بقدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا (جمیلؔ مظہری)

نیرنگ خیال نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 29, 2018

  1. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بقدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
    اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا

    بس ایک احساس نارسائی نہ جوش اس میں نہ ہوش اس کو
    جنوں پہ حالت ربودگی کی خرد پہ عالم غنودگی کا

    ہے روح تاریکیوں میں حیراں بجھا ہوا ہے چراغ منزل
    کہیں سر راہ یہ مسافر پٹک نہ دے بوجھ زندگی کا

    خدا کی رحمت پہ بھول بیٹھوں یہی نہ معنی ہے اس کے واعظ
    وہ ابر کا منتظر کھڑا ہو مکان جلتا ہو جب کسی کا

    وہ لاکھ جھکوا لے سر کو میرے مگر یہ دل اب نہیں جھکے گا
    کہ کبریائی سے بھی زیادہ مزاج نازک ہے بندگی کا

    جمیلؔ حیرت میں ہے زمانہ مرے تغزل کی مفلسی پر
    نہ جذبۂ اجتبائے رضوی نہ کیف پرویزؔ شاہدی کا

    جمیلؔ مظہری​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر