مقبول

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل:
محترم سید عاطف علی
محترم محمد خلیل الرحمٰن

آپ سے ان متفرق اشعار (شاید ان سب کو مجموعی طور پر نظم معریٰ کہا جا سکتا ہے) کی اصلاح کی التماس ہے

اوٹ سے پردے کی اس کا دیکھنا اچھا لگا
مجھ کو اس کے در پہ جا کر بیٹھنا اچھا لگا
٭
صبر کر کے درد سارے جھیلنا اچھا لگا
یہ ہنر بھی دل سے اپنے سیکھنا اچھا لگا
٭
جھیل ، دریا اور سمندر کا بھی ہے شیدائی وُہ
پَر مری آنکھوں میں اس کو تیرنا اچھا لگا
٭
کر دیئے مخلُوقِ کو جذبات کھیلن کو عطا
خود خُدا کو قسمتوں سے کھیلنا اچھا لگا
٭
چل رہا تھا ننگے پاؤں ہجر کے صحراؤں میں
جب مجھے یادوں سے تیری بھیگنا اچھا لگا
٭
پاس میرے لوٹ آیا آزما کر سب کو وُہ
ہار کر اس بے وفا سے جیتنا اچھا لگا
٭
حال میرا پوچھ کر میرا پڑوسی خوش ہوا
پھول ہمسائے کو مجھ کو بھیجنا اچھا لگا
٭
خامشی مقبول اتنی تھی کہ جنت میں مجھے
روح پر بھاری پڑی تو چیخنا اچھا لگا​
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
تو غزل کی طرح مطلع مقطع کا یہاں شمول کیوں؟ شاید قوافی نہ ہونے کی وجہ سے اسے مفرد اشعار کا مجموعہ کہہ رہے ہو (نظم تو نہیں ہے کہ سب کے معنی مختلف ہیں) لیکن ان اشعار کا فائدہ؟
کھیلن لفظ بے معنی ہے
 

مقبول

محفلین
تو غزل کی طرح مطلع مقطع کا یہاں شمول کیوں؟ شاید قوافی نہ ہونے کی وجہ سے اسے مفرد اشعار کا مجموعہ کہہ رہے ہو (نظم تو نہیں ہے کہ سب کے معنی مختلف ہیں) لیکن ان اشعار کا فائدہ؟
کھیلن لفظ بے معنی ہے
محترم الف عین صاحب
شُکریہ
جی، سر ۔ہم قافیہ نہ ہونے کی وجہ سے ہی اسے غزل نہیں کہا۔آپ کا تبصرہ بھی میری توقع کے خلاف نہیں ہے ۔ میں نے اسے اصلاح کے لیے اس لیے پیش کیا تاکہ یہ سیکھ سکوں کہ اس طرح کا اگر خیال ذہن میں آ جاتا ہے جو کہ غزل میں شمار نہیں ہوتا تو تکنیکی لحاظ سے کس زُمرہ میں آئے گا ۔ یا کسی بھی صنف میں نہیں گنا جائے گا بمعہ منفرد اشعار کے؟ یا انہیں کوئی اور شکل دی جا سکتی ہے۔ محترم محمد یعقوب آسی صاحب کی ایک تحریر پڑھ کر، مجھے لگا کی شاید یہ نظم معریٰ کے زمرے میں آئے ۔

اس بارے میں آپ سے رہنمائی کی درخواست ہے ۔ اگر کہیں آن لائن مضمون | کتاب اس سلسلے میں میسّر ہو اور اس کا لنک مل جائے تو ممنون ہوں گا

سر، یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ “انوکھا لاڈلا ، کھیلن کو مانگے چاند” میں جو کھیلن ہے، کیا یہ متروک ہو چکا ہے،

بہت شکریہ
 
آخری تدوین:
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل:
محترم سید عاطف علی
محترم محمد خلیل الرحمٰن

آپ سے ان متفرق اشعار (شاید ان سب کو مجموعی طور پر نظم معریٰ کہا جا سکتا ہے) کی اصلاح کی التماس ہے

