برطانیہ ملک ریاض کے19 کروڑ پاؤنڈز پاکستان کو دے گا

جاسم محمد

محفلین
تقریبا وہی ہو رہا ہے جس کا اس پوسٹ میں ذکر ہے۔
اب مزہ آئے گا۔ پاپ کارن تیار ہیں۔
ناروے میں کئی پاکستانی جب کرپشن ، ٹیکس چوری کے جرم میں پکڑے گئے تو سزا سنانے کے بعد پتا چلا کہ حضرات نہ صرف کنگال ہیں بلکہ قرضوں میں ڈوبے پڑے ہیں۔
اب ان سے پیسا کیسے ریکور کیا جائے؟ کیونکہ ان کرپٹ پاکستانیوں سے سارا پیسا پاکستان لانڈر کر دیا تھا۔
بہرحال ناروے کی نیب پاکستان گئی اور ان پاکستانیوں کے اثاثوں کے خلاف کیسز دائر کئے۔ پاکستانی نیب نے تعاون کرتے ہوئے ان اثاثوں جن میں بینک بیلنس، پوش علاقوں میں پراپرٹیز شامل تھیں کو فوری منجمد کر دیا۔ اور بعد میں فروخت کر کے پیسے ریکور کر کے ناروے بھجوا دئے۔ تاکہ کرپشن کیسز میں سیٹل کیا جا سکے۔
یہی کام برطانیہ کی نیب نے حکومت پاکستان کے تعاون سے کیا ہے۔ یعنی ملک ریاض کے برطانوی اثاثے منجمد کرکے لوٹا ہوا مال واپس پاکستان بھجوا دیا ہے۔ لیکن یہ بھی لبرلز اور لفافوں کو قبول نہیں۔
 
تُسی سچے اوہ پائن، خوش رووو !!

ناروے میں کئی پاکستانی جب کرپشن ، ٹیکس چوری کے جرم میں پکڑے گئے تو سزا سنانے کے بعد پتا چلا کہ حضرات نہ صرف کنگال ہیں بلکہ قرضوں میں ڈوبے پڑے ہیں۔
اب ان سے پیسا کیسے ریکور کیا جائے؟ کیونکہ ان کرپٹ پاکستانیوں سے سارا پیسا پاکستان لانڈر کر دیا تھا۔
بہرحال ناروے کی نیب پاکستان گئی اور ان پاکستانیوں کے اثاثوں کے خلاف کیسز دائر کئے۔ پاکستانی نیب نے تعاون کرتے ہوئے ان اثاثوں جن میں بینک بیلنس، پوش علاقوں میں پراپرٹیز شامل تھیں کو فوری منجمد کر دیا۔ اور بعد میں فروخت کر کے پیسے ریکور کر کے ناروے بھجوا دئے۔ تاکہ کرپشن کیسز میں سیٹل کیا جا سکے۔
یہی کام برطانیہ کی نیب نے حکومت پاکستان کے تعاون سے کیا ہے۔ یعنی ملک ریاض کے برطانوی اثاثے منجمد کرکے لوٹا ہوا مال واپس پاکستان بھجوا دیا ہے۔ لیکن یہ بھی لبرلز اور لفافوں کو قبول نہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
تُسی سچے اوہ پائن، خوش رووو !!
ایک اور چیز قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا تھا کہ ۴۶۰ ارب کی ریکارڈ ریکوری کا ایک بڑا حصہ بیرونی کرنسی میں ہونا لازمی ہے۔ یعنی آپ نے ابھی صرف ٹریلر دیکھا ہے۔ سپریم کورٹ میں جرمانہ کی مزید اقساط جمع کرواتے وقت اسی طرح باہر سے ریکوریاں سامنے آئیں گی :)
 

جاسم محمد

محفلین
تُسی سچے اوہ پائن، خوش رووو !!
تقریبا وہی ہو رہا ہے جس کا اس پوسٹ میں ذکر ہے۔
اب مزہ آئے گا۔ پاپ کارن تیار ہیں۔
تصفیے سے حاصل 19کروڑ پاؤنڈ سماجی بہبود کیلئے استعمال ہوں گے، شہزاد اکبر کی وضاحت
ویب ڈیسک06 دسمبر 2019

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے ملک ریاض کے اہل خانہ اور برطانوی حکومت کے درمیان ہونے والے تصفیے سے ملنے والے 19 کروڑ پاؤنڈ پر واضح کیا ہے کہ اس رقم کو وفاقی حکومت سماجی بہبود کے لیے استعمال کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تصفیے کے معاہدے میں ون ہائیڈ پارک کی فروخت اور اس سے حاصل رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کرنا بھی شامل ہے، یہ رقم سپریم کورٹ آف پاکستان کے نیشنل بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے'۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ 'وفاقی حکومت نے سماجی بہبود اور غریبوں پر خرچ کرنے کے لیے اس رقم کو حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے'۔

واضح رہے کہ منگل کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے)، پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے اہل خانہ کے ساتھ ایک سول تصفیہ پر راضی ہوئی تھی۔

این سی اے نے 19 کروڑ پاؤنڈ کی تصفیے کی پیشکش قبول کی تھی، جس میں تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈ مالیت کی ایک برطانیہ کی جائیداد (ون ہائیڈ پار پلیس لندن، ڈبلیو 2 2ایل ایچ) اور منجمد کیے گئے 9 اکاؤنٹس میں موجود تمام فنڈز شامل تھا۔

اس حوالے سے ایک باضابطہ بیان میں ایجنسی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ فنڈز پاکستان کے حوالے کیے جائیں گے۔

اس تمام معاملے کے بعد یہ سوالات سامنے آرہے تھے کہ آیا تصفیے سے حاصل رقم ملک ریاض کے اس جرمانے کے لیے استعمال کی جائے گی جو سپریم کورٹ نے ان پر عائد کیا ہے۔

تاہم ان سوالات کے اٹھنے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب نے وضاحت دے دی۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹس میں انہوں نے اس معاملے پر کیے گئے معاہدے اور اس کی پیچیدگیوں پر کوئی تبصرہ نہ کرنے کی بات کو دوہراتے ہوئے لکھا کہ 'حکومت پاکستان نے اس معاملے پر اس سے مزید آگے نہ جانے کے لیے ایک رازداری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں'۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس وقت ایسے مزید معاملات میں دیگر حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور لاکھوں ڈالرز مالیت کی مزید وصولی کا امکان ہے۔

