بلاعنوان۔۔

مقدس

لائبریرین
ماں باپ کو اپنے داماد سے بات کرنا چاہئیے تھی یا کم از کم قانون کا ہی سہارا لیتے۔ اور اوپر سے شوہرِ نام دار جو نکھٹو ہونے کے باوصف اپنا غصہ اپنی شریک حیات کو مار پیٹ کر نکالتے تھے اور بالآخر اس کی جان لے کر رہے۔
بھائی جب ان کو اپنا بھانجا بھتیجا غلط ہی نہیں لگتا تھا تو بات کیا کرنی تھی اس سے انہیں
 

مقدس

لائبریرین
معاشرے نے کسی صورت آرام سے رہنے نہیں دینا ہوتا ، مذہب پر پورا عمل کریں تو بھی یہی معاشرہ انگلیاں اٹھاتا ہے ۔ سمجھ دار وہی ہے جو اپنا حق ضرور لے اور کسی کا حق نہ دبائے۔ قربانی کی ایسی داستانوں کی مذہب میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

آئی ایگری۔۔۔ فُلی
 
کیونکہ پاکستانی یہاں بھی ہیں۔۔ بلکہ صرف پاکستانی نہیں ایشنز آئی شڈ سئے
مجھے دکھ ہے اس بات کا بہت زیادہ ، لیکن یہ جہالت کی وجہ سے ہے ۔ قوم یا وطن کی وجہ سے نہیں ۔ اللہ کرے کہ ہم علم و عمل والے معاشرے بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔
 
لوگ اتنے ظالم کیسے ہوجاتے ہیں۔
ان کا دل اتنا پتھر ہوجاتا ہے کہ نہ ان کو اپنے بچوں کی محبت باقی رہتی ہے نہ آخرت کا خوف۔
پیارے یہاں تو لوگ "خواب" دیکھنے کے بعد اپنے بچوں کو زبح کر دیتے ہیں کہ اس طرح وہ حضرت ابراہیم کی قربانی کی "یاد" تازہ کر رہے ہوتے ہیں اپنے تئیں۔:mad:
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
شگفتہ آپی میں نے اتنے کیسز ایسے دیکھے ہیں کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتیں۔۔ آپ دعا میں یاد رکھیے گا ان کو آپی

کتنا اچھا ہوتا اگر زندگی میں ظلم اور دکھ ختم نہ ہو سکتے تو کم ہی ہو سکتے، اللہ تعالٰی سب کو اپنی امان میں رکھے اور زندگی ان کے لیے آسان ہو، آمین
 
مجھے اس بات کی کبھی سمجھ نہیں آئی۔۔ کہ طلاق لینے کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے۔۔ اگر حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ واقعی میں اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تو کیوں نہیں۔۔

یہ چند غلط تصورات ہیں کہ طلاق کسی صورت نہیں ہونی چاہیے ، بچوں کا کیا ہوگا حالانکہ اگر میاں بیوی میں ناچاقی بڑھ رہی ہے اور ان کی زندگی مسلسل لڑائیوں اور بدگمانیوں سے جہنم کا نمونہ بن رہی ہے تو اس سے بچوں پر انتہائی برا اثر پڑ رہا ہوتا ہے۔ علیحدگی اور حالات کا دوبارہ سے جائزہ لینا ہی بہتر صورتحال ہوتی ہے اور اگر دونوں نہیں تو کم سے کم ایک فریق بچوں پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے اور بچوں کی بہتر اور صحیح تربیت کر سکتا ہے بجائے اس کہ بچے بھی خوف اور نفسیاتی توڑ پھوڑ کا شکار ہوتے رہیں۔

