بیت بازی سے لطف اٹھائیں (5)

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے کتبے بھی پڑھا کر
‏رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا

وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آگئی
احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا
 
یہ کیسا شہر ہے جس میں مکمل گھر نہیں ملتا
کسی کو چھت نہیں ملتی کسی کو در نہیں ملتا

اٹھا رکھے ہیں اپنے نا مکمل جسم لوگوں نے
کسی کے پاوں غائب ہیں کسی کا سر نہیں ملتا
 

شمشاد

لائبریرین
یہ کیسا شہر ہے جس میں مکمل گھر نہیں ملتا
کسی کو چھت نہیں ملتی کسی کو در نہیں ملتا

اٹھا رکھے ہیں اپنے نا مکمل جسم لوگوں نے
کسی کے پاوں غائب ہیں کسی کا سر نہیں ملتا
بہت خوب اشعار ہیں۔ اگر صاحب کلام کا نام بھی شامل کر دیاکریں تو مزہ دوبالا ہو جائے۔
 

شمشاد

لائبریرین
اندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا شرمائی
دھندلی چھب تو یاد رہی کیسا تھا چہرہ بھول گیا
(میرا جی)
 
یہ کیسا شہر ہے جس میں مکمل گھر نہیں ملتا
کسی کو چھت نہیں ملتی کسی کو در نہیں ملتا

اٹھا رکھے ہیں اپنے نا مکمل جسم لوگوں نے
کسی کے پاوں غائب ہیں کسی کا سر نہیں ملتا
دراصل بعض اشعار گمنام شعرا کے ہوتے ہیں اور بہت بہترین ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ان اشعار کے شعراء کے نام معلوم نہیں ہوتے۔
 

شمشاد

لائبریرین
Top