بش کی تذلیل اپنے ہی ملک میں

mujeeb mansoor

محفلین
یہ مواد اس سائیٹ سے ہے
http://www.khabrain.net/newsdetail.php?news_id=2811&cat=6
آئیے ذرا وقت کے فرعون کی حیثیت،حشمت اور پالیسیوں کے بارے میں کچھ پڑھیں

امریکی صدر بش کو ایک تقریب میں اس وقت خوف کا سامنا کرنا پڑا جب کچھ حاضرین نے تقریب کے دوران ان پر آوازے کسے اور انہیں جنگی مجرم قرار دیا۔ صدر جارج بش ریاست ورجینیا میں امریکی یوم آزادی کی مناسبت سے تارکین وطن کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے اس دوران کئی افراد زور زور سے انہیں برا بھلا کہتے رہے اور ان کی خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کی۔ شور شرابے کی وجہ سے ان کی تقریر کئی بار تعطل کا شکار ہوئی۔ خطاب کے دوران ایک خاتون سمیت نو افراد نے سٹیج تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن سیکورٹی سٹاف انہیں دھکیل کر باہر لے گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر بش کو سخت خوف کا سامنا کرنا پڑامگر انہوں نے ظاہر کیا کہ جیسے انہوں نے مظاہرین کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
 

جہانزیب

محفلین
سب سے پہلے تو آپ اپنا اخبار بدلیں اور دوسری بات امریکی معاشرہ کی بنیاد ہی خیالات کی آزادی ہے، جسے امریکہ میں‌ تذلیل کے طور پر نہیں‌ لیا جاتا، خیالات میں‌ فرق کے طور پر لیا جاتا ہے ۔
 

خرم

محفلین
مطلب یہ کہ بھیا یہ جو ایک عام خبر کو مرچ مصالحے لگا کر پیش کرتے ہیں اس سے قاری کی صحت پر کافی خراب اثر پڑتا ہے۔ امریکہ میں تو بش کی "تذلیل" سرعام ہوتی ہے۔ ٹی وی پر "little bush" نامی پروگرام آتا ہے، کامیڈین پورے پورے شو کرتے ہیں بش کی نقالی میں۔ ایک نقال جو بُش کا ہمشکل بھی ہے اس نے تو بُش کے ساتھ سٹیج پر کھڑے ہوکر تماشہ کیا تھا۔ یہ بے عزتی تو یہاں کا معمول ہے کہ یہ لوگ ہنسنا اور جینا جانتے ہیں۔ ہم لوگوں کی طرح گھٹ گھٹ کر مرنا نہیں جانتے۔
 

ایم اے راجا

محفلین
مطلب اگر وہاں کوئی بش کا منہ بھی کالا کر دے تو بھی ہنسنا ہوگا، باھئی تو پھر بے عزتی کیسے ہوتی ہے یا اس نام کی کوئی چیز وہاں ہوتی ہی نہیں؟
 

خرم

محفلین
بے عزتی تو تب ہوگی جب امریکہ میں انصاف ملنا بند ہوگا، لوگوں کے ساتھ رنگ، نسل اور قومیت کی بنا پر امتیازی برتاؤ ہوگا، جب یہاں لینڈ مافیاز ہوں گے، جب کوئی کام رشوت دئیے بغیر نہ ہوگا، جب ہر رشتہ ہر ناطے سے بڑا ناتا ہوگا روپے کا، جب ملک کے ایک حصہ میں کوئی مذہب کا نام لیکر اپنے ہی ہم مذہب کو کاٹے گا، دوسرے حصہ میں کوئی زبان کو بنیاد بنا کر کسی کا خون کرے گا اور کسی اور حصہ میں ڈومیسائل کی بنا پر کوئی کسی کو جلائے گا، جب کسی غیر مذہب والے کی عزت اور آبرو صرف اس وجہ سے محفوظ‌نہیں ہوگی کہ وہ اقلیتی مذہبی گروہ سےتعلق رکھتا ہے تب امریکہ کی بے عزتی ہوگی کہ قوموں کی بے عزتی ان کی حکمرانوں کا منہ کالا کرنے سے نہیں ان کے اجتماعی کردار سے ہوتی ہے۔:)
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

