1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

برائے اصلاح

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 12, 2018

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش

    دل میں ہزاروں وسوسے ڈالے ہوئے ہیں شرک کے
    ہائے ہماری بے بسی ایسے بتوں کے سامنے

    اِنّی قریب اس نے ہمارے پوچھنے پر کہہ دیا
    ہم نے مگر اللہ سے رکھے ہوئے ہیں فاصلے

    دل تین سو اور ساٹھ سے زائد بتوں کی بارگاہ
    کچھ تو بنائے وہم نے کچھ خواہشوں نے گھڑ لیے

    کیسا توکل ہے کہ ہو بس معجزے کے منتظر
    تقدیر کو اپنی بدلتے کیوں نہیں اعمال سے

    نیکی کی خواہش ماند ہے لیکن گناہوں کی ہوس
    رسوا کیا اس نفس نے دونوں جہانوں میں مجھے

    ذکرِ الہی کا ہے مقصد اور کیا اس کے سوا
    انسان بس ہر حال میں اللہ کا بندہ رہے
    ق
    میرے مقدر میں اگر کچھ نیکیاں باقی نہیں
    تو اے خدا اس جسم سے آزاد کردے اب مجھے
    یا فضل سے اپنے بدل دے نیکیوں میں سب گناہ
    بے شک امیدیں ہیں ترے بندوں کو تیرے فضل سے​
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,589
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دل میں ہزاروں وسوسے ڈالے ہوئے ہیں شرک کے
    ہائے ہماری بے بسی ایسے بتوں کے سامنے
    یوں بہتر نہیں ہو گا؟

    ڈالے ہوئے ہیں شرک نےدل میں ہزاروں وسوسے
    ہائے ہماری بے بسی اپنے بتوں کے سامنے
    باقی اشعار درست ہیں لیکن سب کی روانی بہتر کی جا سکتی ہے الفاظ بدل کر

    یا فضل سے اپنے بدل دے نیکیوں میں سب گناہ
    ... گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کی بات کا درست ابلاغ نہیں ہو رہا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر
    سر پہلا مصرع جیسا آپ نے لکھا پہلے ویسے ہی سوچا تھا لیکن "شرک نے" کے بجائے "شرک کے" زیادہ مناسب لگ رہا تھا یعنی "دل میں شرک کے وسوسے بتوں نے ڈالے ہوئے ہیں"۔
    جی سر میں دوبارہ اس غزل کو پیش کرتا ہوں تبدیلیوں کے بعد۔
     
  4. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین کچھ تبدیلیاں کی ہیں اب دیکھیے

    شرکِ خفی کی وجہ سے دل میں ہزاروں وسوسے
    ہائے بشر کی بے بسی وہم و گماں کے سامنے

    اللہ نے تو پوچھنے پر کہہ دیا اِنّی قریب
    پھر بھی مگر انسان نے رکھے ہوئے ہیں فاصلے

    دل تین سو اور ساٹھ سے زائد بتوں کی بارگاہ
    کچھ آزری ہے وہم کی کچھ خواہشوں نے گھڑ لیے

    بس معجزے کا منتظر رہنا توکل تو نہیں
    تقدیر کو اپنی بدلتے کیوں نہیں اعمال سے

    نیکی کوئی سرزد نہیں ہوتی گناہوں کے سبب
    دونوں جہانوں میں کیا اس نفس نے رسوا مجھے

    ذکرِ الہی کا کوئی مقصد نہیں اس کے سوا
    انسان بس ہر حال میں اللہ کا بندہ رہے
    ق
    میرے مقدر میں اگر کچھ نیکیاں باقی نہیں
    تو روح کو آزاد کردے جسم کے زندان سے
    یا پھر گناہوں کو بدل دے نیکیوں میں اے خدا
    بے شک ترے بندے کو تجھ سے خیر کی امید ہے​
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,589
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اب درست ہے کلام
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. اظہرعباس

    اظہرعباس محفلین

    مراسلے:
    50
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت اعلیٰ ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر