تبلیغی جماعت کے کارکنوں کا طالبان کے ہاتھوں قتل

ساجد

محفلین
بقول شاعر
"بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی"۔
دل پہ نہیں لینے کا۔
کہ
"سیاست چھوڑ دی میں نے"۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

طالبان کی جانب سے انسانوں کو ذبح کرنے والی ويڈيوز اور اس حوالے سے جن شکوک وشبہات کا اظہار کيا جا رہا ہے، اس ضمن میں ميجر جرنل اطہر عباس (آئ – ايس – پی – آر) کا ٹی وی پروگرام "پاليسی ميٹرز" پر 4 مئ کو ديا گيا بيان بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

http://www.friendskorner.com/forum/f260/talk-show-policy-matters-4th-may-2009-a-110339/#post1167529

انھوں نے يہ واضح کيا کہ جن افراد کو ان ويڈيوز ميں بے دردی کے ساتھ قتل کيا جا رہا ہے، وہ پاکستان فوج کے سپاہی تھے۔ جن افراد نے يہ ويڈوز ديکھی ہيں وہ جانتے ہيں کہ ان ويڈيوز ميں جو پراپيگينڈہ کيا گيا ہے اس کے مطابق جن افراد کو ذبح کيا جا رہا ہے، وہ امريکی جاسوس تھے۔

يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بيہيمانہ قتل اور سر قلم کرنا ان دہشت گردوں کے لیے کوئ نہيں بات نہيں ہے۔ يہ اسی پاليسی کا تسلسل ہے جس کے تحت خوف اور دہشت کے ذريعے لوگوں پر اپنا اثر ورسوخ قائم کرنا ہے۔ صرف دو روز قبل پاکستانی اہلکاروں کے سر قلم کرنے کا واقعہ اسی تسلسل کی ايک کڑی ہے جو تاريخ سے ثابت ہے۔

اب جبکہ پاکستان فوج نے سرکاری طور پر يہ تسليم کر ليا ہے کہ پاکستانی فوجيوں کو ذبح کيا جا رہا ہے تو اس بيان کی روشنی ميں ان ويڈيوز کی حقيقت پر کسی قسم کے شک کی کوئ گنجائش نہيں رہتی۔ جو گروہ نہ صرف براہراست حکومت پاکستان کی رٹ کو چيلنج کر رہے ہيں بلکہ پاکستان فوج کو بھی نشانہ بنا رہے ہيں وہ پاکستان کے ليے واضح خطرہ ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 

گرائیں

محفلین
جب بھی طالبان کے مظالم کے حوالے سے کوئ ويڈيو يا رپورٹ منظر عام پر آتی ہے تو ان کے سپورٹرز اس کو "امريکی يا مغربی پراپيگنڈہ" قرار دے کر نظرانداز کر ديتے ہيں۔ باوجود اس کے کہ طالبان کے ترجمان اس ويڈيو کی حقيقت کو تسليم بھی کر چکے ہوتے ہیں۔

ميں نے طالبان کی جانب سے پاکستان کے مختلف حصوں میں انسانوں کو ذبح کرنے کی ويڈيوز ديکھی ہيں (ظاہر ہے کہ ميں وہ ويڈيوز يہاں پوسٹ نہيں کروں گا)۔ ليکن ان ويڈيوز کو ديکھنے کے بعد ميں آپ پر واضح کر دينا چاہتا ہوں کہ طالبان کی يہ خواہش ہے کہ زيادہ سے زيادہ لوگ يہ ويڈيوز ديکھيں۔ يہ حقيقت ان پيغامات سے واضح ہے جو ان ويڈيوز ميں موجود ہوتے ہیں۔ اگر ان ويڈيوز کے ساتھ پراپيگنڈہ کا کوئ پہلو منسلک ہے تو اس کے ذمہ دار وہ افراد خود ہيں جو مذہبی اور سياسی نقطہ نظر اور سوچ کی آڑ ميں يہ جرائم کر رہے ہيں۔

جو دوست انسانوں کو ذبح کرنے کی ان ويڈيوز کی حقيقت کے بارے ميں شکوک وشبہات رکھتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ طالبان کے اپنے ترجمان مسلم خان کا نقطہ نظر بھی اس حوالے سے سن ليں۔

اپريل 29 کو ٹی وی اينکر عاصمہ چوہدری نے ان سے انسانوں کو ذبح کرنے کے حوالے سے سوال کيا۔ اس ويڈيو ميں 21:20 منٹ پر آپ ان کا جواب سن سکتے ہیں۔

http://www.friendskorner.com/forum/...april-2009-haroon-rasheed-109292/#post1156870

