تجلیات از حافظ مظہر الدین مظہر

سیما علی

لائبریرین
جب ملی اُن کی رہگذر عالمِ وجد و کیف میں
ہوگا سماں عجیب تر عالمِ وجد و کیف میں

اُن کے کرم پہ ہے نظر عالم وجد و کیف میں
ہے مری شام اور سحر عالمِ وجد و کیف میں
واہ واہ
سبحان اللہ
سبحان اللہ
نظامی صاحب سلامت رہیے !!!!!
 

الف نظامی

لائبریرین

چاہتے ہیں مرے بام و در چاندنی
میرے گھر بھی ہو رشکِ قمر چاندنی

لے کے رخسارِ شہ ﷺ سے اثر چاندنی
ضَو لُٹاتی ہے شام و سحر چاندنی

دیکھ کر حسنِ خیر البشر ﷺ چاندنی
ہوگئی اور پاکیزہ تر چاندنی

میری دنیا بھی نور علی نور ہو
اے مرے چاند ! پھیلا ادھر چاندنی

چومتی ہے مدینے کے دیوار و در
لُوٹتی ہے مزے رات بھر چاندنی

ہائے طیبہ کے جلووں کا دلکش سماں
ہائے یثرب کی دیوانہ گر چاندنی

میں طلب گار ہوں اُن کے انوار کا
بخش سکتی ہے جن کی نظر چاندنی

میں نے دیکھی ہے ماہِ عرب کی ضیا
ہوگی راتوں مری قبر پر چاندنی

کہکشاں اُن کے قدموں کی اک دُھول ہے
میرے خواجہ ﷺ کی ہے رہ گذر چاندنی

جلوہ ریز و ضیا گیر و ضو بار ہے
گنبدِ پاک پر تا سحر چاندنی

آج آیا مزا نعت کے نُور کا
آج دیکھی ہے مظہر کے گھر چاندنی​
 

الف نظامی

لائبریرین
رواں ہے کارواں سوئے مدینہ
کھنچی جاتی ہے جاں سوئے مدینہ

چلو اے ہمرہاں سوئے مدینہ
چلیں نعرہ زناں سوئے مدینہ

تڑپتا رہ گیا اِک عاشقِ زار
گیا سارا جہاں سوئے مدینہ

مدینے کے مسافر ! ساتھ لے جا
مری بے تابیاں سوئے مدینہ

یہی دُھن ہے یہی حسرت ، یہی شوق
کہ پہنچے ارمغاں سوئے مدینہ

زمانہ ہے رہِ بیتُ الحرم میں
ہے روئے عاشقاں سوئے مدینہ

دو عالم وجد کے عالم میں ہوں گے
ہوا جب میں رواں سوئے مدینہ

تجلی گاہِ بطحیٰ سے نکل کر
چلوں گا شادماں سوئے مدینہ

جب آئی یادِ محبوبِ ﷺ دوعالم
گئی میری فغاں سوئے مدینہ

جھکے ہیں فرطِ تعظیم و ادب سے
مکان و لامکاں سوئے مدینہ

کبھی اے کاش مظہر کا گذر ہو
برنگِ عاشقاں سوئے مدینہ​
 

الف نظامی

لائبریرین
جب کُھلا اسود و احمر کے لئے بابِ کرم
مجھ تفویض ہوئی نعتِ رسولِ ﷺ اکرم

بن کے مداحِ نبی ﷺ میرا نصیبہ جاگا
سگِ طیبہ کو ملی عظمتِ پاکانِ حرم

اب چھلکتی ہے مرے جام میں کوثر کی شراب
اب ٹپکتی ہے سبو سے مئے نابِ زمزم

اُن کی چوکھٹ کی غلامی پہ ہیں کیا کیا نازاں
ناز نینانِ عرب ، عشوہ طرازانِ عجم

اُن کی رحمت کا نہیں ایک سوالی میں ہی
عرشِ اعظم کے مکیں بھی ہیں گدایانِ کرم

میں بھی اُنکا مرے نغماتِ حسیں بھی اُن کے
چوں نہ بر بندگی خواجہ بطحٰی نازم​
 

الف نظامی

لائبریرین
دل میں شہِ ﷺ کونین کی جلوہ فگنی ہے
اب دل کی فضا رشکِ بہارِ چمنی ہے

جس دل میں کہ عشقِ شہِ مکی مدنی ہے
نایاب نگینہ ہے ، عقیقِ یمنی ہے

گیسوے محمد ﷺ ہیں کہ رحمت کی گھٹائیں
عارض کی صباحت ہے کہ صبحِ چمنی ہے

اعجاز ہی اعجاز ہیں تیرے لبِ گفتار
حکمت کا خزینہ تری شیریں سخنی ہے

منظور مجھے عشقِ نبی ﷺ میں ہے تڑپنا
مطلوب مرا سوزِ اویسِ قرنی ہے

اے گنجِ گہر بار ، ہے خالی مرا دامن
اے رحمتِ کونین ، تری ذات غنی ہے

ترا ہی کرم سینہ و بازوے علی ہیں
تیری ہی عطا جذبہ خیبر شکنی ہے

اے سید و سلطانِ امم ، تیری دُھائی
آلام نے گھیرا ہے مری جاں پہ بنی ہے

مظہر کی تب و تاب سے کچھ ہم بھی ہیں واقف
جاں دادہ ء اندازِ اویسِ قرنی ہے​
 

الف نظامی

لائبریرین
مدینے کی دلکش فضا دیدنی ہے
چمن ساز موجِ ہوا دیدنی ہے

بہر سمت نورِ خدا دیدنی ہے
رُخِ مصطفٰے کی ضیا دیدنی ہے

وہاں ذرے ذرے کے سینے میں دل ہے
جہاں بھی وہ ٹھہرے وہ جا دیدنی ہے

سخی ! تیرے لطف و کرم کے تصدق
غنی ! تیری شانِ عطا دیدنی ہے

گنہگار ہیں زیرِ دامانِ رحمت
غرض حشر کا ماجرا دیدنی ہے

نوا دلبرانہ ، ادا خُسروانہ
مرے شاہ کا ہر گدا دیدنی ہے

گلیم ابوذر ہو یا فقرِ حیدر
محبت کی ہر اِک ادا دیدنی ہے

غُبارِ مدینہ ہے اکسیرِ اعظم
نظر ہو تو یہ کیمیا دیدنی ہے

مرا درد ہی میرا درماں ہے مظہر
مرا درد ، میری دوا دیدنی ہے​
 

الف نظامی

لائبریرین
سکون رُوح کو اور دل کو زندگی مل جائے
مجھے اگر شہِ ﷺ کونین کی گلی مل جائے

