بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو

شکریہ شاہ جی یہ اخفا تو معمول کے ہیں اور عام مستعمل ہیں وزن کی بابت سر آسی صاحب کو مغالطہ ہو گیا تھا جس میں ایک کی تصدیق اوپر انہوں نے کر دی ہے۔ دوسری کا جواب باقی ہے۔ سلامت رہیں اور اپنی محبتوں سے نوازتے رہیں
معافی چاہتا ہوں۔
 

ابن رضا

لائبریرین
سر اب شرمندہ تو نہ کریں مغالطہ لگنا کوئی ایسی بڑی بات نہیں ۔ بات چونکہ صرف وزن کی ہو رہی تھی جس کی بابت میں نے اوپر لکھا بھی تھا کہ اشکال دور فرما دیں وضاحت کے ساتھ تو آپ نے شعریت پر کوئی نکتہ آفرینی نہیں فرمائی تھی اس لیے صرف وزن کے متعلق ہی تصدیق چاہی تھی تاکہ اگر میں کوئی لفظ غلط باندھ رہا ہوں تو اصلاح ہو جائے۔

استفسار کا واحد مقصد حصولِ علم ہے۔ معذرت چاہتا ہوں سلامت رہیے
 
سر اب شرمندہ تو نہ کریں مغالطہ لگنا کوئی ایسی بڑی بات نہیں ۔ بات چونکہ صرف وزن کی ہو رہی تھی جس کی بابت میں نے اوپر لکھا بھی تھا کہ اشکال دور فرما دیں وضاحت کے ساتھ تو آپ نے شعریت پر کوئی نکتہ آفرینی نہیں فرمائی تھی اس لیے صرف وزن کے متعلق ہی تصدیق چاہی تھی تاکہ اگر میں کوئی لفظ غلط باندھ رہا ہوں تو اصلاح ہو جائے۔
استفسار کا واحد مقصد حصولِ علم ہے۔ معذرت چاہتا ہوں سلامت رہیے

یہیں اردو محفل پر متعدد مواقع پر آپ سمیت دیگر احباب سے گفتگو رہی اور اس میں مختلف نکات و عناصر زیرِ بحث بھی آئے، میں نے اپنی گزارشات بھی پیش کیں۔ کچھ گزارشات جو کسی مربوط انداز میں تھیں ان کو اپنے بلاگ پر بھی نقل کر دیا۔ میرا ایک طویل انٹرویو انہی صفحات میں موجود ہے۔ اس میں بھی اپنے محدود علم کے مطابق اپنی گزارشات پیش کر چکا ہوں۔ نکتہ آفرینی فرمانا اپنا منصب کہاں حضرت!
مجھ بوڑھے شخص پر کاپی پیسٹ کا بوجھ ڈالنے کی بجائے آپ کسی فارغ وقت میں صفحہ گردانی کر لیجئے! کیا خیال ہے؟
 

ابن رضا

لائبریرین
یہیں اردو محفل پر متعدد مواقع پر آپ سمیت دیگر احباب سے گفتگو رہی اور اس میں مختلف نکات و عناصر زیرِ بحث بھی آئے، میں نے اپنی گزارشات بھی پیش کیں۔ کچھ گزارشات جو کسی مربوط انداز میں تھیں ان کو اپنے بلاگ پر بھی نقل کر دیا۔ میرا ایک طویل انٹرویو انہی صفحات میں موجود ہے۔ اس میں بھی اپنے محدود علم کے مطابق اپنی گزارشات پیش کر چکا ہوں۔ نکتہ آفرینی فرمانا اپنا منصب کہاں حضرت!
مجھ بوڑھے شخص پر کاپی پیسٹ کا بوجھ ڈالنے کی بجائے آپ کسی فارغ وقت میں صفحہ گردانی کر لیجئے! کیا خیال ہے؟
جی بہتر سر!
 

وشال احمد

محفلین
ایک تازہ غزل احباب کی نذر

بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو
دل مرا درد کا خوگر ہے ، مجھے رونے دو

ایک برسات کا منظر ہے عیاں آنکھوں سے
اِک تلاطم مرے اندر ہے، مجھے رونے دو

شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں
اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو

جب سے ساقی نے دیا بزم نکالا مجھ کو
تب سے مینا ہے نہ ساغر ہے، مجھے رونے دو

یادِ رفتہ ہے، غمِ ہجر ہے، تنہائی ہے
ہر گھڑی ایک ہی منظر ہے، مجھے رونے دو

عُمرگُزری ہے
مری جس کو صبا کہتے ہوئے
حیف وہ موجہِ صرصر ہے، مجھے رونے دو

جو سجاتا تھا در و بام مِرے، پھولوں سے
اُس کے ہاتھوں میں بھی پتھر ہے، مجھے رونے دو