انھوں نے واضح طور پر يہ کہا کہ

"جنھيں ذبح کيا جاتا ہے وہ اس کے مستحق ہيں"۔

کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ جو افراد ٹی وی اور ميڈيا پر نہ صرف يہ کہ قتل کا اعتراف کر رہے ہيں بلکہ مستقبل ميں بھی مزيد جرائم کرنے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہيں، انھيں کسی بھی سياسی مذاکرات يا معاہدے ميں فريق بنانا چاہيے؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

کم از کم یہاں پر میں فواد کی بات کی تصدیق کروں گا۔ یہ بات زیادہ پرانی نہیں ہے، 3 ہفتے قبل ایک بہت متحرک جہادی سے میری ملاقات ہوئی۔ ان صاحب کا کسی کام سے ایبٹ آباد آنا ہوا تھا۔ باتوں باتوں میں کہنے لگے، کہ کتنے افسوس کی بات ہے، شہر کی مارکیٹوں میں کوئی اسلامی سی ڈی نہیں ملتی۔
میں نے جب ان کی توجہ ان سی ڈیوں کی طرف دلائیں جن میں قرآن مجید کی تلاوت، امام کعبہ کی تلاوت اور تراویح کی ریکارڈنگ ، نعتیں اور دوسری اقسام شامل تھیں تو کہنے لگے کہ وہ ان کی بات نہیں کررہے، اور ایک دم میرے ذہن میں جھماکا ہوا، اور میں نے پوچھا کہ کہیں وہ ان سی ڈیوں کی بات تو نہیں کر رہے جن میں مسلمانوں کو امریکی ایجنٹ قرار دیتے ہوئے ذبح کردیا جاتا ہے تو انھوں نے اقرار کیا۔

یہ اور بات کہ مبینہ امریکی جاسوسوں کو یہ سزا کیوں دی جاتی ہے، اور اس کا جواز وہ کہاں سے لاتے ہیں۔ اس کی کوئی دلیل فراہم نہیں کی جاتی۔
لگے ہاتھوں یہ بھی سن لیں۔
مجھے بتایا گیا کہ "مبینہ" امریکی جاسوسوں کو بنی قریظہ کے ساتھ کئے گئے سلوک کے تحت ذبح کیا جاتا ہے جس میں ایک صحابی نے انھی کے قانون کے تحت سات سو سے زیادہ یہودی مردوں کی گردنیں مارنے کا حکم دیا تھا۔
میں نے جب پوچھا کہ وہ تو یہودی تھے اور جنھیں آپ ذبح کرتے ہیں وہ تو مسلمان ہیں، کلمہ گو ہیں۔ تو مجھ پر ایک متاسفانہ نگاہ ڈالنے کے بعد بتایا گیا کہ جو لوگ یہودیوں کا ساتھ دیتے ہیں وہ بھی یہودی ہوجاتے ہیں۔

میں نے فورا حضرت خالد بن ولید کا واقعہ پیش کیا جس میں ایک دوران جب وہ ایک شخص کو قتل کرنے لگے تھے تو اسی وقت اس شخص نے کلمہ پڑھ لیا تھا۔ پھر بھی خالد بن ولید نے اسے قتل کر ڈالا۔ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو علم ہوا تو آپ کافی دن تک رنجیدہ رہے اور خالد سے بات نہیں کی۔ خالد بن ولید نے اپنی صفائی میں غالبا یہ عذر پیش کیا تھا کہ اس نے اپنی جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا۔
رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام نے خالد بن ولید سے سرف اتنا کہا تھا ، " کیا تم نے اس کے دل کو چیر کر دیکھ لیا تھا؟"

آپ یقین جانئے یہ واقعہ بھی ان جہادی کو اپنی بات سے ہٹنے پر مجبور نہ کر سکا۔ جب وہ لاجواب ہوجاتے تو یہ عذر پیش کر کے جان چھڑا لیتے کہ فضل اللہ کی ساتھیوں میں آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہیں جو ایسے کام کر کے طالبان کو بدنام کر رہے ہیں۔

ہمارے ایک محترم کہتے ہیں کہ بنو قریظہ کا یہ قصہ بذات خود مشتبہ ہے، کیونکہ یہود جو کہ پراپیگنڈے کے سلسلے میں اپنے اوپر مظالم کا کوئی بھی واقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اس قصے کے بارے میں خاموش ہیں۔ ورنہ یہ تو ایک بہت بڑا پراپیگنڈہ قصہ ہے مسلمانوں کے خلاف۔
 
Top