بیت بازی سے لطف اٹھائیں (5)

شمشاد

لائبریرین
تصحیح کا بہت شکریہ جناب ، ورنہ میں اس شعر کو ایسے ہی پڑھتی ۔
پوری غزل پیش خدمت ہے :

یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا
(چراغ حسن حسرت)
 

شمشاد

لائبریرین
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
رابعہ علی اردو محفل میں خوش آمدید

آپ تعارف والے زمرے میں آئیں اور اپنا تعارف دیں تاکہ دوسرے اراکین اردو محفل آپ سے متعارف ہو سکیں۔

کسی بھی قسم کی مدد کے لیے اردو محفل کے کسی بھی رکن سے کہہ سکتی ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
ہمیں پینے سے مطلب ہے جگہ کی قید کیا بیخودؔ
اسی کا نام جنت رکھ دیا بوتل جہاں رکھ دی
(بیخود دہلوی)
 
نہیں آتے ہمیں آداب شاہی کون کہتا ہے
تمہیں ہر دور میں ظل الہی کون کہتا ہے
تمہارے حکم پر ہم لوگ دن کو رات کہتے ہیں
وگرنہ یوں سفیدی کو سیاہی کون کہتا ہے
 
اسے دل سے لگا کر فاتحانہ چھوڑ دیں گے
کوئ دو چار دن ہم مسکرانا چھوڑ دیں گے
محبت عمر بھر تم سے کریں گے اور تم کو
بزرگوں کے کہے پر عاجزانہ چھوڑ دیں گے
 

شمشاد

لائبریرین
یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
(شاد عظیم آبادی)
 
Top