بات بے بات بھر آتی ہیں یہ آنکھیں میری
مجھ میں باقی یہی جوہر ہے، مجھے رونے دو

وقتِ رخصت جو دیا اُس نے رضاؔ عُذرِ جفا
وہ مجھے آج بھی اَزبر ہے، مجھے رونے دو


برائے توجہ اساتذہ
محمد یعقوب آسی صاحب و الف عین صاحب
واہ! بہت خوب
 

ابن رضا

لائبریرین

بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو
دل مرا درد کا خوگر ہے ، مجھے رونے دو

ایک برسات کا منظر ہے عیاں آنکھوں سے
اِک تلاطم مرے اندر ہے، مجھے رونے دو

شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں
اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو

جب سے ساقی نے دیا بزم نکالا مجھ کو
تب سے مینا ہے نہ ساغر ہے، مجھے رونے دو

یادِ رفتہ ہے، غمِ ہجر ہے، تنہائی ہے
کس قدر تلخ یہ منظر ہے، مجھے رونے دو

عُمرگُزری ہے مری جس کو صبا کہتے ہوئے
حیف وہ موجہِ صرصر ہے، مجھے رونے دو

جو سجاتا تھا گلوں سے در و دیوار مرے
اُس کے ہاتھوں میں بھی خنجرہے، مجھے رونے دو

بات بے بات ہو جاتی ہیں مری آنکھیں نم
مجھ میں باقی یہی جوہر ہے، مجھے رونے دو

وقتِ رخصت جو دیا اُس نے رضاؔ عُذرِ جفا
وہ مجھے آج بھی اَزبر ہے، مجھے رونے دو


 
آخری تدوین:
بہت اعلیٰ ابنِ رضا بھائی۔
شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں
اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو

عُمرگُزری ہے مری جس کو صبا کہتے ہوئے
حیف وہ موجہِ صرصر ہے، مجھے رونے دو

جو سجاتا تھا گلوں سے در و دیوار مرے
اُس کے ہاتھوں میں بھی خنجرہے، مجھے رونے دو

اس کو رو کر گنگناتے ہوئے پڑھنے کا دل کر رہا ہے۔ :)
 

ہادیہ

محفلین
ایک تازہ غزل احباب کی نذر

بات اب ضبط سے باہر ہے، مجھے رونے دو
دل مرا درد کا خوگر ہے ، مجھے رونے دو

ایک برسات کا منظر ہے عیاں آنکھوں سے
اِک تلاطم مرے اندر ہے، مجھے رونے دو

شدتِ غم نہ کہیں مانگ لے نذرانہِ جاں
اب کے شاید یہی بہتر ہے، مجھے رونے دو

جب سے ساقی نے دیا بزم نکالا مجھ کو
تب سے مینا ہے نہ ساغر ہے، مجھے رونے دو

یادِ رفتہ ہے، غمِ ہجر ہے، تنہائی ہے
ہر گھڑی ایک ہی منظر ہے، مجھے رونے دو

عُمرگُزری ہے
مری جس کو صبا کہتے ہوئے
حیف وہ موجہِ صرصر ہے، مجھے رونے دو

جو سجاتا تھا در و بام مِرے، پھولوں سے
اُس کے ہاتھوں میں بھی پتھر ہے، مجھے رونے دو

بات بے بات بھر آتی ہیں یہ آنکھیں میری
مجھ میں باقی یہی جوہر ہے، مجھے رونے دو

وقتِ رخصت جو دیا اُس نے رضاؔ عُذرِ جفا
وہ مجھے آج بھی اَزبر ہے، مجھے رونے دو


برائے توجہ اساتذہ
محمد یعقوب آسی صاحب و الف عین صاحب
بہت زبردست:)
 

الف عین

لائبریرین
اس میں کیوں ترمیم کی ہے کہ مصرع یوں ہو گیا
بات بے بات ہو جاتی ہیں مری آنکھیں نم
ہو جاتی‘ کا ’ہُجاتی‘ اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ اگر بھر آتی ہیں ستے بہتر یہی لگ رہا ہے تو الفاظ بدل دو،
بات بے بات ہوئی جاتی ہیں آنکھیں مری نم
یا


بات بے بات جو ہو جاتی ہیں آنکھیں مری نم
 
Top