جو تیری بارگاہِ ناز کا عطیہ ہو
وہ درد مجھ کو عطا ہو وہ بے کلی مل جائے

تری قسم ترے در کا فقیر ہوں ازلی
طلب یہ ہے کہ ترے در کی چاکری مل جائے

وصال کی تو تمنا ہے پاک بازوں کو
بڑا کرم ہو جو دردِ فراق بھی مل جائے

نواز ، شانِ کریمی کا واسطہ یا رب !
درِ رسول ﷺ سے تھوڑی سی بے خودی مل جائے

حضور ﷺ! میں بھی ہوں امیدوارِ لطف و کرم
حضور ﷺ ! مجھ کو بھی خیرات حسن کی مل جائے

وہی جگہ ہے مری سجدہ گاہ ، میرا حرم
جہاں بھی آپ کے جلووں کی روشنی مل جائے

بس ایک بار توجہ ، بس ایک بار کرم
بس ایک بار مجھے داد نعت کی مل جائے​
 

الف نظامی

لائبریرین
لب پہ ہے گفتگو مدینے کی
اے زہے آرزو مدینے کی

نام لے باوضو مدینے کا
بات کر باوضو مدینے کی

میں کہاں نامراد جاوں گا
دل نوازی ہے خُو مدینے کی

آ کہ تکمیلِ جذب و شوق کریں
آ کریں گفتگو مدینے کی

ہم نے لوٹے ہیں دو جہاں کے مزے
جب بھی کی گفتگو مدینے کی

روحِ کونین کیوں نہ وجد کرے
کیف آگیں ہے بُو مدینے کی

تیری مٹی وہیں کی ہے مظہر
تجھ سے آتی ہے بُو مدینے کی​
 

الف نظامی

لائبریرین
زمیں محترم آسماں محترم ہے
مدینے کا سارا جہاں محترم ہے

جہاں ذکرِ میلادِ خیر البشر ہو
خدا کی قسم وہ مکاں محترم ہے

ترا نام بھی جان و دل سے ہے پیارا
تری یاد بھی جانِ جاں محترم ہے

بسی ہو جہاں تیری زُلفوں کی خوشبو
وہ دل محترم ہے ، وہ جاں محترم ہے

مدینے کا ہر قافلہ ہے مکرم
مدینے کا ہر کارواں محترم ہے

شہِ دیں کا ہر تذکرہ ہے گرامی
شہِ دیں کی ہر داستاں محترم ہے

یہ فیضان ہے ایک امی لقب کا
کہ مظہر کا رنگِ بیاں محترم ہے​
 

الف نظامی

لائبریرین
اسی آرزو میں مری عمر گذری ، اسی آس میں میں نے دن ہیں گذارے
سکوں ریز ہوں گی مدینے کی گلیاں ، مزا دیں گے طیبہ کے رنگیں نظارے

محبت کے فیضان ہی کی بدولت یہ رازِ حقیقت کھلا ہم پہ بارے
شہِ دوسرا کی محبت ہے سچی ، غلط ہیں ہوا و ہوس کے سہارے

وہی ہیں مری عشق و مستی کا عنواں ، وہی ہیں مری زندگی کے سہارے
جو تیرے کرم نے دئیے ہیں دلاسے جو تیری نظر نے کیے ہیں اشارے

بڑھے گا مری سمت دستِ عطا بھی ، وہ فیاض ہیں اور مشکل کشا بھی
دعا لیں گے میری محبت کے آنسو ، جزا پائیں گے میرے دل کے شرارے

ہمیں بھی ہے امید تیرے کرم سے ، ہمیں بھی ملیں گے گہر تیرے یم سے
جہاں گیر ہیں تیری رحمت کی موجیں ، گہر بار ہیں تیری بخشش کے دھارے

دل و جاں فدایت کہ شاہِ حجازی چہ باشد اگر بندہ را نوازی
بہ درگاہِ پاکت فقیرانہ آمد یکے مستمندے ، یکے بے قرارے​
 

الف نظامی

لائبریرین
معراج یہی ہے مری شیریں سخنی کی
توصیف ہے لب پر شہِ مکی مدنی کی

جب بھی نظروں نے کسی پھول کو دیکھا
یاد آئی ہے پیہم تری نازک بدنی کی

بھُولی ہے نہ بھُولے گی فصیحانِ عرب کو
اعجاز نمائی تری شیریں سخنی کی

سرکار ﷺ سرا پردہ ء اسرار سے گذرے
تکرار سرِ طُور تھی ربِ ارنی کی

اُن کے لبِ جاں بخش سے کچھ مانگ کے لالی
تقدیر چمک اُٹھی ہے لعلِ یمنی کی

دُنیا میں انوکھا ہے کرم میرے سخی کا
دُنیا سے نرالی ہے ادا میرے غنی کی

یارب ! دلِ مظہر کو وہی سوز عطا کر
جو سوز تھا قسمت میں اویسِ قرنی کی​
 

الف نظامی

لائبریرین
بُرھانِ عظیم
کس کی زُلفوں کی مہک لائی ہے طیبہ سے نسیم
دل و جاں وجد کُناں جُھک گئے بہرِ تعظیم