طلاق کو پسند نہیں کیا گیا مگر یہ ناجائز چیز بھی نہیں ہے اور ایسی کمیاب بھی نہیں کہ پہلے ہوتی ہی نہیں تھی۔
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
مجھے یہ بات بالکل سمجھ نہیں آتی کہ ہم معاشرے کی رائے کے مطابق سانس کیوں لیتے ہیں۔۔۔
لوگ کیا کہیں گے۔۔۔۔لوگ کیا سمجھیں گے۔۔۔لوگ یہ کہیں گے وہ کہیں گے۔۔۔آخر یہ لوگ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں کہ ہم ان کی رائے کو اس قدر اپنی زندگی میں اہمیت دیتے ہیں۔۔۔
اور جو بات اللہ نے حلال قرار دی اسے کیسے اپنی زندگی میں حرام کر دیتے ہیں۔۔۔۔اس طرح کے حالات میں ہی یہ انتہائی قدم اٹھانے کا شرعی حق اللہ نے دیا ہے تو ہم جانے اسے اتنا معیوب کیوں سمجھتے ہیں۔۔۔
اگر یہ اتنی ہی معیوب بات ہوتی تو اسے حلال کیوں کیا جاتا۔۔۔۔۔۔
اور اس سے زیادہ شرمناک کام کرتے ہوئے۔۔۔۔اس قدر ظلم کرتے ہوئے تو کسی کو شرم نہیں آتی۔۔۔
والدین کو تو سرپرست بنا دیا گیا اگر وہی اتنی پست ہمتی اولاد کے معاملے میں دکھائیں گے تو باقی لوگ تو ان پر ظلم کریں گے ہی۔۔۔
اسی طرح کا ایک معاملہ میری کزن کےساتھ آیا اور وہ کزن میری پھپھوزاد ہونے کے ساتھ ساتھ میری ماموں زاد بھی ہیں۔۔۔
جب یہ رشتہ میری کزن کا آیا تو میں نے سب سے زیادہ مخالفت کی تھی کیونکہ استخارہ میں نے ہی کیا تھا لیکن میری بات بڑوں نے بالکل نہیں مانی۔۔۔۔
شادی کر دی گئی۔۔۔ان پر سسرال والے ظلم کرنے لگے۔۔۔ہاتھ اٹھانے لگے ۔۔اور وہ صرف اسی لیئے چپ کہ والدین کی عزت خراب ہوگی۔۔۔
مجھ سے جب میری کزن نے یہ بات شیئر کی تو میں نے انہیں بہت سمجھایا کہ آپ یہ ظلم برداشت کریں گی تو پوری زندگی یہی ہوگا اور بد ترین لوگ ہوتے ہیں وہ لوگ جو ہاتھ تک اٹھاتے ہیں۔۔۔
خیر میں کزن کو سمجھاتی رہی وہ تو چپ رہیں پھر میں نے ماموں اور پھوپھو سے بات کی کچھ کریں ایسے ظلم برداشت مت کریں۔۔انہوں نے بھی پہلی بات یہی کی کہ سب کیا کہیں گے ۔۔باتیں بنیں گی۔۔۔
پھر میں نے اپنی امی سے بات کی کہ کچھ کریں ۔۔۔امی نے میرا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تو میں نے پھو پھو کو سمجھایا کہ زندگی ختم نہیں ہوجاتی اللہ تعالی بہت بہتر راستہ نکالیں گے ۔۔اللہ پر بھروسا کیجئے۔۔۔
بہت سے دن گزر گئے ۔۔وہاں ان کے شوہر کے ظلم بڑتے گئے اور ساس صاحبہ کا کہنا تھا کہ برداشت کرو تمہاری اور بھی بہنیں ہیں ان کے رشتے نہیں آئیں گے اگر تم نے طلاق لی۔۔۔۔
میری تو برداشت سے باہر تھی یہ بات ۔۔۔میں کوشش کرتی رہی پھوپھو چونکہ میری دوست بھی ہیں انہیں سمجھاتی رہی آخر انہوں نے اور ماموں نے بات سمجھ لی اور فیصلہ لے لیا گیا۔۔۔۔
یہ ایک مختصر روداد تھی جسے بتانے کا مقصد صرف یہی تھا کہ زندی بہت ہی قیمتی چیز ہے جسے ضائع کردینا لوگوں کے لیئے برباد کر دینا بہت ہی ناقدری ہے۔۔۔یہ زندگی اللہ نے دی ہے لوگوں کے ڈر سے اسے برباد نہیں کرنا چاہیئے۔۔
اور جو جائز اللہ نے قرار دیا وہ معیوب کسی بھی صورت نہیں ہوسکتا ۔۔۔سو ایسے موقعوں پر ڈٹ کر فیصلہ کرنا چاہیئے۔۔۔
ایک اور بات ضرور بتاؤں گی کہ اللہ پر بھروسا کرنے کے بعد ایسی جگہ سے راستے کھل جاتے ہیں کہ گمان نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔میں نے پھوپھو سے وعدہ کیا تھا کہ کزن کی کہیں اور اچھی جگہ شادی ہوجائے گی۔۔
اور اس وعدے کو نبھایا بھی کہ آج وہ میری بھابھی ہیں۔۔۔یہ بات شئیر اس لیئے کہ کہ ظلم کےخلاف آواز اٹھانے کے بعد جہاں تک ہوسکے زندگیاں بچانے اور سنوارنے میں مدد کیجئے یہی انسانیت کی معراج ہے اور اسی طرح ظلم کو ختم کیا جاسکتا ہے۔۔
نہ کہ اتنی پست ہمتی کہ لوگ کیا کہیں گے نفرت ہے مجھے اس جملے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
