بھینس کے آگے بین بجانا

محمد بلال اعظم

لائبریرین
بھینس کے آگے بین بجانا
بڑے بوڑھوں سے سنتے آئے ہیں کہ بھینس کے آگے بین بجاﺅ تو وہ زیادہ دودھ دیتی ہے۔ ہائے افسوس کہ جاسوسی کے شوق نے یہ کام بھی کروا ڈالا۔ ہمارے بہت ہی شریف سے ہمسائے جنہوں نے بھینسوں کا پورا خاندان پالا ہوا تھا ، ایک دن کسی کام سے اپنے کسی عزیز کے ہاں تشریف لے گئے، مگر غلطی سے بھینسوں کے باڑے کا دروازہ کھلا چھوڑ گئے۔ بس پھر کیا تھا نہ تپتی دھوپ کا احساس کیانہ چلچلاتی گرمی کا خیال۔ ساتھ والے کی سو سال پرانی دکا ن سے ایک بین ادھار لی اور چل پڑے شوق کی تکمیل کے لئے۔ سب سے چھپتے چھپاتے جو نہی باڑے میں داخل ہوئے ایک بھینس بچاﺅ بچاﺅ چلانے لگی جیسے ہم کوئی چور اچکے ہوں۔ ہم نے فوراَ ایک خاموش کونے میں کھڑی ایک خاموش بھینس کا انتخاب کیا اور بین بجانا شرو ع ہو گئے۔مگر وہاں تو دودھ کا نام و نشان بھی نہ تھا البتہ بھینس صاحبہ کی چیخ و پکار ضرور فضا میں بے سرا رس گھول رہی تھی اور پورا محلہ ابا حضور کی قیادت میں اس سُر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہماری طرف جاہ و جلال کے ساتھ آرہا تھا، یہ تو ہمیں بعد میں پتہ لگا کہ ان سب کی خبر بھینس کی چیخوں کے علاوہ ہمارے سب سے جگری دوست، ابا حضور کے دوست کے بیٹے نے ہی ابا کو دی تھی، دراصل موصوف نے ہم سے پرانا بدلہ لیا تھا کہ ہم نے ان کی سائیکل میں سے ایک دن میں تین دفعہ ہوا نکال دی تھی۔۔ہم نے بھاگنے کی بھی کوشش کی مگر بے سود۔ آگے کی کہانی کچھ یوں سمجھ لیجیے کہ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔خیر یہ تو تھی بچپن کی بات۔ جب تھوڑا سا ہوش سنبھالا اور فکرِ فردا نے گھیراتو اپنے ساتھ ساتھ اپنے ہم وطنوں کی فکر بھی دل و دماغ پہ چھائی، بڑے غور و فکر کے بعد سیاست کے پیشے پہ ہماری نظرِ کر م آ کے ٹھہری۔ مگر یہاں تو عوام بھینس کا کردار نبھا رہی تھی اور سیاست دان بین بجانے میں مصروف تھے بلکہ ہے۔حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ64سال گزرنے کے باوجود بھی یہ بین بجانے کی رسم جاری و ساری ہے۔ کبھی کوئی فوجی بندوقوں سے بین بجاتا ہے تو کبھی کوئی بیان بازی سے۔ فوجی بین کو آمریت اور بیان بازی والی کو جمہوریت کا خوبصورت نام دیا گیا ہے جبکہ ساختی لحاظ سے دونوں میں صرف رنگ کا فرق ہے مال ایک جیسا ہے یعنی ڈھائی نمبر۔اب اس سے پہلے کہ کوئی آکہ اس پہ بھی بین بجانی شروع ہو جائے ہم بھی ہوتے ہیں ندارد اور آپ بھی اپنا بندوبست کر لیجیے۔​
(محمد بلال اعظم)​
 

شمشاد

لائبریرین
عوام بھی تو بین کی عادی ہو چکی ہے ناں۔ دودھ تو خیر نہ وہ بھینس دیتی ہے نہ یہ۔ گوالہ البتہ معلوم نہیں کہاں سے دودھ پورا کر لیتا ہے۔
 

عدیل منا

محفلین
بین میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا اور جو ترجمہ کے بغیر ہو اس کی سمجھ بھی نہیں آتی۔ بھینس +عوام کا اس میں کیا قصور۔:)
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
بین میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا اور جو ترجمہ کے بغیر ہو اس کی سمجھ بھی نہیں آتی۔ بھینس +عوام کا اس میں کیا قصور۔:)

بے قصور ہونا ہی سب سے بڑا قصور ہے۔
جس کا قصور ہو اس کی تو بہت عزت کی جاتی ہے۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
عروجِ آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں:applause::applause::applause::applause:

بہت خوب بلال، :applause::applause: اسے کہتے ہیں ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات پالنے میں ہی نظر آ جاتے ہیں:eek:

جیتے رہو، اور بین بجاتے رہو:)
 

Nadir Khan Sargiroh

محفلین
محمد بلال اعظم صاحب
اپنی مختصر تحریر میں آپ نے معنی خیز اشارے دیے ہیں۔
" پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی "
اِس مصرعے کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ جملے کا حصہ بنا کر ،
جملے اور بعد کے قصے کو مہارت سے سمیٹا ہے۔
اگر اِس تحریر کے دو حصے کیے جائیں تو مجھے۔ ۔ دوسرے حصے میں زبان پر گرفت
پہلے حصے کے مقابلے میں زیادہ بہترنظر آئی۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
محمد بلال اعظم صاحب
اپنی مختصر تحریر میں آپ نے معنی خیز اشارے دیے ہیں۔
" پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی "
اِس مصرعے کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ جملے کا حصہ بنا کر ،
جملے اور بعد کے قصے کو مہارت سے سمیٹا ہے۔
اگر اِس تحریر کے دو حصے کیے جائیں تو مجھے۔ ۔ دوسرے حصے میں زبان پر گرفت
پہلے حصے کے مقابلے میں زیادہ بہترنظر آئی۔

اس درجہ حوصلہ افزائی اور پذیرائی پہ آپ کا بیحد ممنون و مشکور ہوں۔
سدا سلامت رہیں۔
خوش رہیں۔
 
Top