اوٹ سے پردے کی اس کا دیکھنا اچھا لگا
مجھ کو اس کے در پہ جا کر بیٹھنا اچھا لگا
٭
صبر کر کے درد سارے جھیلنا اچھا لگا
یہ ہنر بھی دل سے اپنے سیکھنا اچھا لگا
٭
جھیل ، دریا اور سمندر کا بھی ہے شیدائی وُہ
پَر مری آنکھوں میں اس کو تیرنا اچھا لگا
٭
کر دیئے مخلُوقِ کو جذبات کھیلن کو عطا
خود خُدا کو قسمتوں سے کھیلنا اچھا لگا
٭
چل رہا تھا ننگے پاؤں ہجر کے صحراؤں میں
جب مجھے یادوں سے تیری بھیگنا اچھا لگا
٭
پاس میرے لوٹ آیا آزما کر سب کو وُہ
ہار کر اس بے وفا سے جیتنا اچھا لگا
٭
حال میرا پوچھ کر میرا پڑوسی خوش ہوا
پھول ہمسائے کو مجھ کو بھیجنا اچھا لگا
٭
خامشی مقبول اتنی تھی کہ جنت میں مجھے
روح پر بھاری پڑی تو چیخنا اچھا لگا​
امجد اسلام امجدؔ کی جو غزل اس زمین میں مشہور ہے، وہ بھی ایطاء کا شکار ہے۔ آپ بھی اس کو غزل کہہ لیں،تکنیکی اعتبار سے غلط ہی سہی، مگر ہوگی تو غزل! :)
ایک ’’لائف ہیک‘‘ جو میں نے اپنی شروع شروع کی کچھ غزلوں پر استعمال کی ہے، وہ یہ ہے کہ مطلع کا قافیہ آزاد چھووڑ بیچ میں ایک دو اشعار کا قافیہ تبدیل کردیا جائے :)
 

مقبول

محفلین
امجد اسلام امجدؔ کی جو غزل اس زمین میں مشہور ہے، وہ بھی ایطاء کا شکار ہے۔ آپ بھی اس کو غزل کہہ لیں،تکنیکی اعتبار سے غلط ہی سہی، مگر ہوگی تو غزل! :)
ایک ’’لائف ہیک‘‘ جو میں نے اپنی شروع شروع کی کچھ غزلوں پر استعمال کی ہے، وہ یہ ہے کہ مطلع کا قافیہ آزاد چھووڑ بیچ میں ایک دو اشعار کا قافیہ تبدیل کردیا جائے :)

محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب

بہت شُکریہ۔ آپ نے سرنگ کے آخر پر روشنی دکھائی ہے
محترم امجد صاحب تو بہت بڑے شاعر ہیں وُہ کچھ بھی کر سکتے ہیں

منصور آفاق کے ایک مصرعہ کو تھوڑا سا مروڑنے کی اجازت ہو تو یہ کہنا مناسب ہو گا “ وُہ لوگ بڑے لوگ ہیں، ہم خاک نشیں ہیں”

اگر اس شعر کو اگر مطلع سمجھ لیا جائے

صبر کر کے درد سارے جھیلنا اچھا لگا
یہ ہنر بھی دل سے اپنے سیکھنا اچھا لگا

تو کیا سرنگ میں آگے کی طرف چلا جا سکتا ہے کیونکہ بعد میں ایک شعر “کھیلنا” کے قافیہ کے ساتھ بھی موجود ہے۔
مزید رہنمائی کے لیے شکر گُذار ہوں گا
 
اگر اس شعر کو اگر مطلع سمجھ لیا جائے

صبر کر کے درد سارے جھیلنا اچھا لگا
یہ ہنر بھی دل سے اپنے سیکھنا اچھا لگا

تو کیا سرنگ میں آگے کی طرف چلا جا سکتا ہے
مطلع میں اگر دونوں قافیے مصدر ہوں تو پھر ان کے فعل امر کا ہم آواز ہونا لازمی ہے، جھیل اور سیکھ ظاہر ہے کہ قوافی نہیں ہیں.
 

مقبول

محفلین
مطلع میں اگر دونوں قافیے مصدر ہوں تو پھر ان کے فعل امر کا ہم آواز ہونا لازمی ہے، جھیل اور سیکھ ظاہر ہے کہ قوافی نہیں ہیں.

