1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

بچپن کی حماقتیں

سید عمران نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 9, 2019

  1. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,880
    جھنڈا:
    Pakistan
    یعنی یہ ابھی پروسیسنگ کے مرحلہ میں ہیں؟؟؟
    :eek::eek::eek:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  2. اے خان

    اے خان محفلین

    مراسلے:
    4,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    اللہ خیر کرے محمد عدنان اکبری نقیبی بھائی آ رہے ہیں
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  3. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,880
    جھنڈا:
    Pakistan
    اچھی بات ہے۔۔۔
    مل کر نمٹتے ہیں ان سے۔۔۔
    ویسے بھی دعوت والے دن گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہے تھے۔۔۔
    اس کا حساب بھی چکتا کرنا ہے ابھی!!!
    :terror::terror::terror:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • متفق متفق × 2
  4. اے خان

    اے خان محفلین

    مراسلے:
    4,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    ہاں یہ بات تو ہے. لیکن وہ اب شاید آنے والے نہیں
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  5. اے خان

    اے خان محفلین

    مراسلے:
    4,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    ہاں یہ بات تو ہے. لیکن وہ اب شاید آنے والے نہیں
     
  6. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,880
    جھنڈا:
    Pakistan
    دیکھا ڈر کے بھاگ گئے۔۔۔
    کیا دہشت ہے اپنی بھی!!!
    :terror::terror::terror:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • متفق متفق × 1
  7. اے خان

    اے خان محفلین

    مراسلے:
    4,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    ہاہاہاہا
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  8. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    یعنی لبرل سچے ہیں ۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  9. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,880
    جھنڈا:
    Pakistan
    آپ بھی لٹرل سچے ہیں!!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  10. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ;)
     
  11. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,661
    یہ عزت کون ہے جو آپ کو پیاری ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 7
  12. اے خان

    اے خان محفلین

    مراسلے:
    4,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    ہوگی کوئی عزت جہاں، عزت آراء، عزت بیگم وغیرہ
     
    • پر مزاح پر مزاح × 8
  13. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,661
    آپ عزت افزائی کب کررہے ہیں
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  14. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,880
    جھنڈا:
    Pakistan
    وہی جو سب کو پیاری ہے!!!
    ;););)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  15. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,880
    جھنڈا:
    Pakistan
    صبح کے آٹھ بجے تھے۔ ہم خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے۔ نجانے فون کی گھنٹی کب سے بج رہی تھی۔ آہستہ آہستہ دماغ جاگنا شروع ہوا۔ کانوں میں گھنٹی کی آواز آنے لگی۔ مگر بستر چھوڑنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ تنگ آکر نیم وا آنکھوں سے بستر چھوڑا، آدھے سوتے آدھے جاگتے ٹیلی فون تک پہنچے۔ ریسیور اٹھایا ۔ کسی کی آواز سنائی دی :
    ’ ’ہیلو۔‘‘
    ’’جی، ہیلو۔‘‘
    فون پر گڑیا تھی۔ ہماری آواز سنتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی:
    ’’امی کا انتقال ہوگیا !!!‘‘
    ’’ہیں۔ کیا کہا؟؟؟‘‘ ہم نے بوکھلا کر تیز آواز میں پوچھا۔ ساری نیند اڑ گئی۔ ہمیں پریشان دیکھ کر وہ زور زور سے رونے لگی۔ ہچکی بندھ گئی۔ کچھ بولا نہیں گیا۔ اور ریسیور رکھ دیا۔
    ہم وہیں کرسی پر بیٹھ گئے۔ دماغ سائیں سائیں کرنے لگا ۔ تصور میں نعمت خالہ کا بھاری بھرکم ہاتھ گھوم گیا۔ اف اتنا بھاری جنازہ کیسے اٹھائیں گے۔ ہمیں اپنی پڑگئی۔ لاحول ولا قوۃ۔ ہم نے سر جھٹک کر اس بے ہودہ خیال کو ہٹایا۔ اب دو فکریں تھیں۔ ایک یہ کہ کزنز پر کیا گزر ر ہی ہوگی۔ دوسری یہ کہ نانی اور اماں کو کیسے بتائیں۔ نانی اس بڑھاپے میں جوان بیٹی کا صدمہ کیسے برداشت کریں گی۔
    نیند کا خمار اتر چکا تھا۔ تھوڑے حواس بحال ہوئے تو خیال آیا ناشتہ کرلینا چاہیے۔ ورنہ پھر کھانے پینے کا موقع نہیں ملے گا۔ اس کمینے خیال کو فوراً عملی جامہ پہنایا۔ جلدی سے ناشتہ تیار کیا، اطمینان سے کھایا اور اماں کو جگانے ان کے بیڈ روم پہنچ گئے۔ یوں بے وقت اٹھائے جانے پر اماں کے تفتیشی مراحل بھی طے کرنے تھے۔ اماں کو اٹھا کر ان کے لیے ناشتہ بنایا۔ جب وہ ڈائننگ ٹیبل پر آئیں تو ناشتہ تیار تھا۔ یہ شاید پہلا موقع تھا جو اماں کے لیے ناشتہ تیار تھا۔ وہ تشویشی نگاہوں سے گھورنے لگیں:
    ’’ میرے پاس فضول فرمائشوں کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘ اماں سلائس پر مکھن لگاتے ہوئے ناگواری سے بولیں۔
    ’’ہمیں پیسے نہیں چاہئیں۔‘‘
    ’’ اس لیپا پوتی کی ضرورت کیا پیش آگئی؟ کہیں مٹر گشتی کا پروگرام بنالیا؟‘‘ اماں ہمارے سیر سپاٹوں سے تنگ تھیں۔
    ’’ہم کہیں نہیں جارہے۔‘‘
    ’’پھر یہ سارا گھڑاک کیوں پھیلایا؟‘‘ اماں کا اشارہ بے تحاشہ پھیلے ہوئے کچن کی طرف تھا۔ مجال ہے جو ہماری بے لوث خدمت سے خوش ہوجائیں۔
    اماں نے ناشتہ کرلیا تو ہم نے جی کڑا کرکے بتانا شروع کیا:
    ’’گڑیا کا فون تھا۔ نعمت خالہ کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔‘‘ ہمارا ارادہ تھا آہستہ آہستہ بتائیں۔ ایک دم شاک دینا مناسب نہیں۔
    ’’اس کو کیا ہوا۔ بالکل ہٹی کٹی ہے۔ بلکہ آج تو قدسیہ آپا کے جانے کا ارادہ ہے۔‘‘
    ’’اب بھول جائیں وہاں جانے کو۔‘‘
    ’’تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا۔‘‘ مجال ہے جو اماں کبھی صدمہ جیسی کیفیت سے دوچار ہوجائیں۔اماں کے مضبوط اعصاب دیکھ کر ہم نے مزید ڈرامہ بازی بند کردی اور سب کچھ صاف صاف بتادیا۔
    ’’تمہیں یقین ہے فون پر گڑیا ہی تھی؟‘‘ اماں کا شک ہمارا یقین ڈگمگانے لگا۔
    ’’رو رہی تھی۔ پر آواز اسی کی لگی۔‘‘
    ’’ہائے۔ امی جان کو کیسے بتائیں گے۔‘‘ اماں کو نعمت خالہ سے زیادہ نانی کی فکر لگ گئی۔
    ’’فون ملاؤں نانی کو۔‘‘ ہم نے پھرتی دکھانی چاہی مگر روک دیا گیا۔
    ’’ٹھہرو۔ پہلے نعمت خالہ کے فون کرکے تفصیل پوچھو۔ انہیں کیا ہو گیا تھا۔ انتقال کی وجہ کیا بنی؟‘‘
    ہم نے دھڑکتے دل اور لرزتے ہاتھوں سے فون ملایا۔ بھاری بھرکم جنازے کا بوجھ اٹھانے کا خوف پھر تصور میں آدھمکا۔ ہم نے سر جھٹک دیا۔ جلد ہی دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا۔
    ’’ہیلو۔‘‘ آواز نعمت خالہ کی تھی۔ ہمیں ایک زور دار چکر آیا۔ کانوں پر یقین کرنا مشکل تھا۔
    ’’ہیں، آپ مری نہیں ؟‘‘ حیرت اور صدمہ ہمارے حواس پر غالب تھا۔
    ’’کیا بکواس ہے۔‘‘ نعمت خالہ غصہ سے چیخیں۔
    اماں نے ریسیور چھین لیا۔
    ’’ہائیں، تم زندہ ہو؟‘‘ اماں کی حیرت بھی بجا تھی۔ ہماری خبر کی رو سے نعمت خالہ کو زندہ نہیں بچنا چاہیے تھا۔ ہم نے کان ریسیور سے لگادئیے۔
    ’’ باجی، تم لوگ ہوش و حواس میں تو ہو۔ کیوں صبح صبح مجھے مارنے پر تل گئے۔‘‘ اماں کے ہوش و حواس پہلے نہیں تو اب ضرور گم تھے۔ نعمت خالہ کو کیا جواب دیتیں۔ فوراً فون رکھ دیا۔
    ’’بدتمیز، کس کو مار دیا۔‘‘ اماں سر پکڑے بیٹھی تھیں۔
    ادھر نعمت خالہ بھی بے چین تھیں۔ کوئی انہیں اجتماعی طور پر مار دے اور وہ مطمئن بیٹھی رہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ فوراً فون گھمایا۔ اماں نے اٹھالیا۔ چھوٹتے ہی کہا:
    ’’برا نہ ماننا۔ صبح ہی صبح کسی کا فون آیا تھا کہ امی کا انتقال ہوگیا ۔ آواز گڑیا کی لگی اسی لیے تم پر شک گیا۔‘‘
    نعمت خالہ کچھ دیر سوچنے کے بعد بولیں :
    ’’بھابھی کی امی بیمار تھیں کہیں وہی نہ ہوں۔‘‘
    اماں نے جھٹ چھوٹی ممانی کے گھر فون گھمایا۔ انہوں نے ہی اٹھایا۔ رو رہی تھیں۔ اماں سمجھ گئیں یہی جائے وقوعہ ہے۔ انہیں تسلی دی۔ آنے کا وعدہ کیا۔ اور ہمیں صرف گھورنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ماں ہونے کے کئی ناجائز فوائد بھی حاصل کیے۔ہم آئندہ کئی روز اپنی چوٹیں سہلاتے رہے۔ابھی تو نعمت خالہ سے بھی دو دو ہاتھ ہونے باقی ہیں۔

    ہمارے تصور میں ان کا بھاری بھرکم ہاتھ گھومنے لگا!!!
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 12, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 5
  16. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,661
    آپ کے خاندان میں بچوں کے حقوق کا خوب جنازہ نکالا جاتا ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 9
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,769
    حقوق طفلاں کی تنظیمیں کدھر ہیں؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  18. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,880
    جھنڈا:
    Pakistan
    اب آگئیں!!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  19. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    کہاں ہیں ؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  20. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    10,880
    جھنڈا:
    Pakistan
    آپ کو نظر نہیں آئیں گی۔۔۔
    اس کے لیے دیدۂ بینا اور چشمِ فراست وغیرہ جیسے پیچدہ آلات درکار ہیں!!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4

اس صفحے کی تشہیر