بلجیم، جرمنی اور فرانس کی سیر

عرفان سعید

محفلین
کلیسا کے ایک مینارے کے بلند ترین مقام پر جانے کے لیے گول گھومتی ہوئی سیڑھیاں تھیں۔ چوڑائی بہت کم تھی اور آنے اور جانے والوں کے لیے یہی زینے استعمال ہوتے ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ روشنی بھی کم تھی۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنے پڑ رہے تھے اور کئی مقامات پر تنگی کے باعث رکنا پڑا۔
جب دو سو سیڑھیاں چڑھ چکے اور ابھی ہانپ ہی رہے تھے تو واپس آتے ایک امریکی جوڑے نے ہنستے ہوئے کہا کہ بس تھوڑی ہمت اور تین سو پچیس باقی ہیں۔ پھر مت پوچھیں کہ کیا ہوا۔ لیکن آخر سب سے بلند مقام پر پہنچ گئے۔

 
Top