'حکومت سول کیسز میں معاہدوں کی حوصلہ افزائی کرتی'

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ حکومت سول کیسز میں معاہدوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور اس کی خواہش نہیں کہ لوگوں کو جیل میں رکھے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ قانونی راستے سے کسی دوسرے ملک سے رقم واپس آئی۔

ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا تھا کہ 'یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ تصفیہ سول کیس میں ہوا کسی کرمنل کیس میں نہیں'۔

دریں اثنا ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں انہوں نے کہا تھا کہ ' رقم سپریم کورٹ کو منتقل کردی گئی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے عدالت میں درخواست بھی دائر کردی ہے اور یہ رقم ہمیں (ریاست پاکستان) کو دینی چاہیے'۔
 

جاسم محمد

محفلین
حکومت کو اگر بیرون ممالک سےمزید ریکوریز کیلئے معاہدے خفیہ رکھنا پڑ رہے ہیں تو یہ ان کی قانونی مجبوری ہے۔ اپوزیشن، لبرل، لفافے آم کھائیں گٹھلیاں نہ گنے۔
 

جاسم محمد

محفلین
تقریبا وہی ہو رہا ہے جس کا اس پوسٹ میں ذکر ہے۔
اب مزہ آئے گا۔ پاپ کارن تیار ہیں۔
تُسی سچے اوہ پائن، خوش رووو !!
سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے منی لانڈرنگ سے برطانیہ میں منتقل ہونے والی رقم کے خلاف کارروائی حکومت پاکستان کی شکایت پر کی۔ اگر حکومت پاکستان فریق نہ ہوتی تو ریکور ہونے والی رقم برطانوی خزانے میں جاتی، نہ کہ پاکستان واپس آتی۔

اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ حکومت پاکستان کو اس رقم کے مالکان سے کوئی ہمدردی نہیں تھی، کیونکہ اگر ہمدردی ہوتی تو ان کے خلاف شکایت ہی لانچ نہ ہوتی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2010 میں سپریم کورٹ بار بار گیلانی حکومت سے کہتی تھی کہ سوئٹزرلینڈ کی حکومت کو خط لکھ کر سوئس مقدمات کھلوائے جائیں لیکن گیلانی نے توہین عدات کی شکل میں نااہل ہونا گوارا کرلیا، خط نہ لکھے، کیونکہ ایسا کرنے سے ریاست فریق بن جاتی اور لازمی پیسہ ریاست کو واپس مل جاتا۔

اب یہ کہنا کہ حکومت نے برطانیہ سے ملک ریاض کی منی لانڈرنگ کی رقم کو ملک ریاض کے جرمانے میں ایڈجسٹ کردیا۔ ۔ ۔

اگر یہ رقم ملک ریاض کو ہی واپس کرنا تھی تو اس کیلئے اتنا لمبا تردد کیوں کیا گیا؟ برطانیہ میں فریق کیوں بنی؟ مقصد اگر ملک ریاض کی مدد کرنا تھا تو سب سے بڑی مدد اس کے خلاف مقدمات واپس لے کر ہوتی، جیسا کہ ن لیگ اور پی پی ادوار میں کیا گیا۔

آخری بات: یہ رقم سپریم کورٹ کے بنک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا کر وہاں سے وفاق کے پاس کیوں منقل کی جارہی ہے؟ براہ راست وفاق کے اکاؤنٹ میں کیوں نہیں؟

اس کی دو وجوہات ہیں:
پہلی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا ایک انٹرنیشنل بنک اکاؤنٹ پہلے سے موجود ہے جہاں ڈیم کی امدادی رقم جمع کی جاتی ہے، قانونی اعتبار سے بیرون ملک سیٹلمنٹ کی رقم واپس لینے کا اس سے آسان کوئی طریقہ نہیں کہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ کو استعمال کرلیا جائے۔ بصورت دیگر یہ رقم یا تو ان اکاؤنٹس میں ڈلوائی جاتی جن میں غیرملکی امداد یا قرضے آتے ہیں۔ ان اکاؤنٹس سے رقوم نکلوانے کا قانونی طریقہ بہت پیچیدہ اور مشکل ہوتا ہے، خاص کر اس وقت جب یہ نہ تو قرضے کی شکل میں ہو اور نہ ہی امداد کی شکل میں۔ اس کیلئے قانونی طور پر بہت لمبا راستہ درکار تھا جو وفاق کو منظور نہ تھا، چنانچہ سپریم کورٹ کو انوالو کیا گیا تاکہ ان کے اکاؤنٹ کو استعمال کرکے رقم بآسانی وفاق کو منتقل کروائی جاسکے۔

دوسرا مقصد یہ تھا کہ برطانیہ میں تو یہ سول معاملہ بن گیا اور اس کے خلاف کریمینل ایکٹ کے تحت کارروائی نہ ہوسکی، سپریم کورٹ آف پاکستان کو اس ڈیل کا حصہ اس لئے بنایا گیا تاکہ وہ بھی ان سب معاملات سے آگاہ رہیں جن کے تحت شریف فیملی کے خلاف ریفرینسز عائد کئے گئے۔ برطانوی سیٹلمنٹ کا جو حصہ پبلک نہیں ہوسکا، وہ سپریم کورٹ کے ساتھ شئیر ضرور ہوگیا کیونکہ وہ بھی اب فریق بن گئی ہے۔ چنانچہ شریف فیملی کی ساری کالک اور ملک ریاض کی دلالی اب باقاعدہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن چکی۔

یہ سوال کوئی نہیں پوچھ رہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ملک ریاض کے خلاف کارروائی نہ تو زرداری دور میں ہوئی، نہ ہی ن لیگ کے دور میں۔
!!! بقلم خود باباکوڈا
 

جاسم محمد

محفلین
چند روز قبل خبر آئی کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے ساتھ ایک سول مقدمے کی سیٹلمنٹ کے نتیجے میں کم و بیش بارہ بنک اکاؤنٹس اور ایک عدد ون ہائیڈ پارک کا فلیٹ منجمد کرتے ہوئے اس کے مساوی رقم جو کہ 190 ملین پونڈ بنتی ہے، وہ حکومت پاکستان کو ٹرانسفر کرنے کا اعلان کریا۔

کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ کیا نیشنل کرائم ایجنسی نے وہ فلیٹ بیچ کر رقم ٹرانسفر کی یا اس کے مساوی رقم ملزم سے وصول کرکے پاکستان کو دی؟