مرے خواجہ ﷺ کی عنایت کے مظاہر ہیں تمام
لبِ جاں بخشِ مسیحا ، یدِ بیضائے کلیم

تیری آمد کی مُبشِر ہیں زبُور و انجیل
تری تصدیق میں نازل ہوا قرآنِ حکیم

لبِ داود پہ نغمے تری زیبائی کے
دلِ ایوب و براہیم میں تیری تکریم

خُلد ایک جلوہ ء رنگیں تری رعنائی کا
موجِ دریائے کرم تیری ہے موجِ تسنیم

لوحِ محفوظ ضیا ہے تیری پیشانی کی
ترے ایوان کا زینہ ہے سرِ عرشِ عظیم

تری ایک ایک صدا رحمتِ باری کا پیام
تری ایک ایک ادا حجت و برہانِ عظیم

تری اقلیم کے ساحل ہے ازل اور اَبد
از ازل تا بہ ابد پھیلی ہے تیری اِقلیم

دامنِ مہر میں ہے بھیک ترے جلووں کی
مہ تاباں تری انگشتِ شہادت سے دو نیم

عرش و کرسی ترے دریا میں ہیں مانندِ حباب
سر فگندہ تری درگاہ میں سدرہ کے مقیم

تری رحمت نے گداوں کو بنایا سُلطاں
تری تدبیر نے کی نوعِ بشر کی تنظیم

خالقِ سیرت و کردار ہیں تیرے افکار
ضامنِ عدل و مساوات ہے تیری تعلیم

اُن پہ دنیائے محبت کے خزینے قرباں
تو نے جو گنجِ گہر بار کئے ہیں تقسیم

مظہرِ شانِ خدا تیرے فقیروں کا جلال
غیرتِ اطلس و دیبا ترے بوذر کی گلیم

ترے خدام ہیں پھر تیرے کرم کے محتاج
ترے قرباں ، ترے خدام کی حالت ہے سقیم

اک نظر اے شہِ ﷺ ذی شان مدینے والے
کہ ہر اک درد کا درماں ہے تری ذاتِ کریم​
 

الف نظامی

لائبریرین
لللہِ الحمد غمِ دوری ء منزل نہ رہا
لللہِ الحمد نظر دل میں مدینہ آیا

اُن کا فیضانِ نظر سینہ بہ سینہ پہنچا
اُن کا فیضانِ نظر سینہ بہ سینہ آیا

لبِ جبریل نے سو بار ادب سے چوما
لبِ جبریل پہ جب نامِ مدینہ آیا

عقل کو لذتِ عرفانِ محمد ﷺ نہ ملی
عشق کے ہاتھ یہ نایاب خزینہ آیا

نعت پڑھتا ہوا جب حشر میں مظہر پہنچا
غُل ہوا واصفِ دربارِ مدینہ آیا​
 

الف نظامی

لائبریرین
جامِ طھور
خوشا کہ دیدہ و دل میں ہے جائے آلِ رسول
زہے کہ وردِ زباں ہے ثنائے آلِ رسول

