بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے ۔ شعیب تنویر

اس غزل کے شاعر کا نام شعیب تنویر لکھا ہوا ہے۔کیا اسے کوئی جانتا ہے ؟


بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے
گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے

یہاں سب کے مقدر میں فقط زخمِ جدائی ہے
سبھی جھوٹے فسانے ہیں وصالِ یار کے قصے

بھلا عشق و محبت سے کسی کا پیٹ بھرتا ہے
سنو تم کو سناتا ہوں میں کاروبار کے قصے

مرے احباب کہتے ہیں یہی اک عیب ہے مجھ میں
سرِ دیوار لکھتا ہوں پسِ دیوار کے قصے

کہانی قیس و لیلیٰ کی بہت ہی خوب ہے لیکن
مرے دل کو لبھاتے ہیں رسن و دار کے قصے

میں کیسے خون روتا ہوں وطن کی داستانوں پر
کبھی تم بھی تو سُن جاؤ مرے آزار کے قصے

شعیب اکثر میں لوگوں سے اسی کارن نہیں ملتا
وہی بے کار کی باتیں وہی بے کار کے قصے
 

محمداحمد

لائبریرین
یہ خوبصورت غزل شعیب تنویر کی ہے جو محفلِ سخن کے "کرتا دھرتا" ہیں اور بہت اچھے شاعر ہیں۔ محفلِ سخن میں یہ غزل یہاں موجود ہے۔

بہت شکریہ اس شئرنگ کے لئے۔
 
Top