔
     
    • متفق متفق × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,291
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آپ کی تحقیق والی بات رنگ لا رہی ہے۔۔۔:):):)
     
  4. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,291
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    الف نظامی بھائی یہ تو خاصا مشکل کام ہے۔۔۔:eek:
    سعود بھائی کی تحریر کو تو اس ( :):):) ) سے پکڑا جاسکتا ہے۔۔:D
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  5. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    الف نظامی صاحب مفید معلومات کے لیے بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,481
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    ہر فرد جو متن لکھتا ہے اس میں کچھ نہ کچھ منفرد ضرور ہوتا ہے ، کسی خاص ترکیب کا استعمال جس کو وہ اکثر استعمال کرتا ہے۔ مثلا اگر محفل پر کسی پوسٹ میں "حضراتِ گرامی" کا استعمال پایا گیا تو غالب امکان ہے کہ وہ ساجد صاحب کی پوسٹ ہوگی۔ اگر کسی تحریر میں "ہیکہ" کا استعمال کیا گیا تو وہ ایم اے راجا کی پوسٹ ہوگی۔ "ہی ہی ہی" کا استعمال مقدس کی تحریر میں ہوگا۔

    لیکن متن سے مصنف کی شناخت معلوم کرنے کا یہ ایک جزو ہے ، مصنف کی درست شناخت کے لیے اسلوب سے متعلقہ مزید کئی چیزوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • متفق متفق × 2
  7. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    ٹیگ کرنے کا شکریہ، نظامی صاحب۔ پر مجھے اعتراف ہے کہ اس میدان میں فدوی بالکل 'پھاڈی' ہے!!(n)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • غمناک غمناک × 1
  8. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,291
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اگر آپ جیسے قابل، تجربےکار اور علم دوست لوگ پہلے سے ہار مان لیں گے تو پھر ہم کیا کریں گے؟؟؟:rolleyes:
     
    • متفق متفق × 2
  9. احمد علی

    احمد علی محفلین

    مراسلے:
    233
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    لیکن کسی چند تحریروں سے یہ ممکن نہیں ۔۔۔:nerd: میری عقل کے مطابق۔۔
     
    • متفق متفق × 4
  10. پردیسی

    پردیسی محفلین

    مراسلے:
    1,185
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    مشکل کام ہے مگر ناممکن نہیں ۔۔۔ مگر دیکھا جائے تو عقل مند چیٹنگ کرنے ولا اصل سے بہتر ہوتا ہے تو پھر مشین تو نقلی کو اصلی قرار دے دے گی:eek:
     
    • متفق متفق × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    قدرافزائی ہے جناب، لیکن جو حقیقت ہے وہی عرض کی تھی۔
     
  12. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    میرا خیال ہے یہ ممکن نہیں۔ بات ہار ماننے یا نہ ماننے کی نہیں۔ چند حقائق پیش کرتا ہوں۔
    ۱۔ اسلوب صرف لفظیات کا نام نہیں ہے۔ اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ میں ہمیشہ سو پچاس بڑے (نمایاں) لفظوں کا سیٹ ہی استعمال کروں۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ الفاظ کا وہ سیٹ کوئی دوسرا استعمال نہیں کرے گا۔ جملے کی ساخت اور معنی آفرینی میں بہت سارے احباب کا انداز مماثل ہو سکتا ہے۔
    ۲۔ ایک ہی لکھاری کے بیس پچیس مضامین یا تحریر کے دیگر نمونوں کو دیکھ کر، ایک دی گئی تحریر کے بارے میں ہم زیادہ سے زیادہ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں، کہ یہ انداز فلاں شخص کا سا ہے۔ کوئی فیصلہ صادر کرنا، انسانوں کے لئے بھی مشکل ہے کہاں بے چاری مشین!۔ ایسی تجزیہ کاری میں خود تجزیہ کرنے والے کا علم، اس کی اپج اور قوتِ تجزیہ، میلان اور نہ جانے کون کون سے انسانی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ اور انسان پھر بھی ٹھوکر کھا سکتا ہے یعنی لکھاری کا درست تعین نہیں کر پاتا۔
    ۳۔
    گلوں میں رنگ بھرے بادِ نوبہار چلے
    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کار و بار چلے
    قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
    کہیں تو بہرِ خدا آج ذِکرِ یار چلے
    مقام فیضٓ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
    جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
    یہاں فیض نمایان طور پر دکھائی دے رہا ہے، مگر اس چیز کی کیا ضمانت ہے کہ کوئی اور شخص یہی تراکیب اور الفاظ استعمال نہیں کرے گا؟۔ مجھے یقین ہے کہ یہی تراکیب اور الفاظ فیض سے پہلے بھی مستعمل رہے ہیں۔ گل، رنگ، رنگ بھرنا، بادِ نوبہار، نوبہار، بہار، گلشن، کاروبار، بہرِ خدا، ذکر، یار، مقام، کوئے یار، سوئے دار میں سے کوئی بھی اردو کے لئے نیا نہیں۔ جن احباب کا شعر سے واسطہ ہے وہ بآسانی پہچان لیتے ہیں کہ یہ فیض کا کلام ہے۔ سب بجا، تاہم اس شناخت میں کچھ حصہ اس غزل کی شہرت کا بھی ہے۔ مشینی تجزیہ نگاری میں یہ سارا پس منظر اور پیش منظر نہ تو محفوظ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی قطعی فیصلہ ممکن ہے۔
    ۴۔ اقبال کی شاعری کے مختلف ادوار بنائیے تو کھُلتا ہے کہ ان کی لفظیات بھی تبدیل ہوئیں اور اسلوب کے دیگر عناصر بھی۔ غالب نے شروع شروع میں مشکل پسندی سے کام لیا، اور وقت کے ساتھ ساتھ سلاست کی طرف مائل ہوتے گئے۔ ان دونوں بزرگوں کی اپنی اپنی نثر اور شاعری کے اسالیب مختلف ہیں۔ اقبال کے ہاں موضوع بدلتا ہے تو ساری لفظیات بدل جاتی ہے اور یہ صرف اقبال پر موقوف نہیں۔