اساسِ دینِ مُبیں ہے وِلائے آلِ رسول
جو سچ کہوں تو ہے ایماں عطائے آلِ رسول

لئے ہے دامنِ دل میں عطائے آلِ رسول
تونگروں سے غنی ہے گدائے آلِ رسول

بہشت و کوثر و جامِ طھور کی ضامِن
صدائے آلِ محمد ﷺ ، نوائے آلِ رسول

میں بوترابی ہوں مجھ کو ملی ہے حبِ علی
مرا وظیفہ ہے مدح و ثنائے آلِ رسول

یہ کیا مقامِ محبت ہے ، کون سی منزل؟
جبینِ شوق ہے اور نقشِ پائے آلِ رسول

شہانِ دہر کا دریوزہ گر خُدا نہ کرے
بڑے مزے سے ہوں زیرِ لوائے آلِ رسول

سرشکِ دیدہ ء خوننابہ بار کیا ، دل کیا؟
ہزار جانِ گرامی فدائے آلِ رسول

وہیں وہیں دلِ دیوانہ لَوٹ لَوٹ گیا
جہاں جہاں بھی ملا نقشِ پائے آلِ رسول

نفس نفس نئی کیفیتوں کا عالم ہے
نفس نفس میں ہے بوئے ولائے آلِ رسول

خوشا نصیب دوعالم میں ہے لقب میرا
فقیرِ کوئے مدینہ ، گدائے آلِ رسول​
 

الف نظامی

لائبریرین
مقصدِ بزمِ کُن فکاں ہیں حضور ﷺ
وجہِ تخلیقِ دوجہاں ہیں حضور ﷺ

مقتدائے پیمبراں ہیں حضور ﷺ
رہبرِ جملہ مُرسَلاں ہیں حضور ﷺ

لامکاں کے بھی راز داں ہیں حضور ﷺ
لامکاں میں بھی ضو فشاں ہیں حضور ﷺ

ہے یہ سب کاروبارِ شوق اُن سے
ہے جہاں جسم اور جاں ہیں حضور ﷺ

اُن کے گیسوئے عنبریں کی قسم
شاہِ خوبانِ دوجہاں ہیں حضور ﷺ

جلوہ فرما وہیں وہیں ہے خدا
جلوہ گستر جہاں جہاں ہیں حضور ﷺ

حشر کا دن ہے یومِ کیف و سُرور
عاصیو ! مژدہ درمیاں ہے حضور ﷺ

ہے خدا کا جمال اُن کا جمال
اِک تجلی ء جاوداں ہیں حضور ﷺ

یہ مرادِ دلِ حلیمہ ہیں
سیدہ آمنہ کی جاں ہیں حضور ﷺ

میرے اشکوں میں ہے نمود اُن کی
میرے اشکوں کے درمیاں ہیں حضور ﷺ​
 

الف نظامی

لائبریرین
ہوسِ جاہ و حشم دل سے نکالی میں نے
دیکھ کر شانِ اویسی و بلالی میں نے

نغمہ و نور کی اک بزم سجا لی میں نے
پا لیا منصبِ رومی و غزالی میں نے

وہ مزے لوٹے ہیں رحمت کے کہ جی جانتا ہے
بن کے درگاہِ محمد ﷺ کا سوالی میں نے

جانے یہ معجزہِ ء شوق تھا یا سوئے ادب
چُوم لی روضہ ء سرکار کی جالی میں نے

مرحلے قرب کے اور بُعد کے سب دُور ہوئے
دل میں رکھ لی تری تصویرِ خیالی میں نے

جب ازل میں ہوئی تقسیم جمال و جلوہ
درِ محبوب ﷺ سے کچھ خاک اٹھا لی میں نے