یہی تو سمجھ نہیں آتا مجھے۔۔ ہم لوگ پڑھے لکھے، سمجھدار پھر بھی ان چکروں میں کیوں پڑ جاتے ہیں
پتہ نہیں کیا بات ہے میرا دل بھی بہت پریشان ہوتا ہے لیکن ایسے کیسز میں جو لوگ شکار بنتے ہیں وہ ایسی ہی کسی مجبوری میں پس جاتے ہیں ، آپ نے کہا ایسے کئی کیسز ہیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ پڑھی لکھی لڑکیاں بھی ایسی جگہ ہمت ہار دیتی ہیں ۔
ہماری ایک جاننے والی لڑکی تھیں انہوں نے مجھ سے دینی مسائل پر مشورہ لیا تھا ۔ الحمدللہ ان کی جان بچ گئی تھی اور آخر کار انہوں نے طلاق لے لی، لیکن جو ٹارچر انہوں نے جھیلا تھا وہ سننے میں ہی بہت خوف ناک تھا ، کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ پتا نہیں کیسے وہ ان حالات سے گزری ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں شروع سے بزدل تھی، سٹیپ نہیں لے سکتی تھی، اس لیے سہتی رہی، البتہ مذہب کی سپورٹ سے مجھے ہمت ہوئی ۔ اور دوسری بات انہوں نے کہی کہ میں گھر کبھی توڑنا نہیں چاہتی تھی، ان کا ایک بچہ ہے ۔ میں نے ان سے کہا کہ جتنا ظلم آپ نے برداشت کیا ہے یہ کوئی عام انسان برداشت نہیں کر سکتا ۔آپ بزدل نہیں بہادر ہیں ۔لیکن میں اکثر سوچتی ہوں :
کیا ایک گھر کی تمنا عورت کو اتنا بہادر بنا دیتی ہے کہ وہ اس کو بچانے کے لیے ایک درندے کے ساتھ رہ لے ؟
یا شاید ہمارے معاشرے کی روایتی لڑکیوں کو پتا ہوتا ہے کہ ایک طلاق کے بعد شاید ہی گھر کی راحت دوبارہ نصیب ہو اس لیے وہ یہ سب سہتی ہیں ؟
ہمارے پیچیدہ معاشرتی نظام نے لڑکیوں کی نفسیات بھی پیچیدہ کر دی ہے ۔ کچھ تو ہے ، جس کی وجہ سے حالات نہیں بدل رہے ؟
ان کے والدین عدت کے بعد دوسری شادی کرنا چاہتے تھے لیکن وہ کتنا عرصہ دوسری شادی کے نام سے یوں بھاگتی تھیں جیسے کوئی گناہ ہو گا، کیوں کہ طلاق کے بعد دوسری شادی ہمارے لوگوں کو چٹخارے دار موضوع دے دیتا ہے ، ہم فرینڈز نے مل کر کافی سمجھایا ان کو۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ لوگ باتیں بناتے ہیں ، ان کے بارے میں بھی اور ان کے بچے کے بارے میں ۔ شاید وہ انہی باتوں سے ڈرتی تھیں، کل کو بچے نجانے کیا سوچیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ہماری ایک جونئیر کی شادی ہوئی تھی ، وہ دیکھنے میں اتنی نازک اور کم گو ہے کہ یقین نہیں آتا کہ کوئی اس پر کبھی غصہ بھی کرے گا ، ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات ہے ۔ لیکن شادی کے صرف دو ماہ بعد وہ ہاسپٹل میں شدید زخمی ہو کر ایڈمٹ ہوئی، مسلسل بے ہوش تھی اور خاصا خون بہہ گیا تھا ۔ ہسپتال والوں نے انجریز دیکھ کر اس کے پیرنٹس اور پولیس کو بلالیا۔ ہوش میں آنے پر اس نے بتایا کہ اس کے شوہر نے تشدد کیا ہے ۔ نندیں پاس تھیں ۔ اور اس کی والدہ نے بتایا کہ اس نے ان سے کہا تھا کہ مجھے واپس نہیں جانا ، لیکن والدہ نے کہا کہ سسرال کی مشکلات سہنی پڑتی ہیں ۔ اور اگلے ہفتے یہ سب ہو گیا۔ اس کے پڑوسیوں نے شور سن کر اس کے سسرالیوں کو ہسپتال تک جانے پر مجبور کیا ورنہ شاید وہ گھر میں ہی پڑے مر جاتی۔ والدہ کا کہنا تھا کہ یہ میری پہلی بیٹی ہے ، پہلی بیٹی کا گھر اجڑ جائے تو اگلی بیٹیوں کی شادی نہیں ہوتی، طلاق اللہ کو ناپسند ہے، ہمارے یہاں کبھی طلاق نہیں ہوئی وغیرہ ۔ یہ ہمارے معاشرے کے سیانوں کی باتیں ہیں۔ جھگڑا یہ تھا کہ شوہر کی جاب شادی کے بعد ختم ہو گئی تھی ، کاروبار کے لیے سسر سے پیسے مانگ رہا تھا ، جب کہ بیوی کا کہنا تھا کہ اب وہ مزید پیسے لا کر نہیں دے سکتی ۔ صرف دو ماہ میں وہ لڑکی سوکھ کر کانٹا بن گئی ہے ۔
 