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا ملک ریاض ہی ان اکاؤنٹس کا اصل مالک تھا یا محض ٹرسٹی؟ ایسی باتیں اس لئے منظر عام پر نہیں آئیں کیونکہ وہ سیٹلمنٹ کا حصہ تھیں۔

اگلا مرحلہ وہ رقم حکومت پاکستان کو فوری طور پر ٹرانسفر کرنے کا تھا۔ حکومت پاکستان کے نام پر اپنا کوئی بنک اکاؤنٹ نہیں ہوتا جہاں رقم ڈال دی جائے۔ ایسی تمام ٹرانسفرز ہمیشہ کسی نہ کسی بنک اکاؤنٹ کے توسط سے ہوتے ہیں۔

اس دوران حکومتی ترجمان شہزاد اکبر کا ٹویٹ سامنے آگیا جس میں اس نے کہا تھا کہ برطانیہ سے آنے والی رقم سپریم کورٹ میں جمع ہوگی اور وہاں سے وفاق کو ٹرانسفر ہوگی۔

" دانشوروں" کے نزدیک سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کا مطب ملک ریاض پر عائد 460 ارب کا جرمانہ ہی تھا، اس لئے انہوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ حکومت نے برطانوی جرمانے کی رقم کو سپریم کورٹ کے جرمانے کی ادائیگی میں کنورٹ کردیا۔

سپریم کورٹ نے دیا میر، بھاشا اور مہمند ڈیم کے فنڈ کیلئے کم و بیش 44 انٹرنیشنل بنک اکاؤنٹس کھول رکھے ہیں تاکہ فوری طور پر بیرون ممالک سے پیسہ ان بنکوں کے ذریعے پاکستان ٹرانسفرہوسکے۔

جب برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سیٹلمنٹ کی شرائط طے کررہی تھی، اس وقت حکومت پاکستان سے پوچھا گیا کہ وہ کس اکاؤنٹ میں یہ رقم ٹرانسفر کروانا چاہتے ہیں، سب سے آسان طریقہ یہی نظر آیا کہ سپریم کورٹ کے انٹرنیشنل بنک اکاؤنٹ جو کہ سرکاری بنک نیشنل بنک میں ہے، اس میں یہ رقم ڈالی جائے۔

190 ملین پونڈز جس اکاؤنٹ میں آرہے ہیں اس کا نمبر اور آئی بی اے این مندرجہ ذیل ہیں:

اکاؤنٹ: 0001004149413147
آئی بی اے این: PK33NBPA0001004149413147

اس اکاؤنٹ میں رقم برطانیہ سے ایسے ہی ٹرانسفر ہوگی جیسے برطانیہ کی ایک لوکل ٹرانزیکشن، کیونکہ نیشنل بنک برطانیہ میں بھی شاخیں رکھتا ہے۔

پھر وہاں سے پاکستان آئے گی اور پھر سپریم کورٹ سے وفاق پاکستان کو منتقل ہوجائے گی۔

!!! بقلم خود باباکوڈا
 

جاسم محمد

محفلین
حکومت ملک ریاض کی وکالت کرنے پر کیوں مجبور ہے؟
06/12/2019 سید مجاہد علی



وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی بات مان لی جائے تو رنگے ہاتھوں پکڑا جانے والا ملک ریاض نیک اور جس شہباز شریف کے خلاف حکومت اور احتساب بیورو ابھی تک کوئی مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، انہیں چور ماننا پڑتا ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر مراد سعید کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزاد اکبر کی گفتگو کا فوکس یہ نکتہ رہا کہ اگرچہ برطانوی حکام نے ملک ریاض سے19 کروڑ پاؤنڈ کی وصولی کے عوض ان کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں کا مقدمہ قائم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اہل پاکستان اسے صرف سول معاملہ سمجھیں جس میں کوئی قانون شکنی نہیں ہوئی۔ یعنی ملک ریاض جو کثیر رقم حکومت برطانیہ کو ادا کریں گے، اس پر مجرمانہ سرگرمی کے حوالے سے کوئی سوال نہ اٹھایا جائے۔ ملک ریاض کے ساتھ حکومت کی شفقت کم از کم یہ بات تو واضح کرتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے خلاف الزامات کو دراصل سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے ۔ اس پارٹی کی حکومت اور قیادت کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کی ثقافت کیسے فروغ پاتی رہی ہے اور سیاسی لیڈروں کے علاوہ سماج کے کون سے دوسرے طبقات اس گھناؤنے کام میں ملوث رہے ہیں۔

ملک ریاض کو اپنی دولت کی طاقت پر اس حد تک گمان رہا ہے کہ وہ ماضی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں فخر سے یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ سرکاری دفاتر میں فائل کو آگے بڑھانے کے لئے اسے ’پہیے‘ لگانا پڑتے ہیں۔ سیاست دانوں، میڈیا مالکان اور بااثر صحافیوں کے ساتھ براہ راست تعلقات کی وجہ سے کبھی ان بے قاعدگیوں اور غیر قانونی سرگرمیوں پر بات نہیں کی گئی جو ملک ریاض کے زیر انتظام چلنے والے متعدد منصوبوں میں سامنے آتی رہی ہیں۔ تین سال قبل انگریزی روزنامہ ڈان نے کراچی بحریہ ٹاؤن کے لئے حاصل کی گئی زمین کے حوالے سے غیر قانونی سرگرمیوں کا پردہ فاش کیا تھا لیکن اس وقت بھی اس رپورٹ پر میڈیا میں چرچا کرنے کی بجائے ملک ریاض کے اس وضاحتی بیان کو زیادہ توجہ کا مستحق سمجھا گیا تھا کہ ڈان گروپ نے ان سے گراں قدر اشتہار مانگے تھے۔ یہ اشتہار نہ ملنے کی صورت میں بحریہ ٹاؤن کے بارے میں منفی رپورٹنگ کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ میں یہی معاملہ پیش ہونے کے بعد ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن نے 460 ارب روپے ادا کرنے کے عوض نیب سے مقدمات خارج کروانے اور کسی قسم کی قانونی سزا سے بچنے کا اہتمام کیا تھا۔ بحریہ ٹاؤن کے ایک منصوبہ کے خلاف شروع ہونے والی کارروائیوں کو رکوانے کے لئے اس قدر خطیر رقم ادا کرنے پر رضا مندی دراصل یہ واضح کرتی ہے کہ اس ’عظیم شخصیت‘ کی زیر نگرانی دیگر منصوبوں میں کیا گل کھلائے گئے ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو عوام نے صرف اس لئے خوش دلی سے قبول کیا تھا کہ انہیں لگا کہ اس طرح قوم کو کثیر وسائل حاصل ہوجائیں گے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے نزدیک بھی اس معاملہ میں رقم کے عوض قانون شکنی کو نظر انداز کرنے کے فیصلہ کی ایک بنیاد یہ بھی رہی ہوگی کہ بحریہ ٹاؤن کراچی میں ہزاروں شہریوں کا سرمایہ پھنسا ہؤا تھا۔ اس لئے ملک ریاض یا ان کے ساتھیوں کے خلاف عدالتی کارروائی کے نتیجہ میں ان بے گناہ لوگوں کو ہی اصل نقصان برداشت کرنا پڑتا۔ اس کے علاوہ ملک میں روزگار فراہم کرنے والے سب سے بڑے سرمایہ دار گروپ کے خلاف کارروائی سے طویل المدت معاشی بحران اور بے یقینی پیدا ہوتی۔

