تا عمر سفر در سفر ہی رہا میں

ظفری

لائبریرین
ایک مشقت عرصے بعد استاد محترم الف عین کے لیئے:)


تا عمر سفر در سفر ہی رہا میں
اپنے گھر میں بے گھر ہی رہا میں
زمانے بھر کی رہی خبر مجھ کو
خود سے مگر بےخبر ہی رہا میں
ہر کوئی پیشِ نظر رہا اس کے
ایک بس پسِ نظر ہی رہا میں
منزلیں تو خیر کیا نصیب ہوتیں
پیروں کی گرِد سفر ہی رہا میں
شبِ تاریکی یوں راس آئی ظفر
تمام عمر بےسحر ہی رہا میں
 

ظفری

لائبریرین
دیکھئے ۔۔۔۔ نور وجدان نے میری غزل ل کی اصلاح کردی ہے ۔ بہت بہت شکریہ ۔ :)


عُمَر بھر سفر در سفر ہی رہا ہوں
کہ گھر سے میں گو دربدر ہی رہا ہوں

زمانے کی میں گرچہ رکھتا خبر ہوں
مگر خود سے میں بے خبر ہی رہا ہوں

گو ہر کوئی پیشِ نظر تیرے جو تھا
فقط میں کیوں پسّ نظر ہی رہا ہوں

منازل مقدر میں لکھی نہیں ہیں
سو پیروں کی گردِ سفر ہی رہا ہوں

شبِ تاریکی راس کیا ہو ظفر کو
عُمَر ساری میں بے سحر ہی رہا ہوں
 

نور وجدان

لائبریرین
دیکھئے ۔۔۔۔ نور وجدان نے میری غزل ل کی اصلاح کردی ہے ۔ بہت بہت شکریہ ۔ :)


عمر بھر سفر در سفر ہی رہا ہوں
کہ گھر سے میں گو دربدر ہی رہا ہوں

زمانے کی میں گرچہ رکھتا خبر ہوں
مگر خود سے میں بے خبر ہی رہا ہوں

گو ہر کوئی پیشِ نظر تیرے جو تھا
فقط میں کیوں پسِ نظر ہی رہا ہوں

منازل مقدر میں لکھی نہیں ہیں
سو پیروں کی گردِ سفر ہی رہا ہوں

شبِ تاریکی راس کیا ہو ظفر کو
عمر ساری میں بے سحر ہی رہا ہوں
آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے میرے مشورے کو قبول کیا، اصلاح تو اساتذہ کرتے ہیں:) فقط بحر میں لانے کی کوشش کی گئی ہے ..
 

الف عین

لائبریرین
لیکن یہ ٹیگ مجھے نہیں ملا! نور نے بحر درست کر ہی دی ہے، اب اس کی اصلاح کی جائے؟
بہر حال
عُمَر بھر سفر در سفر ہی رہا ہوں
کہ گھر سے میں گو دربدر ہی رہا ہوں
.. عمر میں م پر جزم ہے
دوسرے میں کہ اور گو دونوں ایک ساتھ غیر ضروری ہیں

زمانے کی میں گرچہ رکھتا خبر ہوں
مگر خود سے میں بے خبر ہی رہا ہوں
.. میں خبریں تو رکھتا ہوں سارے جہاں کی...
بہتر ہو گا

گو ہر کوئی پیشِ نظر تیرے جو تھا
فقط میں کیوں پسّ نظر ہی رہا ہوں
... پہلے مصرع کی بندش بہتر نہیں
گو ہر کوئی پیش نظر تھا جو تیرے
دوسرے مصرعے میں 'کیوں' محض ک رہ جاتا ہے
یہ میں ایک....، یہ کیوں ہے، میں... یا کچھ اور طرح سے اسے تبدیل کیا جائے

منازل مقدر میں لکھی نہیں ہیں
سو پیروں کی گردِ سفر ہی رہا ہوں
.. درست

شبِ تاریکی راس کیا ہو ظفر کو
عُمَر ساری میں بے سحر ہی رہا ہوں
.. اس میں بھی عمر کا تلفظ علط ہے، پہلا مصرع بھی بحر سے خارج ہے
شب تار کیا راس آئے ظفر کو ہو سکتا ہے لیکن ایک اور مسئلہ ہے، اگر پہلے میں ظفر کو لایا جائے تو دوسرے میں ردیف درست نہیں ہوتی کہ بے سحر ہی رہا ہے ہونا چاہئے تھا۔
اب تم خود ہی اس کی اصلاح کرو
 

ظفری

لائبریرین
مجھے بھی یہی گمان تھا کہ آپ کو ٹیگ نہیں ملا ۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ آپ اپنے سب سے زیادہ نالائق شاگرد کو کیسے نظرانداز کرسکتے ہیں ۔ :)
آپ نے اصلاح کیساتھ رہنمائی بھی کی ۔ اس کے لیئے ہمیشہ کی طرح میں آپ کاممنون ہوں ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
دیکھئے ۔۔۔۔ نور وجدان نے میری غزل ل کی اصلاح کردی ہے ۔ بہت بہت شکریہ ۔ :)


عُمَر بھر سفر در سفر ہی رہا ہوں
کہ گھر سے میں گو دربدر ہی رہا ہوں
کچھ خیالات ذہن میں آئے ۔ ۔ شائد آپ کے کچھ کام آ سکیں ۔ ۔

یہ متبادل دیکھیئے ۔ ۔
ہمیشہ سفر در سفر ہی رہا ہوں
ٹھکانے سے میں دربدر ہی رہا ہوں



گو ہر کوئی پیشِ نظر تیرے جو تھا
فقط میں کیوں پسّ نظر ہی رہا ہوں

جو دیکھا سبھی تیرے پیشِ نظر تھے
فقط میں کیوں زیرِ نظر ہی رہا ہوں
 

صابرہ امین

لائبریرین
بہت بہت شکریہ صابرہ امین صاحبہ ۔ میں آپ کی توجہ کے لیئے ممنون ہوں ۔ آپ کی اصلاح میری شاعری میں مذید تقویت پیدا کرے گی۔ :)
ویسے تو ہم خود بھی مبتدی ہی ہیں مگر جو بن پڑا بتا دیں گے ۔ ۔ ہاں آپ کے خیالات کافی عمدہ ہیں ۔ ۔ ۔ کوشش کریں کہ ضائع نہ جائیں ۔ ۔ :)
 

سیما علی

لائبریرین
مجھے بھی یہی گمان تھا کہ آپ کو ٹیگ نہیں ملا ۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ آپ اپنے سب سے زیادہ نالائق شاگرد کو کیسے نظرانداز کرسکتے ہیں ۔ :)
آپ نے اصلاح کیساتھ رہنمائی بھی کی ۔ اس کے لیئے ہمیشہ کی طرح میں آپ کاممنون ہوں ۔
شبِ تاریکی راس کیا ہو ظفر کو
عُمَر ساری میں بے سحر ہی رہا ہوں
بے حد کمال
ظفری جیتے رہیے:in-love:
 
Top