ایک اور بات ضرور بتاؤں گی کہ اللہ پر بھروسا کرنے کے بعد ایسی جگہ سے راستے کھل جاتے ہیں کہ گمان نہیں جا سکتا ۔۔۔ ۔۔میں نے پھوپھو سے وعدہ کیا تھا کہ کزن کی کہیں اور اچھی جگہ شادی ہوجائے گی۔۔
اور اس وعدے کو نبھایا بھی کہ آج وہ میری بھابھی ہیں۔۔۔ یہ بات شئیر اس لیئے کہ کہ ظلم کےخلاف آواز اٹھانے کے بعد جہاں تک ہوسکے زندگیاں بچانے اور سنوارنے میں مدد کیجئے یہی انسانیت کی معراج ہے اور اسی طرح ظلم کو ختم کیا جاسکتا ہے۔۔
نہ کہ اتنی پست ہمتی کہ لوگ کیا کہیں گے نفرت ہے مجھے اس جملے سے۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
جزاک اللہ خیرا ، دراصل یہی توکل ہے ، صرف اللہ پر بھروسہ ، میری طرف سے اتنی اچھی سوچ اور عمل کے لیے بہت بہت ساری دعائیں ۔ اس معاشرے کو بدلنا ہمارا ہی فرض ہے ۔
 

