برونائی دارالسلام میں اسلامی شرعی قوانین کا نفاذ

arifkarim نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 13, 2014

  1. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    یہ ایک نئی اطلاع ہے کہ شاہی خاندان ان قوانین سے مستثنیٰ ہوگا۔۔۔اگریہ بات خبر میں کہی گئی ہے تو پھر تو آپ سے اتفاق ہے۔۔۔ اور اگر نہیں بلکہ ایجادِبندہ ہے ،تو لگتا ہے کہ آپ بھی سکھوں کی طرح ہور چوپو کے نعرے بلند کرتے ہوئے پڑوسی گاؤں کے کھیتوں کو آگ لگانے کیلئے بلوائی اکٹھے کر رہے ہیں۔۔۔:D
    جہاں تک کھوپڑی میں عقل یا بھوسے کا سوال ہے، تو اس بات پر غور کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔ لیکن آپکے مراسلوں سے لگ رہا ہے کہ جناب کی اوپر کی منزل میں اتنا کاٹھ کباڑ اکٹھا ہوچکا ہے کہ مزید کسی شئے کی شائد گنجائش نہیں ہے۔
     
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اسی بات پر تو شروع سے اختلاف ہو رہا ہے کہ یہ قوانین بنائے ہی عوام کے لئے گئے ہیں۔ آپ آج کل غور سے نہیں پڑھ رہے :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    لیکن موصوف نے جو خبر یا آرٹیکل پوسٹ کیا ہے اس میں تو ایسی کسی بات کا ذکر نہیں۔۔۔اگر آپ نشاندہی کردیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    اوپر میرے ایک مراسلہ میں جہاں آپنے بغیر دیکھے بے اختیار پر مزاح کی ریٹنگ دی ہے۔ وہاں میں اسبات کا اثبوت بھی فراہم کر چکا ہوں:
    [​IMG]
     
    • متفق متفق × 1
  5. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    [​IMG]
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    یہ بات پہلے بھی میں اور arifkarim دونوں ہی کر چکے ہیں :)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    اس سے یہ کہاں ثابت ہورہا ہے کہ یہ قوانین شاہی خاندان پر لاگو نہیں ہونگے۔۔۔۔میں قانونی زبان کے بارے میں زیادہ تو نہیں جانتا لیکن شائد اس کلاز کا مقصد یہی ہے کہ صوابدیدی اختیارات استعمال کرکے ملک کا سربراہ کسی کیس میں رحم کی اپیل وغیرہ پر اپنا فیصلہ دے سکتا ہے۔۔۔
     
    • متفق متفق × 1
  8. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    یہ بے منطقی سا جواب یا دلیل ہے۔ جب دین اللہ کا۔ حدود اللہ کی تو رحم کے فیصلے کا اختیار بھی صرف اسی ذات الٰہی کو ہونا چاہئے۔ نہ کہ ایک بدچلن، عیاش، دنیاوی و سیاسی خواہشات کے پتلے سلطان کو۔ :D
     
    • غیر متفق غیر متفق × 2
  9. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    اسلامی حکومت میں سربراہ مملکت کو اتنا تو اختیار ہوتا ہی ہے، آپ لوگ خود کئی بار مثال پیش کرچکے ہیں کہ حضرت عمر نے قحط کے دنوں میں چوری کی اس سزا کو موقوف کردیا تھا۔۔۔دوسرے یہ کہ یہ کہنا ابھی بہت قبل از وقت ہے ( بلکہ ہور چوپو والے واقعے کے مصداق ہے) کہ شاہی خاندان پر ان قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  10. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    چونکہ یہ وہابی شرعی قوانین سعودی نظام شریعت سے مستعار لیا گیا ہے تو ظاہر ہے کسی خاص سیاسی، معاشی،سماجی سوچی سمجھی پلاننگ یا سازش کے تحت ہی ایسا کیا گیا ہے۔ وگرنہ برونائی کے عیاش سلطان کو اچانک اتنے سالوں بعد یہ قوانین برونائی میں نافذ کرنے کا خیال کہاں سے آگیا؟ اسکو یقینا اپنے غیرشرعی،غیرآئینی، غیر اسلامی تخت و تاج کے اُلٹ جانے کا خطرہ ہوگا جو آل سعود کی طرح اپنے علاقے کا امیرالمؤمنین بننے جا رہا ہے۔
     
  11. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    8,508
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    آئینہ" ان" کو دکھایا تو برا مان گئے۔:)
     