اس حد تک تو یہ بات قابل فہم ہے۔ لیکن یہ سوال بدستور اپنی جگہ پر موجود رہے گا کہ کیا کسی شخص اور گروپ کو اس عذر پر چوری کرنے، زمینوں پر ناجائز قبضہ یا رشوت ستانی کے ذریعے اونے پونے خریدنے کا استحقاق دیا جاسکتا ہے کہ بصورت دیگر ملک کو مالی نقصان ہوگا یا کئی ہزار لوگوں کا روزگار متاثر ہوگا۔ اگر یہی رویہ ریاست پاکستان کی پالیسی کی بنیاد رہے گا تو اس ملک سے کرپشن ختم کرنے کی باتوں کی جھوٹے دعوؤں سے زیادہ حیثیت نہیں ہو گی۔ جب تک جرم کرنے والے شخص یا کمپنی کو مالی جرائم میں ملوث ہونے کی باقاعدہ سزا دینے اور قانون شکنی پر جواب دہ کرنے کی روایت کا آغاز نہیں کیا جاتا، اس وقت تک پاکستان سے کرپشن کے خاتمے کا خواب پورا ہونا محال ہے۔

مئی میں بحریہ ٹاؤن کراچی کے معاملہ میں 460 ارب روپے کے عوض مقدمات ختم کرتے ہوئے نہ تو سپریم کورٹ نے معاملہ کے اس پہلو پر روشنی ڈالی اور نہ ہی بعد میں حکومت نے قانون کے اس نقص کو دور کرنے کے لئے کوئی اقدام کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ حالانکہ کرپشن فری نیا پاکستان بنانے کے دعوے داروں کو قوم و ملک کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کرنے والے شخص اور گروپ کے خلاف کارروائی کے لئے قانون سازی کرنے میں سرگرمی دکھانے کی ضرورت تھی۔ اسی طرح سپریم کورٹ کو بھی یہ واضح کرنا چاہئے تھا کہ رقم کی ادائیگی کے عوض مقدمات کا خاتمہ عملیت پسندی تو ہو سکتا ہے لیکن اس سے ملک میں قانون کے احترام کا اصول راسخ نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگوں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ وہ اطمینان سے غیر قانونی دھندے میں مشغول رہ سکتے ہیں، کیوں کہ پکڑے جانے پر، اس لوٹ کا کچھ حصہ ادا کرکے وہ نیب یا عدالت کے توسط سے دوبارہ ملک کے قانون پسند شہری بن سکتے ہیں جن کے دامن پر کسی قسم کی قانون شکنی کا کوئی داغ نہیں ہوگا۔ نیب کا پلی بارگین کا قانون ہو یا ملک ریاض کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ، یہ دونوں عمران خان کی مدینہ ریاست اور نیا پاکستان ’ویژن‘ کے برعکس ہیں۔ تحریک انصاف اس طرز عمل اور طریقہ کار کا نوٹس لئے بغیر اپنے کسی دعوے کو درست ثابت نہیں کرسکتی۔

بدقسمتی سے احتساب کی بیخ کنی کے لئے مقرر کئے گئے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے برطانیہ میں طے پانے والے معاہدہ کے بعد جو رویہ اختیار کیا ہے، وہ نہ صرف حقائق کے برعکس، تحریک انصاف کے منشور کے خلاف اور اصول قانون سے متصادم ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی قوی ہوتا ہے کہ حکومت دراصل ملک ریاض کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لئے کبھی ایک غیر ملک میں ہونے والی کارروائی کی حساسیت کا حوالہ دیا جاتا ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہؤا بلکہ یہ ایک سول معاملہ تھا۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کو پہلی بار ایک خطیر رقم منتقل ہورہی ہے۔ اس لئے اہل پاکستان کو اس پر خوش ہونا چاہئے۔ یہی سوال شہزاد اکبر اور تحریک انصاف کی حکومت سے کرنے کی ضرورت ہے کہ اس اہم کامیابی پر حکومت گرمجوشی اور خوشی کا اظہار کرنے میں کیوں ناکام رہی ہے؟

شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ افسوسناک اشارہ دیا ہے کہ برطانیہ ملک ریاض سے جو رقم وصول کرکے پاکستان کے حوالے کرے گا، اسے سپریم کورٹ کے حوالے کیا جائے گا۔ بعد میں یہ رقم سپریم کورٹ سے سرکاری خزانہ میں جمع ہوجائے گی۔ یعنی ملک ریاض نے برطانیہ میں جرم کا اعتراف کرکے رقم ادا کرنے کا جو معاہدہ کیا ہے، حکومت اب اس پر ملک ریاض کی وضاحت کو تسلیم کر رہی ہے۔ ملک ریاض کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کو ادا کی جانے والی رقم جمع کرنے کے لئے برطانیہ میں اپنی املاک پیچ کر یہ رقم برطانوی حکومت کے حوالے کی ہے۔ یعنی 19 کروڑ پاؤنڈ یا 38 ارب روپے کے لگ بھگ رقم اب ان 460 ارب روپے میں سے منہا کرلی جائے گی جو ملک ریاض سپریم کورٹ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت ادا کرنے کے پابند ہیں۔