    بہر حال، کر دیکھئے!۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 5
    • متفق متفق × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  13. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    بلال بھائی بھی تشریف لے آئیں۔ اُس دن اسلام آباد میں چائے پیتے وقت الف نظامی صاحب کے ساتھ ساتھ بلال بھائی بھی خاصی معلومات افزا گفتگو کر رہے تھے اس بارے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    بہت شکریہ محترم الف نظامی بھائی
    بہت خوب موضوع شروع کیا ہے آپ نے
    اردو لنک چیٹ روم کے منتظم محترم مہتاب صاحب سے یہ نکتہ حاصل ہوا تھا کہ کسی ایک شخص کی مختلف ناموں سے لکھی گئی مختلف تحاریر کا اگر لفظ با لفظ اور جملے کی ساخت پر باریک بینی سے توجہ دی جائے تو اس شخصیت کی پہچان کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ " نکتہ " فیک آئی ڈیز سے چیٹ کرنے والوں کی شناخت بارے سامنے آیا تھا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  15. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    تحریر کے اسلوب سے مصنف کو پہچاننے کا زیادہ تر تعلق چھٹی حس اور فراست وغیرہ سے ہے، کمپیوٹر پروگرام چھٹی حس کہاں سے لائیں گے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  16. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,568
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    میرے خیال میں اس میں صرف قیاس ہی کیا جا سکتا ہے جو کہ کسی حد تک ہمیں درست نتیجے پر پہنچا سکتا ہے اور بہت حد تک غلط نتیجے پر بھی۔ نثر نگاروں کی بجائے شاعروں کیلیے کسی حد تک یہ آسان بھی ہو سکتا ہے لیکن سو فیصد پھر بھی نہیں، آسانی سے جو شاعر پہچانے جا سکتے ہیں ان میں اقبال سہر فہرست ہیں لیکن ان کے بعد کئی غیر مشہور شعرا ایسے ہیں جنہوں نے ان کا اسلوب اپنایا ہے۔ میر، غالب، مومن، ذوق، جگر، جوش، فیض وغیرہ بھی کسی حد تک پہچانے جا سکتے ہیں۔

    نثر نگارروں میں ڈپٹی نذیر احمد، محمد حسین آزاد، مولانا ابوالکلام آزاد، شبلی نعمانی اور جدید میں مختار مسعود، یوسفی، شفیق الرحمٰن، ابن انشا وغیرہ اس حوالے سے ممتاز ہو سکتے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  17. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,481
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    درست کہا آپ نے ، ہم اس طرح کے تجزیہ سے کم از کم یہ تو معلوم کر سکتے ہیں کہ دیا گیا کلام کس کے طرزِ تحریر سے متاثر ہے۔
     
  18. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,481
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    محمد وارث : "اسلوبی خصوصیات" کے حوالے سے توجہ کی درخواست ہے۔
     
  19. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,568
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مشینی لحاظ سے تو میرے خیال میں صرف لفظیات ہی ہو سکتی ہیں اور وہ بہت سوں کے ہاں مشترک ہیں، کچھ میں انفرادیت بھی ہے۔

    کسی صاحبِ فہم شخص کیلیے، کسی مصنف کی لفظیات، سیاق و سباق، جملوں کی ساخت، طرز تحریر، اندازِ تخاطب وغیرہ سے بہت حد تک انداز١ہ ہو سکتا ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,481
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    بہت شکریہ محمد وارث ۔ کیا "اسلوب" کے موضوع پر کوئی اردو کتاب آپ کے علم میں ہے؟
     

اس صفحے کی تشہیر