  12. زیڈایچ پاشا

    زیڈایچ پاشا محفلین

    مراسلے:
    22
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    Xboy بھائی یه عارف کریم صاحب کا تبصره کس قسم کا ھے کیا انھیں اسلام اور اسلامی قوانین پسند نھیں ؟
    الله کریم انھیں هدائت کے نور سے نوازے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  13. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    مجھے اسلام یا اسلامی قوانین سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن جس طریقہ سے انکو موجودہ معاشرے پر مسلط کیا جاتاہے اس سے یقیناً اختلاف ہے۔ پہلی چیز جو اس بحث و مباحثہ کے بعد سامنے آئی ہے جو زیادہ اختلاف پیدا کرتی ہے وہ ان قوانین کو نافذ کرنے والے بادشاہوں، سلطانوں کا دوغلہ پن اور منافقت ہے۔ وہ ان اسلامی قوانین کو اپنی ذات اور آل اولاد سے بچا کر رکھتے ہیں۔ یا اپنی ناجائز حکومت بچانے کیلئے ان قوانین کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
    دوسرا بڑا اختلاف ان اسلامی سزاؤں کا معاشرے کے موجودہ حالات و واقعات دیکھے بغیر جبراً واجب کرنا ہے۔ جیسا کہ اس دھاگہ میں ایک بے گناہ سوڈانی عورت کو صرف اس بات پر موت کی سزا دے دی گئی کہ اسکا باپ مسلمان تھا جبکہ اسکی بچپن سے پرورش ایک عیسائی گھرانے میں ہوئی اور شادی بھی ایک عیسائی شخص سے ہی کی۔ اب اس عورت کو سوڈان کی اسلامی شرعی عدالت نے کچھ عرصہ کی مہلت دی ہے کہ واپس مسلمان ہو جائے یا پھانسی کی سزا کیلئے تیار رہے۔ اب آپ ہی بتائیں کیا یہ اسلامی سزا درست ہے؟ ایک بچی جسکا باپ مسلمان تھا اسکو بچپن میں خود ہی عیسائی ماں کی پرورش میں چھوڑ کر چلا جائے اور جب وہ بچی بلوغت میں آکر عیسائی ہو جائے اور عیسائی مرد سے شادی کر لے تو اس "گناہ" پر وہ موت کی مستحق ہے؟ کیا یہ ہے شریعت کا نفاذ؟ لاحول ولاقوۃ۔ ہدایت کی ضرورت مجھے نہیں ان جاہل اسلامی علماء اور قاضیوں کو ہے جو لکیر کے فقیر بغیر کسی کیس کا سياق و سباق سمجھے اندھوں کی طرح بے گناہوں کو موت اور کوڑوں کی سزائیں دیتے چلے جاتے ہیں!
     
    • متفق متفق × 2
  14. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    اول تو کسی کے اسلام سے پھر جانے پر موت کی سزا ہی درست نہیں اور اگر یہ معاملہ ایسا ہی جیسا بیان کیا گیا ہے تو ان سزا دینے والوں کی جہالت پر کوئی شبہ نہیں۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    مجھے تو ان سزا دینے والوں کی جہالت سے زیادہ ان سزاؤں کو عملی جامہ پہنانے والے جلادوں پہ زیادہ تشویش ہوتی ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات میں ہی ہے کہ ظلم کرنے والے سے بڑا ظلم کا ساتھ دینے والا ہوتا ہے۔ مطلب ایک ظالم حاکم اپنے ملازمین کی رضامندی کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ ظلم کیخلاف بغاوت کرنا تو عین اسلامی بلکہ شریعت کا حصہ ہے۔ یہاں الٹا شریعت کے ذریعہ ایک ظالمانہ، غیر منصفانہ نظام عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ اور ملازمین چپ چاپ خاموش تماشائی بنے بیٹھے حاکم وقت سے اس ظلم کے بدلے ماہانہ تنخواہ کے طلب گار تاکہ گھر کی روزی روٹی لگی رہے۔ یہاں آپکو بہت سے سعودی و مصری جلادوں کے ویڈیو انٹرویوز مل جائیں گے جو بڑے فخریہ انداز میں اپنے اس عظیم "پیشہ" کا ذکر کرتے پائے گئے:
    http://www.news.com.au/world/execut...f-killing-people/story-fndir2ev-1226750992636

    ایک مرتبہ زار روس سے کسی نے پوچھا کہ آپ اس قدر وسیع و عریض جغرافائی رقبہ پہ محیط ملک پر کیسے حکمرانی کر لیتے ہیں تو اس زار نے بڑے آرام سے جواب دیا:
    میں روس کا حکمران نہیں، وہ دس ہزار روسی کلرک ہیں جو سارا سال اسکی حکومتی بیروکریسی چلاتے ہیں۔:D
    http://thinkexist.com/quotation/i_do_not_rule_russia-ten_thousand_clerks/167111.html

    الغرض کسی بھی قومی حکم یا قانون کی عملی اطاعت یا نفی کرنے والے اس وطن کے اصل حکمران ہوتے ہیں۔ آج پوری قوم آئین پاکستان یا دستور اساسی پر عمل در آمد بند کر دے تو کل مملکت خدادادپاکستان یہ جا وہ جا۔ :D پہلی جنگ عظیم کے آخری سالوں میں روس میں آخر کار ایسا وقت آگیا جب یہ دس ہزار کلرک روسی کسانوں، مزدوروں کے انقلاب روس سے جا ملے اور یوں زار روس کا بمع خاندان شاہی گولیاں مار کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ کر دیا گیا۔
    http://en.wikipedia.org/wiki/Shooting_of_the_Romanov_family
     
    آخری تدوین: ‏مئی 18, 2014

اس صفحے کی تشہیر