حقیقت مگر یہ ہے کہ یہ دونوں مختلف معاملات ہیں۔ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے لئے ناجائز طور سے حاصل کی گئی زمینوں کو ریگولر کرنے کے لئے 460 ارب روپے کا معاوضہ قبول کیا تھا۔ جبکہ برطانیہ میں 19 کروڑ پاؤنڈ کا معاہدہ، ان وسائل کے ذریعہ آمدنی کو ثابت کرنے میں ناکامی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ ملک ریاض کی یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ پاکستان کے معاہدہ کی رقم ادا کرنے کے لئے برطانیہ کی املاک فروخت کی ہیں۔ برطانیہ کی حکومت جو رقم وصول کررہی ہے ان میں سے 12 کروڑ پاؤنڈ تو ان آٹھ اکاؤنٹس میں موجود تھے جنہیں ناجائز دولت کا سراغ لگانے والے قانون کے تحت اگست میں منجمد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 5 کروڑ مالیت کی ایک جائیداد حکومت برطانیہ کے حوالے کی گئی ہے۔ اب حکومت اسے فروخت کرکے یہ رقم پاکستان منتقل کرے گی۔

ملک ریاض اور شہزاد اکبر کی طرف سے سپریم کورٹ کے ساتھ ہونے والے معاہدے اور برطانیہ میں طے کئے گئے معاملہ کو ملانا دو لحاظ سے غلط اور چونکا دینے والا ہے۔

1)برطانیہ سے وصول ہونے والی رقم کو اگر سپریم کورٹ کے ساتھ طے پانے والے معاہد ہ کی مد میں ادا کرنے کا اہتمام کیا گیا اور حکومت نے اسے مان لیا تو یہ دراصل اہل پاکستان کو 38 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔

2) ملک ریاض پاکستان میں اپنے کاروبار کے ذریعے وسائل برطانیہ لے کر گئے تھے۔ اسی لئے برطانیہ یہ رقم حکومت پاکستان کے حوالے کررہا ہے۔ اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ یہ رقم وہاں کیسے پہنچائی گئی۔ کیوں کہ اسی طریقہ کو منی لانڈرنگ کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار جدید معیشت میں سنگین جرم سمجھاجاتا ہے۔

حکومت اگر برطانیہ کے ذریعے وصول ہونے والے 19 کروڑ پاؤنڈ (تقریباً 38 ارب روپے) کو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کا اعلان کررہی ہے تو یہ ایک جرم پر پردہ ڈالنے کی سرکاری کوشش اور قومی خزانے کو براہ راست نقصان پہنچانےکے مترادف ہوگا۔ شہزاد اکبر کو پریس کانفرنس میں شہباز شریف کے مافیا ہتھکنڈے واضح اور ثابت کرنے پر وقت برباد کرنے کی بجائے، یہ بتانا چاہئے کہ حکومت ملک ریاض کے معاملہ میں کیا پالیسی اختیار کر رہی ہے؟ اسی طرح حکومت کا اصل چہرہ دیکھا جا سکے گا۔
 

جاسم محمد

محفلین
1)برطانیہ سے وصول ہونے والی رقم کو اگر سپریم کورٹ کے ساتھ طے پانے والے معاہد ہ کی مد میں ادا کرنے کا اہتمام کیا گیا اور حکومت نے اسے مان لیا تو یہ دراصل اہل پاکستان کو 38 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔
کیا یہ پیسا بھارت کی سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوا ہے؟

2) ملک ریاض پاکستان میں اپنے کاروبار کے ذریعے وسائل برطانیہ لے کر گئے تھے۔ اسی لئے برطانیہ یہ رقم حکومت پاکستان کے حوالے کررہا ہے۔ اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ یہ رقم وہاں کیسے پہنچائی گئی۔ کیوں کہ اسی طریقہ کو منی لانڈرنگ کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار جدید معیشت میں سنگین جرم سمجھاجاتا ہے۔
تو پھر نواز شریف، زرداری وغیرہ کی اسی طرح سے کی گئی منی لانڈرنگ پر خاموشی کیوں؟ تب تو آپ لوگ کہتے ہیں یہ سب جائز طریقہ سے بنائی گئی جائیدادیں ہیں۔ اور منی لانڈرنگ کے مقدمات اسٹیبلشمنٹ نے بنائے ہیں۔ اور اب ملک ریاض کے موقع پر دوہرا معیار کہ یہ رقم وہاں کیسے پہنچی؟

حکومت اگر برطانیہ کے ذریعے وصول ہونے والے 19 کروڑ پاؤنڈ (تقریباً 38 ارب روپے) کو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کا اعلان کررہی ہے تو یہ ایک جرم پر پردہ ڈالنے کی سرکاری کوشش اور قومی خزانے کو براہ راست نقصان پہنچانےکے مترادف ہوگا۔ شہزاد اکبر کو پریس کانفرنس میں شہباز شریف کے مافیا ہتھکنڈے واضح اور ثابت کرنے پر وقت برباد کرنے کی بجائے، یہ بتانا چاہئے کہ حکومت ملک ریاض کے معاملہ میں کیا پالیسی اختیار کر رہی ہے؟ اسی طرح حکومت کا اصل چہرہ دیکھا جا سکے گا۔
نواز شریف، زرداری حکومتوں کا اصل چہرہ قوم کے سامنے لانے کی ہمت نہیں اور تحریک انصاف حکومت کا اصل چہرہ دیکھنے کی تڑپ میں مرے جا رہے ہیں ہے۔ لبرلز ، لفافے لا علاج ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
ملک ریاض کا تصفیہ: فائدہ ملک ریاض ہی کو؟
اس معاملے میں حکومت کے رویے پر سوشل میڈیا میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ بھی شروع ہو گیا ہے جس کے تحت تنقید کی جا رہی ہے کہ حکومت پردہ پوشی سے کام لے رہی ہے۔

محمد ثاقب تنویر
پروڈیوسر، اسلام آباد SaqibTanveer@
جمعہ 6 دسمبر 2019 15:45

56861-39244447.jpg


سوال یہ ہے کہ آیا برطانیہ سے آیا پیسہ ملک ریاض کی سپریم کورٹ کے ساتھ سیٹلمنٹ کا حصہ ہو گا یا نہیں۔ (تصویر: ملک ریاض/فیس بک)

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اپنی ٹویٹ میں وضاحت کی ہے کہ برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ ملک ریاض کے تصفیے کے بعد 19 کروڑ ملین پاؤنڈ (پاکستانی روپوں میں تقریباً 38 ارب) سپریم کورٹ کے نیشنل بینک کے اکاؤنٹ میں جائیں گے۔ شہزاد اکبر کے مطابق 19 کروڑ میں سے 14 کروڑ پاؤنڈ (ساڑھے 28 ارب روپے) سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آ چکے ہیں۔

شہزاد اکبر نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو پیسے ملنے کے بعد حکومت کورٹ سے درخواست کرے گی کہ پیسے حکومت پاکستان کو دے دیے جائیں تا کہ عوام کی فلاح پر خرچ کیے جا سکیں۔


شہزاد اکبر نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ’حکومتِ پاکستان نے اس معاملے کو صیغۂ راز میں رکھنے کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔ حکومت نے برطانیہ سمیت دوسرے ملکوں سے بھی اسی طرح کے معاہدے کر رکھے ہیں، اور ہمیں کروڑوں ڈالر آنے کی امید ہے، اس لیے ہم صیغۂ راز میں رکھنے کے اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔‘


لیکن سوشل میڈیا پر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آیا یہ معاہدہ ملک ریاض کے ساتھ ہوا ہے یا حکومتِ برطانیہ کے ساتھ؟ اور یہ کیا حکومت کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ اتنے اہم معاملے میں شفافیت برتے؟

دوسری طرف ملک ریاض کے برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ تصفیے کو جوڑنے پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں کہ اس پیسے کو سپریم کورٹ میں کیسے جمع کرایا جا سکتا ہے جب کہ سپریم کورٹ اور برطانوی کرائم ایجنسی کے کیس میں بظاہر کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

ملک ریاض کے مطابق یہ 19 کروڑ پاؤنڈ سپریم کورٹ میں ان پر بحریہ ٹاؤن کیس کی مد میں جمع کرائے جائیں گے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ کچھ لوگ مجھ پر کیچڑ اچھالنے کے لیے نیشنل کرائم ایجنسی کی رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی جائیداد سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کیس کے حوالے سے 19 کروڑ پاؤنڈ جمع کرانے کے لیے بیچی ہے۔

اس معاملے میں حکومت کے رویے پر سوشل میڈیا میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ بھی شروع ہو گیا ہے جس کے تحت تنقید کی جا رہی ہے کہ حکومت پردہ پوشی سے کام لے رہی ہے۔

ملک ریاض کی برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ سیٹلمنٹ اور سپریم کورٹ میں ہونے والے فیصلے میں بظاہر کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ سپریم کورٹ نے ملک ریاض کی 460 ارب روپے کی پیشکش مارچ 2019 میں قبول کی تھی اور وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں تھی جب کہ برطانیہ کے اندر تحقیقات اور ملک ریاض کے اکاؤنٹس کو منجمد دسمبر 2018 میں کرنا شروع کیا گیا تھا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملک ریاض کے مطابق انہوں نے یہ جائیداد سپریم کورٹ کے لیے بیچی ہے تو نیشنل کرائم ایجنسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے مہینوں پہلے کیسے ان کے اکاؤنٹس منجمد کرنا شروع کر دیے تھے؟

برطانوی کرائم ایجنسی نے اپنی پریس ریلیز میں لکھا تھا کہ یہ پیسہ ریاست پاکستان کو فراہم کر دیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا برطانیہ سے آیا پیسہ ملک ریاض کی سپریم کورٹ کے ساتھ سیٹلمنٹ کا حصہ ہو گا یا نہیں۔ ملک ریاض کے مطابق یہ پیسہ سپریم کورٹ کے ساتھ 460 ارب کی سیٹلمنٹ میں جائے گا۔

بظاہر سپریم کورٹ کا کیس اور برطانوی کرائم ایجنسی کی تحقیقات دونوں الگ کیس ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک ریاض کی سیٹلمنٹ دونوں کیسوں میں الگ معاملات پر ہیں۔ اگر برطانیہ سے واپس آئے پیسے کو سپریم کورٹ کیس کا حصہ بنایا جا رہا ہے تو ملک ریاض کو 38 ارب روپے کا فائدہ ہو گا۔

سپریم کورٹ نے ملک ریاض پر 460 ارب روپے کا بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں جرمانہ لگایا۔ ملک ریاض پر برطانیہ میں 38 ارب روپے سے زائد کا مزید جرمانہ بظاہر کسی اور کیس میں تحقیقات کے بعد ہوا۔ دونوں جرمانوں کو ملا کر ملک ریاض کو 498 ارب روپے کے جرمانے ادا کرنا تھا۔ مگر اگر اب برطانیہ سے حاصل 38 ارب روپے کو 460 ارب کی مد میں وصول کیا جا رہا ہے تو اس کا فائدہ ملک ریاض کو ہو گا اور نقصان ریاست پاکستان کو۔ حکومت پاکستان کو 498 ارب روپے کی بجائے اب 460 ارب روپے ہی ملیں گے۔ گویا حکومت پاکستان کو برطانیہ میں ہوئے تصفیے کا کوئی فائدہ ہوا ہی نہیں اور ملک ریاض کو برطانوی کرائم ایجنسی سے سیٹلمنٹ کا کوئی نقصان نہیں ہوا کیوں کہ پہلے بھی انہوں نے 460 ارب روپے ادا کرنے تھے اور اب بھی 460 ہی ادا کر رہے ہیں۔

یہاں یہ بھی سوال اہم ہے کہ اگر برطانوی کرائم ایجنسی ریاست پاکستان کو پیسے واپس کر رہی ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ یہ پیسہ پاکستان سے گیا تھا، اور بظاہر غیر قانونی طریقے سے گیا تھا۔ مگر حکومت پاکستان کی طرف سے کسی تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا کہ ملک ریاض کون سے چینل سے یہ پیسہ ملک سے باہر لے کر گئے اور کیا انہوں نے اس پیسے پر کتنا ٹیکس ادا کیا۔

انٹرنیشنل لا اور منی لانڈرنگ قوانین کے ماہر بیرسٹر اور ایف آئی اے سابق پراسیکیوٹر زاہد جمیل نے اس معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو کو اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے وزیروں کے بیانات میں تضادات پایا جاتا ہے۔ ’وہ کہتے ہیں کہ وہ بندے کا نام نہیں لے سکتے جب کہ برطانوی کرائم ایجنسی نے اپنی پریس ریلیز میں انہوں نے نہ صرف کمنٹ کیا بلکہ نام بھی لیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ بظاہر ایک الگ کیس میں دوسرے کیس کا پیسہ کیسے آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف میں یہ وضاحت ہونا ضروری ہے اور امید ہے کہ تحریک انصاف حکومت اس معاملے پر وضاحت دے گی۔
 

جاسم محمد

محفلین
لیکن سوشل میڈیا پر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آیا یہ معاہدہ ملک ریاض کے ساتھ ہوا ہے یا حکومتِ برطانیہ کے ساتھ؟ اور یہ کیا حکومت کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ اتنے اہم معاملے میں شفافیت برتے؟
یہ معاہدہ حکومت پاکستان، یوکے کی نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض کے درمیان ہوا ہے۔ معاہدہ کے تحت حکومت سیٹلمنٹ کی تفصیل پبلک کرنےکی آزادی نہیں رکھتی۔

ملک ریاض کی برطانوی کرائم ایجنسی کے ساتھ سیٹلمنٹ اور سپریم کورٹ میں ہونے والے فیصلے میں بظاہر کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ سپریم کورٹ نے ملک ریاض کی 460 ارب روپے کی پیشکش مارچ 2019 میں قبول کی تھی اور وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں تھی جب کہ برطانیہ کے اندر تحقیقات اور ملک ریاض کے اکاؤنٹس کو منجمد دسمبر 2018 میں کرنا شروع کیا گیا تھا۔
بحریہ ٹاؤن اراضی کیس میں ملک ریاض کو 460 ارب روپے کا جرمانہ ہوا تھا۔ یہ رقم پاکستانی روپوں کے علاوہ غیرملکی کرنسی میں بھی قسط وار ادا کرنا واجب تھی۔ جبکہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے حکومت پاکستان کی درخواست پر ملک ریاض کے مقامی اثاثے نومبر 2018 کے بعد منجمد کر لئے تھے۔ جنہیں اب سیٹلمنٹ کے ذریعہ ملک واپس لایا جا رہا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملک ریاض کے مطابق انہوں نے یہ جائیداد سپریم کورٹ کے لیے بیچی ہے تو نیشنل کرائم ایجنسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے مہینوں پہلے کیسے ان کے اکاؤنٹس منجمد کرنا شروع کر دیے تھے؟
کیونکہ حکومت پاکستان نے ملک ریاض کے اثاثوں کے خلاف نومبر 2018 میں درخواست دائر کی تھی۔ جبکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 2019 میں آیا۔

سپریم کورٹ نے ملک ریاض پر 460 ارب روپے کا بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں جرمانہ لگایا۔ ملک ریاض پر برطانیہ میں 38 ارب روپے سے زائد کا مزید جرمانہ بظاہر کسی اور کیس میں تحقیقات کے بعد ہوا۔ دونوں جرمانوں کو ملا کر ملک ریاض کو 498 ارب روپے کے جرمانے ادا کرنا تھا۔ مگر اگر اب برطانیہ سے حاصل 38 ارب روپے کو 460 ارب کی مد میں وصول کیا جا رہا ہے تو اس کا فائدہ ملک ریاض کو ہو گا اور نقصان ریاست پاکستان کو۔ حکومت پاکستان کو 498 ارب روپے کی بجائے اب 460 ارب روپے ہی ملیں گے۔ گویا حکومت پاکستان کو برطانیہ میں ہوئے تصفیے کا کوئی فائدہ ہوا ہی نہیں اور ملک ریاض کو برطانوی کرائم ایجنسی سے سیٹلمنٹ کا کوئی نقصان نہیں ہوا کیوں کہ پہلے بھی انہوں نے 460 ارب روپے ادا کرنے تھے اور اب بھی 460 ہی ادا کر رہے ہیں۔
اگر حکومت پاکستان سپریم کورٹ کے کیس کا حوالہ دئے بغیر یہ پیسے ریکور کرنے کی کوشش کرتی تو پہلے ملک ریاض کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ کرنا پڑتا۔ جو کئی سال چلتا۔ اور جس کا انجام بھی بحریہ ٹاؤن اراضی کیس کی طرح سیٹلمنٹ پر ہی ختم ہونا تھا۔ مزید تاخیر سے بچنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز نے فوری طور پر یہ پیسا ایک حتمی اور فیصلہ کن کیس کا حوالہ دے کر ملک واپس منگوا لیا۔ اور اب سپریم کورٹ کو پٹیشن کر دی گئی ہے کہ اس پیسے کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی اجازت دی جائے۔ یعنی اسے بحریہ ٹاؤن اراضی کیس کی قسط سے خارج کر دیا ہے۔

یہاں یہ بھی سوال اہم ہے کہ اگر برطانوی کرائم ایجنسی ریاست پاکستان کو پیسے واپس کر رہی ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ یہ پیسہ پاکستان سے گیا تھا، اور بظاہر غیر قانونی طریقے سے گیا تھا۔ مگر حکومت پاکستان کی طرف سے کسی تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا کہ ملک ریاض کون سے چینل سے یہ پیسہ ملک سے باہر لے کر گئے اور کیا انہوں نے اس پیسے پر کتنا ٹیکس ادا کیا۔
پاکستان میں نواز شریف کے پہلے دور میں پاس کردہ اکانمک ریفارم ایکٹ 1992 کے تحت ملک میں باہر سے پیسا لانے پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ نہ ہی سورس آف انکم پوچھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک 1992 سے منی لانڈرنگ اور کرپشن کا عالمی اڈہ بنا ہوا ہے۔
https://tribune.com.pk/story/1107827/pakistani-laws-facilitate-money-laundering/

انٹرنیشنل لا اور منی لانڈرنگ قوانین کے ماہر بیرسٹر اور ایف آئی اے سابق پراسیکیوٹر زاہد جمیل نے اس معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو کو اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے وزیروں کے بیانات میں تضادات پایا جاتا ہے۔ ’وہ کہتے ہیں کہ وہ بندے کا نام نہیں لے سکتے جب کہ برطانوی کرائم ایجنسی نے اپنی پریس ریلیز میں انہوں نے نہ صرف کمنٹ کیا بلکہ نام بھی لیا ہے۔‘
وزیر اعظم کے مشیر برائے ایسٹ ریکوری شہزاد اکبرنے پرسوں پریس کانفرنس میں ملک ریاض کا نام متعدد بار لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ بظاہر ایک الگ کیس میں دوسرے کیس کا پیسہ کیسے آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف میں یہ وضاحت ہونا ضروری ہے اور امید ہے کہ تحریک انصاف حکومت اس معاملے پر وضاحت دے گی۔
حکومت جتنی بھی وضاحتیں دے دے ۔ لفافوں اورلبرل بریگیڈ نے مطمئن پھر بھی نہیں ہونا۔
 

