1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

برائے اصلاح -جب یار ہو پہلو میں یہ جان نکل جائے

انس معین نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 22, 2019

  1. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    227
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    سر اصلاح کی درخواست ہے
    الف عین
    محمد خلیل الرحمٰن
    عظیم

    پھر جاوں گا کعبے کو پھر ڈھونڈوں گا بت خانے
    پہلے مرے دل سے وہ بیمان نکل جائے

    کچھ اور نہیں مانگا ان وقت کی گھڑیوں سے
    جب یار ہو پہلو میں یہ جان نکل جائے

    تم اپنا مجھے کہہ کر اک بار پکارو ناں
    بے نام سے اس دل کا ارمان نکل جائے

    کیا چیز نہیں چکھنی پہلے ہی بتائیے گا
    جنت سے کہیں پھر نا انسان نکل جائے
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 22, 2019
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,012
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بے ایمان کو یوں لکھنا غالباً درست نہیں
     
  3. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    227
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    یہ تو پنجابی والا ہو گیا ناں پھر ؟
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,602
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلے شعر کا تو قافیہ ہی بے معنی ہے
    دوسرا شعر درست ہے

    تم اپنا مجھے کہہ کر اک بار پکارو ناں
    بے نام سے اس دل کا ارمان نکل جائے
    .... ناں کوئی لفظ نہیں، محض 'نا' درست ہے تاکید کے لیے۔ اس کے بعد '!' ضرور لگائیں

    کیا چیز نہیں چکھنی پہلے ہی بتائیے گا
    جنت سے کہیں پھر نا انسان نکل جائے
    بتائیے کا الف ساقط ہو گیا کے
    نا، اوپر کے شعر کے استعمال میں درست ہے، لیکن 'نہ' کے معنوں میں نہیں
    پہلے ہی بتا دے/دیں یہ کیا شے نہ جکھی جائے
    پھر یوں نہ ہو جنت سے انسان نکل جائے
    ایک ممکنہ شکل
     
    • زبردست زبردست × 1
  5. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    227
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بہت شکریہ سر
     
  6. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بہت خوب انس بھائی، گو قافیہ کا مسئلہ ہے لیکن خیال اچھا ہے۔ اس کو یوں کہا جاسکتا ہے جو مطلع بھی بن جائے گا۔

    اک رب ہے مرا محبوب یہ مان نکل جائے
    یا پھر مرے دل سے وہ انسان نکل جائے

    یہ بھی خوب کہا، میری زور آزمائی ملاحظہ کیجیے

    ممنوع ہر اک شے کا ادراک ضروری ہے
    جنت سے نہ پھر کوئی انسان نکل جائے

    سر الف عین کیا یہ مصرعہ بحر میں آ سکتا ہے؟
    ایسا نہ ہو جنت سے پھر انسان نکل جائے
     
    • زبردست زبردست × 1
  7. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    227
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    بہت شکریہ ۔ عظیم بھائی ۔
    ان کو بھی سامنے رکھتاہوں ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,602
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پھر انسان... وزن میں نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  9. انس معین

    انس معین محفلین

    مراسلے:
    227
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    سر غزل تبدیل کر کے دوبارہ حاضر ہوں
    الف عین
    عظیم
    فلسفی



    ہم ہجر کے قصوں کا عنوان نہ ہو جائیں
    ڈرتا ہوں کہ ہم دونوں انجان نہ ہو جائیں

    اک ساز نہ بن جائیں گزرے ہوئے لمحوں کا
    ہم روتی ہوئی شب کے مہمان نہ ہو جائیں

    دیکھو نہ ہمیں ایسے ان مست سی آنکھوں سے
    ہم پھر سے کہیں تم پر قربان نہ ہو جائیں

    اس زند گی کے سب رستے کتنے ہی مشکل ہیں
    گر ساتھ چلو تم بھی آسان نہ ہو جائیں

    تلوار اٹھا کر وہ میرے قتل کو گر آئیں
    ہنستا جو مجھے دیکھیں حیران نہ ہو جائیں

    اس بار نہیں چکھنا کس چیز کو جنت میں ؟
    بے دخل وہاں سے پھر انسان نہ ہو جائیں

    آیا نہ کوئی احمد جس شہر میں برسوں سے
    اس شہر کی مانند ہم سنسان نہ ہو جائیں
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 27, 2019
  10. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    302
    انس بھائی ن کی تکرار سے تنافر ہے جو اچھا نہیں لگ رہا
     
    • متفق متفق × 1
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,602
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ردیف بدل دینے کی ضرورت؟ اگرچہ تنافر کی خامی پچھلی ردیف میں بھی تھی، جان نکل، ایمان نکل وغیرہ میں ۔ مگر وہی بہتر تھی
     

اس صفحے کی تشہیر