محترم راحل صاحب

یعنی جھ اور س کی حرکات ایک ہونی چاہییں ۔ کیا میں ٹھیک سمجھا ہوں؟

یا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ مطلع ایک قافیہ مصدر ہو اور دوسرا کوئی اور ؟

اگر آپ کوئی ایسے دو قوافی کی مثال دے سکیں جن کے مطلع میں استعمال سے اس غزل کے قوافی آزاد ہو سکتے ہوں تو مجھ کم پڑھ کے لیے سمجھنے میں اور اسے درست کرنے میں کافی آسانی ہو جائے گی اور آپ کا ایک اور احسان بھی مجھ پر ہو جائے گا
 
آخری تدوین:

مقبول

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب

کیا یہ یا اس طرح کا کوئی مطلع اس نام نہاد غزل کے قوافی آزاد کر سکتا ہے

وُہ مجھے پردہ ہٹا کر دیکھتا اچھا لگا
مجھ کو اس کے گھر کے باہر بیٹھنا اچھا لگا

شُکریہ
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
اسے درست کرنے کے لئے مطلع آشنا، دلربا، وفا جو لفظ بھی الف پر ختم ہوتا ہو اور اچھا لگ سکے۔ یعنی ردیف فٹ ہو سکے۔ اور مزید دو تین اشعار اسی قسم کے کر دیں۔
 

مقبول

محفلین
اسے درست کرنے کے لئے مطلع آشنا، دلربا، وفا جو لفظ بھی الف پر ختم ہوتا ہو اور اچھا لگ سکے۔ یعنی ردیف فٹ ہو سکے۔ اور مزید دو تین اشعار اسی قسم کے کر دیں۔
محترم الف عین صاحب

سر، بہت شُکریہ۔

کوشش کروں گا اگر کچھ بن سکا تو!
 

مقبول

محفلین
جی، یہی مطلب تھا میرا۔
مثالیں استادِ محترم نے بخوبی سمجھا دی ہیں۔

دعاگو،
راحلؔ
جناب، اگر آپ مجھ کم پڑھ کو پہلے ہی آسان الفاظ میں حکم دیتے کہ مصدر کے ساتھ دوسرا مصدر نہیں بلکہ صفدر لگانا ہے تو میں دو چار صفدرے ابھی تک قابو کر کے فٹ کر چکا ہوتا۔:biggrin:

Just on a lighter note

اگر گراں گذرا ہو تو معذرت چاہتا ہوں
 

مقبول

محفلین
مقبول بھائی، خدارا بار بار یہ نہ کہا کریں۔ ہم سب ہی طالب علم ہیں
راحل صاحب۔ ! آپ اپنے بارے میں کسرِ نفسی سے کام لے رہے ہیں۔ بشمول آپ کے تمام اساتذہ با علم لوگ ہیں اور بے لوث مجھ جیسوں کی مدد کر رہے ہیں تو آپ سب کو احترام دینا میرا فرض ہے اور آپ کا حق ہے۔

میرا اپنے آپ کو کم پڑھ کہنے کے کچھ اسباب ہیں۔ مثلاً
۱- میں نے اردو بارہ جماعتوں تک پڑھی ہے۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ جو زبانیں ہمیں سکولوں میں پڑھائی جاتی ہیں ان میں طالب علم کتنا سیکھتا ہے۔ اس لیے میرا اردو کا علم خاص طور پر علم عروض تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ تو میرا کم علم ہونا حقیقت ہے کسرِ نفسی نہیں ہے۔
۲- یہ حقیقت اپنے آپ کو یاد دلاتا رہتا ہوں تاکہ اوقات میں رہوں
۳- اساتذہ کے سامنے اپنی کم پڑھی کے اظہار کا مجھے ہی فائدہ ہے۔ اگر اساتذہ کرام میری علمی سطح جانتے ہوں گے تو مجھ سے اس سطح پر آ کر سمجھائیں گے جس پر بات میری سمجھ میں آئے گی اور میں اپنے کام کو درست کر سکوں گا
۴۔ اگر میں اساتذہ کو اپنی سطح نہیں بتاؤں گا یا اپنے آپ کو عالم فاضل ظاہر کرنے کی کوشش کروں گا تو پھر کسی اور سطح پر مجھ سے بات کریں گے جو مجھے سمجھ نہیں آئے گی۔ نتیجتاً، میرا نقصان ہو گا کہ میں اپنے کام کو درست نہیں کر سکوں
 

مقبول

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب

سب سے پہلے آپ کا شُکریہ کہ اس بے مہار غزل کو راہ راست پر لانے میں آپ رہنمائی فرما رہے ہیں
دوسرا یہ ہے کہ ایطا کو دورُکرنے کی کوشش میں یہ کچھ زیادہ ہی طویل ہو گئی ہے۔ مطلع کی تعداد تین ہو گئی ہے کہ ہو سکتا کوئی ٹھیک نکل آئے۔ اشعار کو کوئی ترتیب بھی نہیں دی۔ سوچا کہ اگر ایطا صاحب کو نکالنے میں کامیاب ہو گیا تو اصلاح کے بعد جو بچ جائے گا اسے کوئی شکل دوں گا۔ مطلع کے دونوں قوافی میں کوشش کی ہے کہ آخر میں “نا” ہی رہے ۔غزل کی طوالت پر پھر معذرت چاہتا ہوں

عشق کی راہوں میں سے راہِ فنا اچھا لگا
سوئیوں سےغم کی خود کو چھیدنا اچھا لگا

مجھ کو تیری عادتوں میں بچپنا اچھا لگا
رات دن خوابوں سے میرے کھیلنا اچھا لگا

جو کھڑا تھا آندھی میں بھی وُہ تنا اچھا لگا
پھر اسے اپنے لہو سے سینچنا اچھا لگا

شہر سارا جانتا تھا ساری تکلیفیں مری
وہ بھی میرے درد سے تھا آشنا اچھا لگا

رکھ دیاسب کھول کرجب اس نے میرےسامنے
جھوٹ کی دُنیا میں سچّا آئینہ اچھا لگا

دیکھنا اچھا لگا پردے کے پیچھے سے اسے
مجھ کو اس کے گھر کے باہر بیٹھنا اچھا لگا

جھیلنا ہیں درد کیسے ، رہنا کیسے تنہا ہے
یہ ہنر بھی دل سے اپنے سیکھنا اچھا لگا

جھیل ، دریا اور سمندر کا بھی ہے شیدائی وُہ
پَر مری آنکھوں میں اس کو تیرنا اچھا لگا

کہہ دیا مخلُوقِ کو جذبات سے کھیلے مگر
خود خُدا کو قسمتوں سے کھیلنا اچھا لگا

ہر گھڑی لگتا ہے اچھا وُہ مگر اُتنا نہیں
جو مجھے بارش میں اس کا بھیگنا اچھا لگا

پاس میرے لوٹ آیا آزما کر سب کو وُہ
ہار کر اس بے وفا سے جیتنا اچھا لگا

پھیرنااچھا لگا بالوں میں میرے انگلیاں
ساتھ اس کا زخم میرے چومنا اچھا لگا

حال میرا پوچھ کر میرا پڑوسی خوش ہوا
پھول ہمسائے کو مجھ کو بھیجنا اچھا لگا

خامشی مقبول اتنی تھی کہ جنت میں مجھے
روح پر بھاری پڑی تو چیخنا اچھا لگا
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
اوہو، ابھی بھی تم درست نہیں سمجھ بائے! ان تمام قوافی میں 'نا' مشترک ہے، میرا مشورہ محض الف مشترک کا تھا، اس میں دو چار نا والے قوافی آ جائیں تو کوئی بات نہیں
 

مقبول

محفلین
اوہو، ابھی بھی تم درست نہیں سمجھ بائے! ان تمام قوافی میں 'نا' مشترک ہے، میرا مشورہ محض الف مشترک کا تھا، اس میں دو چار نا والے قوافی آ جائیں تو کوئی بات نہیں

محترم الف عین صاحب

جی، سر میں غلط سمجھا۔ آپ نے سمجھانے کے لیے لکھا تھا کہ الف والے قافیے مثلاً آشنا، دِلرُبا وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ لیکن میرے ذہن میں کیونکُہ “نا” گھوم رہا تھا تو میں سمجھا کہ مصدر والے قافیے جن میں “نا” آ رہا تھا ان کے مقابلے میں کوئی ایسا قافیہ (مثلاً آشنا، بچپنا۔۔) بھی آ سکتا ہے جس کے آخر میں “نا” ہو لیکن “نا” نکالنے سے فعل امر یا کوئی با معنی لفظ نہ بچتا ہو۔

سر، دیکھتا ہوں کہ کیا ہو سکتا ہے۔
 

مقبول

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب

کیا یہ مطلع درست ہیں اور ایطا کے سقم کو دور کرنے میں مدد کر سکتے ہیں؟ اگر ان سے کام بنتا ہے تو آگے چلنے کی کوشش کروں گا

عاشقی کے جرم کی دینا سزا اچھا لگا
سوئیوں سے غم کی خود کو چھیدنا اچھا لگا

عادتوں میں بچپنا مجھ کو تِرا اچھا لگا
رات دن خوابوں سے میرے کھیلنا اچھا لگا

وُہ تَنا جو آندھی میں بھی تھا کھڑا اچھا لگا
پھر اسے اپنے لہو سے سینچنا اچھا لگا
 
Top