جاسم محمد

محفلین
۳۸ ارب کی ’خاموش‘ واپسی —- سید مظفر الحق
دانش ڈیسک on دسمبر 6, 2019 بلاگز

ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں، بات بحری قزاقوں کے قبضے سے یرغمال بنائے ہوئے پاکستانیوں کو چھڑانے کی ہو، عبدالستار ایدھی کے آفس سے چرائے گئے سونے کانقصان پورا کرنے کا مسئلہ ہو، افتخار چوہدری کے بحالی کی دلّالی کا ذکر ہو، شہباز شریف کے وعدوں کی تکمیل کے لئے مکانات تعمیر کرنے کی مثال ہو یا زرداری کے لئے محل نما قصر بلاول بنا کر ہدیہ کردینے کی خبر ہو، ہر ایک معاملے میں ایک ہی شخص کا نام آتا ہے، وہی شخص جو اپنی کامیابی کا راز فائلوں کے نیچے نوٍٹوں کے پہئے لگانے کو بتاتا ہے اور جس کے عطا کردہ گرانقدر اشتہارات میڈیا کے منہ کو مقفل کئے رکھتے ہیں، جس کے دان کیئے ہوئے مکانات پلاٹ اور کاریں صحافیوں کی زبانوں کو مفلوج اور ان کے قلم کو مفعول بنادیتے ہیں،

یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ عجیب و غریب اور پراسرار شخص ہے جو فرش سے اٹھ کر عرش پہ پہنچا اور ہر پاکستان کا ہر صاحب اقتدار اس کے زیرِ سایہ نظر آتا ہے، پتہ نہیں چوہدری نثار علی خان کیسے بچ نکلا اور اسے پوٹھوار کی شکار گاہ چھوڑ کر سندھ کے ریگزاروں میں تگ و تاز کے لئے مجبور کردیا، یہ شخص زرداری کا بھی دوست ہے شریف خاندان کا بھی ہم نفس و دمساز ہے خاکیوں کا بھی دلدار اور کارساز ہے اور کسی کو اس کے خلاف لب کشائی کا یارا نہیں ہوتا،

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار الٹی گنگا بہہ رہی ہے ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک جانے کے بجائے ملک میں واپس آرہی ہے، حکومتِ برطانیہ نے الطاف حسین، اسحاق ڈار، حسن اور حسین نواز تو پاکستان کے حوالے نہیں کئے لیکن پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت میں سے ۳۸ ارب کی خطیر رقم ضرور واپس کردی، وہاں کی کرائم ایجنسی نے تحقیقات کے بعد لندن کی ایک جائیداد اور بینک اکاؤنٹ میں موجود پاکستانی ٹائکون یا طلسماتی شخص ملک ریاض کی جانب سے خاطر خواہ یا اطمینان بخش تفاصیل فراہم نہ کرنے پہ اس رقم کو پاکستان سے غیر قانونی طور پہ پاکستان سے وہاں بھیجنے کا یقین کرتے ہوئے یہ رقم حکومت پاکستان کو واپس کردی ہے،

جس جائیداد کا ذکر ہے وہ ملک ریاض کی ملکیت تھی جو اس نے حسن نواز سے اس وقت خریدی تھی جب پناما لیکس کے منظر عام پہ آنے کے بعد مزید رسوائی اور انکشافات سے بچنے کے لئے شریف خاندان عجلت میں اپنے نام پہ موجود جائیدادوں کو ادِھر ادُھر کر رہا تھا، کیونکہ ملک ریاض مبینہ طور پہ شریف خاندان کا بھی فرنٹ مین یا کارندہ ہے اس لئے گمان ہے کہ جائیداد کی خرید وفروخت میں استعمال ہونے والی رقم بھی درحقیقت شریف خاندان ہی کی تھی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سن انیس سو نوے کے عشرے میں حسن نواز کے پاس یہ جائیداد خریدنے کے لئے رقم کن ذرائع سے فراہم ہوئی تھی اور جب سن دوہزار سولہ میں ملک ریاض کے پاس لندن میں یہ دولت کہاں سے آئی، اس کی کوئی منی ٹریل نہیں ہے اگر یہ رقم پاکستان سے وہاں منتقل کی گئی تھی تو یقیناً غیر قانونی ذرائع استعمال ہوئے ہوں گے اور یہ منی لانڈرنگ کے ضمن میں آتا ہے اور اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے جس پہ حکومت اور ذرائع ابلاغ چپ سادھے ہوئے ہیں اس سے زیادہ حیران کن اور معنی خیز امر یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے وزراء اور ترجمانوں کو اس موضوع پہ لب کشائی سے روک دیا ہے آخر کیوں؟ کیا وزیر اعظم بھی ملک ریاض کے زیر اثر یا زیر بار احسان ہیں یا پھر رقم کی یہ واپسی کسی سمجھوتے کے تحت پہلی قسط ہے جو ملک ریاض کے ذریعے عمل میں لائی گئی ہے اور میڈیا کیوں خاموش ہے یا خاموش کردیا گیا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
ملک ریاض bulldozer ہے کیا جو اس کے بغیر گھر نہیں بن سکتے؟
پاکستان میں اگر کسی کو سب سے کم وقت میں سب زیادہ گھر بنانے کا کامیاب تجربہ ہے تووہ صرف ملک ریاض ہے۔
بصورت دیگر چین یا کسی اور ملک کی کمپنیز کو ٹھیکے دینے پڑیں گے اور یوں سرمایہ ملک سے باہر سے چلا جائے گا۔
 

جان

محفلین
تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے! اب کم از کم شخصیت پرست مذہبی طبقے پہ تنقید کا جواز آپ کے پاس نہیں رہا!
مجھے تو 'آدھا تیتر، آدھا بٹیر' والی مثال یاد آ رہی ہے! :)
اب محسوس ہو رہا ہے کہ 'لنڈے کے لبرلز' والی اصطلاح ایسے ہی وجود میں نہیں آ گئی! :)

یہ بھی لبرلز اور لفافوں کو قبول نہیں۔

لبرل، لفافے آم کھائیں گٹھلیاں نہ گنے۔

لبرلز ، لفافے لا علاج ہیں۔

لبرل بریگیڈ نے مطمئن پھر بھی نہیں ہونا۔
 
آخری تدوین:
Top