بابا بلھے شاہ بے بول دی وی تینوں سمجھ نا ہی

بے بول دی وی تینوں سمجھ نا ہی
جیڑا نت تیرے وچ بولدا اے
اوبولے وچ تیرے تو ڈونڈے باہر اس نوں
وانگ مرغیاں دے کوڑاپھولدا ایں
بھلا بوجھ ہاں کون ہے وچ تیرے
شاید او ہوے جنوں تولدا ایں
بلےشاہ جدا نہں رب تےتھوں اپے آواز مارے اپے بولدا اے
 

نایاب

لائبریرین
جی ہاں ! جناب عالی! ہم نے تو سمجھا تھا کہ دانش منداں را اشارہ کافی است۔ بے شک ہماری مراد ترجمہ کلام ہی ہے۔

میرے محترم بھائی ۔ دانش مند کہہ کر کیوں مذاق اڑاتے ہیں ۔
میں تو ٹھہرا جاہل ان پڑھ ۔ آپ جیسے صاحب علم بزرگوں کی جوتیاں سیدھی کرتے جو سنتا پڑھتا ہوں اسے نقل کر آگے بڑھا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
بے بول دی وی تینوں سمجھ نا ہی
جیڑا نت تیرے وچ بولدا اے
اوبولے وچ تیرے تو ڈونڈے باہر اس نوں
وانگ مرغیاں دے کوڑاپھولدا ایں
بھلا بوجھ ہاں کون ہے وچ تیرے
شاید او ہوے جنوں تولدا ایں
بلےشاہ جدا نہں رب تےتھوں اپے آواز مارے اپے بولدا اے

جیسے " الف اللہ چنبے دی بوٹی "
ویسے ہی " ب سے بول " بناتے بلھے شاہ سرکار فرما رہے ہیں کہ
بے بول دی وی تینوں سمجھ نا ہی
تو کیسا نادان نا سمجھ ہے تجھے اس " بول " (صدا آواز کلمہ ) کی سمجھ بھی نہیں آرہی ۔
جیڑا نت تیرے وچ بولدا اے
کہ یہ کون ہے جس کی آواز جس کی صدا ہ ہر پل تیرے اندر گونجتی ہے ۔
(یہ آواز کیا ہے یہ کلمہ کیا ہے یہ صدا کیا ہے ؟) کچھ اسے " میں " سے منسلک کرتے ہیں اور کچھ اسے " میں کون ہوں میری حقیقت کیا ہے " کوباطن سے ابھرنے والا سوال قرار دیتے ہیں ۔ اکثریت " میں " کو اس بول کا مصداق قرار دیتی ہے ۔ اور " انا الحق " کی صدا لگاتے سولی چڑھ جانے والے حلاج کو اس کی دلیل بناتی ہے ۔
اوبولے وچ تیرے تو ڈونڈے باہر اس نوں
وہ تیرے اندر بول رہا ہے اور تو اسے باہر تلاش کر رہا ہے ۔
وانگ مرغیاں دے کوڑاپھولدا ایں
تو اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کیئے بنا حقیقت کی تلاش میں ادھر ادھر مارا مارا پھر رہا ہے ۔
بھلا بوجھ ہاں کون ہے وچ تیرے
ذرا اپنے اندر اتر اور جان تو سہی کہ کون ہے تیرے اندر
شاید او ہوے جنوں تولبھدا ایں
ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے تو ڈھونڈتا پھرتا ہے ۔
بلےشاہ جدا نہ رب تےتھوں
بلھے شاہ وہ سچا رب تجھ سے الگ نہیں
اپے آواز مارے اپے بولدا اے
وہ خود ہی تیرے اندر سوال پیدا کرتا ہے اور خود ہی جواب دیتا ہے ۔
یہ کلام مجموعی طور پر " وحدت الوجود " کے فلسفے کا عکاس ہے ۔ اور اس کی اساس " نفخ " پر ہے ۔اور یہ " جس نے خود کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو جان لیا ۔ حقیقت کو پا لیا ۔ " پر استوار ہے ۔
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
میرے محترم بھائی ۔ دانش مند کہہ کر کیوں مذاق اڑاتے ہیں ۔
میں تو ٹھہرا جاہل ان پڑھ ۔ آپ جیسے صاحب علم بزرگوں کی جوتیاں سیدھی کرتے جو سنتا پڑھتا ہوں اسے نقل کر آگے بڑھا دیتا ہوں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
جیسے " الف اللہ چنبے دی بوٹی "
ویسے ہی " ب سے بول " بناتے بلھے شاہ سرکار فرما رہے ہیں کہ
بے بول دی وی تینوں سمجھ نا ہی
تو کیسا نادان نا سمجھ ہے تجھے اس " بول " (صدا آواز کلمہ ) کی سمجھ بھی نہیں آرہی ۔
جیڑا نت تیرے وچ بولدا اے
کہ یہ کون ہے جس کی آواز جس کی صدا ہ ہر پل تیرے اندر گونجتی ہے ۔
(یہ آواز کیا ہے یہ کلمہ کیا ہے یہ صدا کیا ہے ؟) کچھ اسے " میں " سے منسلک کرتے ہیں اور کچھ اسے " میں کون ہوں میری حقیقت کیا ہے " کوباطن سے ابھرنے والا سوال قرار دیتے ہیں ۔ اکثریت " میں " کو اس بول کا مصداق قرار دیتی ہے ۔ اور " انا الحق " کی صدا لگاتے سولی چڑھ جانے والے حلاج کو اس کی دلیل بناتی ہے ۔
اوبولے وچ تیرے تو ڈونڈے باہر اس نوں
وہ تیرے اندر بول رہا ہے اور تو اسے باہر تلاش کر رہا ہے ۔
وانگ مرغیاں دے کوڑاپھولدا ایں
تو اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کیئے بنا حقیقت کی تلاش میں ادھر ادھر مارا مارا پھر رہا ہے ۔
بھلا بوجھ ہاں کون ہے وچ تیرے
ذرا اپنے اندر اتر اور جان تو سہی کہ کون ہے تیرے اندر
شاید او ہوے جنوں تولبھدا ایں
ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے تو ڈھونڈتا پھرتا ہے ۔
بلےشاہ جدا نہ رب تےتھوں
بلھے شاہ وہ سچا رب تجھ سے الگ نہیں
اپے آواز مارے اپے بولدا اے
وہ خود ہی تیرے اندر سوال پیدا کرتا ہے اور خود ہی جواب دیتا ہے ۔
یہ کلام مجموعی طور پر " وحدت الوجود " کے فلسفے کا عکاس ہے ۔ اور اس کی اساس " نفخ " پر ہے ۔اور یہ " جس نے خود کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو جان لیا ۔ حقیقت کو پا لیا ۔ " پر استوار ہے ۔
جیو نایاب صاحب جیو! اللہ آپ کی عمر دراز فرمائے۔ واہ کس قدر پتے کی بات ہے اور کتنا بڑا فلسفہ کتنے آسان لٍفظوں میں بیان کر دیا ہے۔ یہ صوفیوں کا کمال ہے۔
 
Top