بحر ہندی میں تازہ غزل۔۔۔رات میں خود سے باتیں کر کے نہر درد کی جاری کی ! -- برائے اصلاح

السلام اعلیکم
ایک غزل بحر ہندی میں اصلاح کی غرض سے پیش کر رہا ہوں۔ استاد محترم الف عین، اور احباب بطور خاص جناب @راحیل فاروق، جناب محمد ریحان قریشی ، جناب شاہد شاہنواز ، جناب ادب دوست سے رائے، صلاح اور اصلاح کی گزرش ہے۔ ممنون فرمائیں۔ جزاک اللہ
-----------------------------------------
رات میں خود سے باتیں کر کے نہر درد کی جاری کی !
اس حالت ميں غزلیں لکھ کر سب پر رقّت طاری کی !

اک پیغام جوابی لکھ کر ساتھ غزل کے بھیجا ہے
خاک اڑے گی اس ساون میں، تم نے جو آہ و زاری کی !

گورکنی جو ہم نے کی تھی وہ بھی ایک ضرورت تھی
وقت کی مٹی ڈال کے کچھ رشتوں پر گریہ و زاری کی !

دیکھو نئے زمانے میں یہ ممکن ہونے والا ہے
خواب سے اٹھ کر من چاہی تعبیر کی پیوندکاری کی !

ذہن کی گہری جھیل سے میری حسنِ سخن مرغابی نے
یاد کے موتی تہہ سے چن کر غزل کی ریزہ کاری کی !

ایک رسیلی صبح کا آنگن، اک بھڑکیلی شام کی چھت
کس کس رنگ میں یادیں اتریں اس پاپن اس ناری کی !

ایک نشیلی آنکھ کی مستی، گت متوالی، اس کی چال
فوراً شعر میں باندھ کے رکھ دی، ہم نے یہ ہشیاری کی !

ایک گلابی آنچل میں دو پھول تھے اپنے جوبن پر
تیز نظر سے جو رہ گئے تھے بچ کر کسی پجاری کی !

جس کا نام محبت ہے وہ اک آفاقی جذبہ ہے
سند جو ڈھونڈو مل جائے گی اس پہ صحیح بخاری کی !

کم خوابی کی عادت سے اک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے
کاشف غزلیں کہہ لیتا ہے شب بھر جو بیداری کی !


سیّد کاشف
---------------------------------
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
جیو کاشف، خوب غزل کہی ہے ماشاء اللہ۔ بس ایک دو باتیں ہی یہاں کہنی ہیں۔
رشتوں پر گریہ زاری کی !
گریہ و زاری درست محاورہ ہے، گریہ کی زاری نہیں کو ایک ہی لفظ بن جائے، اور گریہ و زاری بھی بحر سے خارج نہیں ہوتا۔

کس کس رنگ میں یادیں اتریں اس پاپن اس ناری کی !
محبوبہ کو پاپن کہنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔
گلابی آنچلوں پر آج کل بہت ریسرچ ہو رہی ہے شاید!!!!
 

سید عاطف علی

لائبریرین
کاشف صاحب ۔میرے خیال میں یہ مصرع "پر" کا متحمل نہیں ہو پارہا ۔ اسے "پہ" کردیں تو صحاح کا حق صحیح ادا ہو جاتا ہے۔نہیں تو صحاح کی حق تلفی ہوتی ہے۔واللہ اعلم
جو حکم عاطف بھائی۔
درست کئے دیتا ہوں۔
جزاک اللہ
 
جیو کاشف، خوب غزل کہی ہے ماشاء اللہ۔ بس ایک دو باتیں ہی یہاں کہنی ہیں۔
رشتوں پر گریہ زاری کی !
گریہ و زاری درست محاورہ ہے، گریہ کی زاری نہیں کو ایک ہی لفظ بن جائے، اور گریہ و زاری بھی بحر سے خارج نہیں ہوتا۔

کس کس رنگ میں یادیں اتریں اس پاپن اس ناری کی !
محبوبہ کو پاپن کہنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔
گلابی آنچلوں پر آج کل بہت ریسرچ ہو رہی ہے شاید!!!!
استاد محترم تصحیح کر دی ہے۔
"پاپن" کو آج صحیح نام ے مخاطب کیا ہے استاد محترم !!
گلابی آنچل کے بابت اب کیا کہوں سر !!
جزاک اللہ
 

نوید ناظم

محفلین
جس کا نام محبت ہے وہ اک آفاقی جذبہ ہے
سند جو ڈھونڈو مل جائے گی اس پہ صحیح بخاری کی !
واہ واہ۔۔۔ کیا کہنے !!!
 
Top