یہی احساس مری زیست کا سرمایہ ہے
کہ غلامانِ محمد ﷺ سے دُعا لی میں نے

جب بھی دل شکوہ گذارِ غمِ ایام ہوا
دلِ بے تاب کو اک نعت سُنا لی میں نے​
 

الف نظامی

لائبریرین
تضمین بر نعتِ قدسی

دل میں عشقِ شہ کونین کی ہے آگ دبی
عجمی شیشے میں ہے بادہ نابِ عربی
مجھ سا محرومِ ازل اور یہ فیضانِ نبی
مرحبا سیدِ مکی مدنی العربی
دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی


شہِ خوبانِ عرب نازشِ خوبانِ عجم
ترے جلووں سے ضیا گیر ہیں انوارِ حرم
راحتِ جانِ حزیں ہے ، ترا اسمِ اعظم
منِ بیدل بجمالِ تو عجب حیرانم
اللہ اللہ چہ جمال است بدیں بو العجبی


کیف پرور ہے ترے باغِ مدینہ کی بہار
عطر سے بڑھ کے معطر ہے پسینہ تیرا
خاکِ در تیری ہے دنیا کے لئے خاکِ شفا
نسبتے نیست بذاتِ تو بنی آدم را
بہتر از عالم و آدم تو چہ عالی نسبی


یہی مکہ تھا ترے فیضِ کرم کو منظور
یہی وادی ترے جلووں سے ہوئی تھی معمور
چُن لیا صبحِ ازل تیری تجلی نے یہ طور
ذاتِ پاکِ تو دریں ملکِ عرب کردہ ظہور
زاں سبب آمدہ قرآں بہ زبانِ عربی


اے شہنشاہِ امم ! سید و سالارِ امم
ترے کوچے کی زمیں رُوکشِ گلزارِ ارم
ترا ذرہ بھی ہے صحرا ترا قطرہ بھی ہے یم
نسبتِ خود بہ سگت کردم و بس منفعلم
زانکہ نسبت بہ سگِ کوئے تو شد بے ادبی


خواجہ ہر دوسرا سوئے من انداز نظر
شانِ رحمت بنما سوئے من انداز نظر
سیدی ! بہرِ خدا سوئے من انداز نظر
چشمِ رحمت بکشا سوئے من انداز نظر
اے قریشی لقبی ، ہاشمی و مطلبی


بوذر و خالد و صدیق و عمر تیرے غلام
عرش سے تجھ کو پہنچتا ہے درود اور سلام
شہِ کونین ! ترا ہر دلِ زندہ میں مقام
نخلِ شادابِ مدینہ ز تو سر سبز مدام
تاشدہ شہرہ آفاق بہ شیریں رطبی


اے رسولِ عربی ! گوہر نایاب حیات
تجھ سے پائی ہے زمانے نے تب و تابِ حیات
حق نے رکھے ہیں ترے ہاتھ میں اسبابِ حیات
ما ہمہ تشنہ لبانیم و توی آبِ حیات
لطف فرما کہ ز حد می گذر و تشنہ لبی


ہم نے چکھی تھی ترے عشق کی مے یومِ الست
ہم اسی بادہ سرشار کی لذت سے ہیں مست
یہی ایمان ہے ، دنیا کہے اوہام پرست
شبِ معراج عروجِ تو ز افلاک گذشت
بہ مقامیکہ رسیدی نہ رسد ہیچ نبی

 
Top