1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

برائے اصلاح

عابد علی خاکسار نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 8, 2019

  1. عابد علی خاکسار

    عابد علی خاکسار محفلین

    مراسلے:
    353
    الف عین صاحب
    عظیم صاحب

    نغمہ بھی ہے الگ مرا ، مضراب اور ہے
    محفل میں میرا سوز-تب و تاب اور ہے

    تنہائی ،دشت ،صحرا سے یارانہ ہے مرا
    عاشق ہوں میرا حلقہء احباب اور ہے

    مستی نہیں اس میں ،جگاتی ہے عقل کو
    میخوارو میرے پاس مئے ناب اور ہے

    طوفان کے بھنور نہیں کچھ میرے سامنے
    "دل جس میں ڈوبتا ہے وہ گرداب اور ہے

    جو ہیں ہوس پرست در-حسن چھوڑ دیں
    آساں نہیں ہے عشق یہ تو باب اور ہے

    ملتا نہیں سکون مجھے ایک بھی گھڑی
    لگتا ہے میرے پاس دل -بے تاب اور ہے

    دھڑکن پہ دل کی نغمے سناتا ہوں دم بدم
    سب غور سے سنو مرا مضراب اور ہے

    عابد فلک کا چاند بظاہر ہے خوب پر
    روشن کرے جو قلب وہ مہتاب اور ہے
     
  2. عابد علی خاکسار

    عابد علی خاکسار محفلین

    مراسلے:
    353
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,523
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلے تینوں آشعار درست لگ رہے ہیں
    جو ہیں ہوس پرست در-حسن چھوڑ دیں
    آساں نہیں ہے عشق یہ تو باب اور ہے
    ...' یہ تو باب' صوتی طور پر بھی اور گرامر کی رو سے بھی اچھا نہیں

    ملتا نہیں سکون مجھے ایک بھی گھڑی
    لگتا ہے میرے پاس دل -بے تاب اور ہے
    ... پہلا مصرع ۔ ایک گھڑی بھی کا محل ہے، ایک پل کو بھی کیا جا سکتا ہے
    دوسرے میں وزن کا مسئلہ ہے

    دھڑکن پہ دل کی نغمے سناتا ہوں دم بدم
    سب غور سے سنو مرا مضراب اور ہے
    ... دم بدم یہاں کچھ عجیب لگ رہا ہے، 'سب سنیں' گرامر کی رو سے بہتر ہے۔ مضراب شاید مؤنث ہے

    عابد فلک کا چاند بظاہر ہے خوب پر
    روشن کرے جو قلب وہ مہتاب اور ہے
    .. خوب پر، پر بجائے مگر اچھا نہیں لگتا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. عابد علی خاکسار

    عابد علی خاکسار محفلین

    مراسلے:
    353
    بہت شکریہ سر۔۔
     
  5. عابد علی خاکسار

    عابد علی خاکسار محفلین

    مراسلے:
    353
    نغمہ بھی ہے الگ مرا ، مضراب اور ہے
    محفل میں میرا سوز-تب و تاب اور ہے

    تنہائی ،دشت ،صحرا سے یارانہ ہے مرا
    عاشق ہوں میرا حلقہء احباب اور ہے

    مستی نہیں ہے اس میں ،جگاتی ہے عقل کو
    میخوارو میرے پاس مئے ناب اور ہے

    طوفان کے بھنور نہیں کچھ میرے سامنے
    "دل جس میں ڈوبتا ہے وہ گرداب اور ہے

    جو ہیں ہوس پرست در-حسن چھوڑ دیں
    آساں نہیں ہے عشق یہ تو باب اور ہے

    ایجاد کا خیال تو مردان-حر کا ہے
    ہائے مگر غلاموں کا ہر خواب اور ہے

    ملتا نہیں سکون مجھے ایک پل یہاں
    یوں لگتا ہے مرا دل -بے تاب اور ہے

    دھڑکن پہ گیت گاتا ہوں اکثر نئے نئے
    سب غور سے سنیں مری مضراب اور ہے

    عابد فلک کا چاند بھی تو خوب ہے مگر
    روشن کرے جو قلب وہ مہتاب اور ہے
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 10, 2019
  6. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    مستی نہیں اس میں ،جگاتی ہے عقل کو
    ۔۔۔یہ مصرع مجھے بحر سے خارج لگ رہا ہے۔

    جو ہیں ہوس پرست در-حسن چھوڑ دیں
    آساں نہیں ہے عشق یہ تو باب اور ہے
    ۔۔۔اس میں تو ابھی بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی!

    ایجاد کا خیال تو مردان-حر کا ہے
    ہائے مگر غلاموں کا ہر خواب اور ہے
    ۔۔مطلب مجھ پر واضح نہیں ہوا، خاص طور پر 'ایجاد' سے کیا کہنا مراد ہے سمجھ میں نہیں آ رہا۔
    دوسرا دونوں مصرعے 'ہے' پر ختم ہو رہے ہیں۔ 'ہائے' بھرتی کا لگ رہا ہے

    ملتا نہیں سکون مجھے ایک پل یہاں
    یوں لگتا ہے مرا دل -بے تاب اور ہے
    ۔۔۔لگتا میں الف کا اسقاط اچھا نہیں لگ رہا۔ اس کے علاوہ 'دل بے تاب' کے ٹکڑے میں ابھی بھی وزن کا مسئلہ لگ رہا ہے

    دھڑکن پہ گیت گاتا ہوں اکثر نئے نئے
    سب غور سے سنیں مری مضراب اور ہے
    ۔۔۔اپنے دل کی دھڑکن ہوتا تو اچھا تھا۔ صرف دھڑکن جچ نہیں رہا ۔ یا دل کی دھڑکن ہونا چاہیے تھا۔
    الفاظ بدل کر دیکھیں یہ مصرع بہتر کیا جا سکتا ہے

    عابد فلک کا چاند بھی تو خوب ہے مگر
    روشن کرے جو قلب وہ مہتاب اور ہے
    مقطع اچھا ہے۔ بس ایک خامی رہ گئی ہے کہ 'تو' طویل کھینچا ہوا ہے
    فلک کا میں اگر تنافر بھی دور کر لیں تو بہت خوب ہو جائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. عابد علی خاکسار

    عابد علی خاکسار محفلین

    مراسلے:
    353
    ایجاد سے مراد کہ آزاد لوگ نئی نئی چیزیں بنانے کے متعلق سوچتے رہتے ہیں مگر اس کے برعکس غلام فقط پیروی کا ہی سوچتے رہتے ہیں۔۔۔
    لگتا ہے یہ مرا دل-بےتاب اور ہے
    یہ تو اب وزن میں ہے۔۔
    یہ تو باب اور ہے باب کے متبادل کیا ہو سکتا ہے رہنمائی فرمائیں
     
  8. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    صرف ایجاد یہ مطلب نہیں دیتا۔ نئی نئی چیزیں یا کچھ ایجاد کرنے کا سوچتے رہتے ہیں وغیرہ ہونا چاہیے تھا۔
    'دلِ بے تاب' میں دِ لِ تقطیع اچھی نہیں لگ رہی
    'یہ تو باب' بڑی خرابی میرا خیال ہے کہ 'یہ تو' کی وجہ سے ہے۔ باب قافیہ تو مجھے لگتا ہے کہ استعمال کیا جا سکتا ہے مگر اس کے ساتھ الفاظ بدلنے کی ضرورت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر