برائے اصلاح : ایک نظم ،'' پہلی ملاقات'': از: محمد اظہر نذیر ؔ

پہلی ملاقات
عمر کی بے شمار گلیوں میں
کچھ تو روشن تھے راستے لیکن
تنگ تاریک موڑ بھی آٴے
یاد بس وہ مقام ہے مجھ کو
ہاں جہاں بے سبب رکا تھا میں
پھر ملاقات ہوگئی تم سے
 

الف عین

لائبریرین
واہ، اچھی نظم ہے۔ تم نظمیں ہی لکھا کرو تو بہتر ہے بہت۔ بس ذرا ان دو مصرعوں کو پھر دیکھو،
یاد بس وہ مقام ہے مجھ کو
ہاں جہاں بے سبب رکا تھا میں
’ہاں‘ کی ضرورت ہے یہاں؟اگر اس کو یوں کر دیں تو​
یاد ہے اک وہی مقام مجھے​
بس۔۔۔ جہاں بے سبب رکا تھا میں​
یا​
یاد ہے بس وہی مقام مجھے​
۔۔۔۔ جہاں بے سبب۔۔۔۔​
 
Top