نیلم

محفلین
جی بہت جگہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک بار اگر گھر ٹوٹ جائے تو دوبارہ اچھی جگہ شادی ہوجاتی ہے،،،میں نے ایسا بھی دیکھا ہے کہ دوسری شادی بھی ناکام ہو جاتی ہے
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
جی بہت جگہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک بار اگر گھر ٹوٹ جائے تو دوبارہ اچھی جگہ شادی ہوجاتی ہے،،،میں نے ایسا بھی دیکھا ہے کہ دوسری شادی بھی ناکام ہو جاتی ہے
دوسری شادی ناکام ہو یا نہ ہو ظلم سہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اللہ نے انسانوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ لوگوں کو بلند یا پست کر سکیں
ہمیں اللہ پر نظر رکھنی چاہیئے نہ کہ لوگوں پر جن میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ غلط کو غلط کہہ سکیں اور نمک چھڑکنے کا کام اچھا کر لیتے ہیں
 

مہ جبین

محفلین
اف میرے اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت افسوسناک اور اذیتناک ۔۔۔۔!!!
کس قدر سفاک اور پتھر دل شخص تھا وہ
یہاں میں بالکل مقدس اور عینی سے مکمل اتفاق کروں گی کہ مذہبب نے جب ایک راستہ کھلا رکھا ہے تو پھر کیوں اتنا جبر برداشت کیا جائے
برداشت ایک حد تک ہوتی ہے لیکن اس حد تک نہیں کہ مرد وحشی ہوجائے تب بھی نبھائے جاؤ
طلاق کو ناپسندیدہ ضرور کہا گیا ہے لیکن حرام قرار نہیں دیا گیا
جب بھی ایسا ہو کہ عورت ظلم کی چکی میں پسنے لگے تو اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنا ہی سب سے بہتر حل ہوتا ہے
والدین کو ایسی صورتحال میں اپنی بیٹی کو اس ظلم سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے تھی اور وہ دنیا کے ڈر سے نہ خود بولے اور نہ بیٹی کو بولنے دیا ۔۔۔۔

عینی کے بیان کردہ واقعے میں ایسے لوگوں کے لئے ایک سبق ہے ، کاش یہ لوگ سمجھ سکیں ۔
 

نیلم

محفلین
دوسری شادی ناکام ہو یا نہ ہو ظلم سہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اللہ نے انسانوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ لوگوں کو بلند یا پست کر سکیں
ہمیں اللہ پر نظر رکھنی چاہیئے نہ کہ لوگوں پر جن میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ غلط کو غلط کہہ سکیں اور نمک چھڑکنے کا کام اچھا کر لیتے ہیں
بالکل ،،میں ایگری ہوں،،،لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں ہوتا،،،ظلم سے نکلنے کے بعد بھی بہت اذیت سہنی پڑتی ہے،،ایک کے بعد اگر دوبارہ بھی طلاق ہوجائے،،تو کیااُس لڑکی کی اذیت کم ہوجاتی ہے،،
 
اف میرے اللہ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ بہت افسوسناک اور اذیتناک ۔۔۔ ۔!!!
کس قدر سفاک اور پتھر دل شخص تھا وہ
یہاں میں بالکل مقدس اور عینی سے مکمل اتفاق کروں گی کہ مذہبب نے جب ایک راستہ کھلا رکھا ہے تو پھر کیوں اتنا جبر برداشت کیا جائے
برداشت ایک حد تک ہوتی ہے لیکن اس حد تک نہیں کہ مرد وحشی ہوجائے تب بھی نبھائے جاؤ
طلاق کو ناپسندیدہ ضرور کہا گیا ہے لیکن حرام قرار نہیں دیا گیا
جب بھی ایسا ہو کہ عورت ظلم کی چکی میں پسنے لگے تو اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنا ہی سب سے بہتر حل ہوتا ہے
والدین کو ایسی صورتحال میں اپنی بیٹی کو اس ظلم سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے تھی اور وہ دنیا کے ڈر سے نہ خود بولے اور نہ بیٹی کو بولنے دیا ۔۔۔ ۔

عینی کے بیان کردہ واقعے میں ایسے لوگوں کے لئے ایک سبق ہے ، کاش یہ لوگ سمجھ سکیں ۔
100٪ متفق آنی جی۔
 
Top