صدر بش جس تقريب سے خطاب کر رہے تھے وہ دراصل امريکہ کی يوم آزادی کے موقع پر بيرون ممالک سے امريکہ ميں منتقل ہونے والے افراد کو امريکی شہريت دينے کی ايک تقريب تھی جس ميں کچھ افراد نے اپنا آئينی حق استعمال کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کيا۔

اس واقعے پر کچھ دوستوں کی رائے پڑھ کر مجھے کچھ دن پہلے پيش آنے والا واقعہ ياد آ رہا ہے جب ايک پاکستانی طالب علم نے امريکی سفير سے ايوارڈ لينے سے انکار کيا اور پاکستانی ميڈيا پر کچھ اسی طرح کی سرخياں لگيں

"پاکستانی طالب علم کے ہاتھوں امريکی سفير کی تذليل"

کچھ پاکستانيوں کے ليے شايد يہ بات حيران کن ہو گی مگر امريکی حکومت اور عمومی طور پر امريکی معاشرے ميں اپنے اصولوں اور موقف کے اظہار کو منفی نہيں بلکہ مثبت انداز تصور کيا جاتا ہے۔ يہی نہيں بلکہ ہر سطح پر لوگوں کو يہ ترغيب دی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے ميں اپنے آزادی رائے کے حق کو استعمال کريں۔ يہی وجہ ہے کہ اس واقعے کے فوری بعد امريکی سفير اين پيٹرسن نے اپنے خطاب ميں کہا کہ

"مجھے قخر ہے کہ ايسے پاکستانی طالب علم امريکہ ميں زير تعليم ہيں"۔

ميری ذاتی رائے ميں اس واقعے کے اس پہلو کو نظرانداز کرنا ناانصافی تھی۔

يہ بات ميں آپ کو اپنے ذاتی تجربے کی روشنی ميں بتا رہا ہوں کہ امريکی حکومتی حلقے خود کو "عالمی تھانيدار" نہيں سمجھتے اور ديگر امور کی طرح خارجہ پاليسی پر بھی ہر سطح پر بحث اور نقطہ چينی کا عمل جاری رہتا ہے۔ چاہے وہ ڈبليو – ايم – ڈی ايشو ہو، ايران کے ايٹمی پروگرام کے حوالے سے رپورٹ ہو يا افغانستان اور عراق میں درپيش چيلينجز ہوں، امريکی حکومت کے اہلکار اور عوام کے مختلف طبقات ہر موضوع پر بغير کسی خوف وخطر کے اپنے خيالات کا اظہار کرتے رہتے ہيں۔

امريکی حکومت کی جانب سے جذبات اور متضاد خيالات کے اظہار کے حوالے سے برداشت کی ايک مثال يہ خبر ہے کہ حال ہی ميں دو امريکی سفارت کاروں کو اس بات پر ايوارڈ ديا گيا کہ انھوں نے اپنی ملازمت کے دوران امريکی حکومت کی بعض پاليسيوں نے صرف اختلاف کيا بلکہ اپنے مسلسل اپنی رائے کا اظہار کر کے امريکی حکومت کو اپنے فيصلے تبديل کرنے پر مجبور کيا۔


http://seattletimes.nwsource.com/html/politics/2008004869_apdiplomaticdissent.html?syndication=rss


يہاں يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امريکی حکومت اور حکومتی اہلکاروں کی پاليسيوں پر کھلی تنقيد امريکی معاشرے کے ليے اتنی عام بات ہے کہ صدر بش کے واقعے کو قريب تمام نشرياتی اداروں پر محض سرسری کوريج ملی۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
 
سب سے پہلے تو آپ اپنا اخبار بدلیں اور دوسری بات امریکی معاشرہ کی بنیاد ہی خیالات کی آزادی ہے، جسے امریکہ میں‌ تذلیل کے طور پر نہیں‌ لیا جاتا، خیالات میں‌ فرق کے طور پر لیا جاتا ہے ۔

میرے خیال میں اخبار بدلنے کی ضرورت نہیں یہ خبر بی بی سی اردو پر بھی ہے
 
Top