1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

بابائے خدمت عبدالستارایدھیؒ

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 9, 2018

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,816
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    [​IMG]

    بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کی دوسری برسی عقیدت اور احترام سے منائی گئی ۔
    عبدالستار ایدھی نےدنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس قائم کی، انہوں نے یتیموں کی پرورش اور لاوارثوں کی کفالت کی۔ وہ قدرتی آفات اور حادثات میں متاثرین کی فوری مددکے لیے پہنچتے تھے۔
    ایدھی صاحب نے 1951 میں ذاتی جمع پونجی سے ایک چھوٹی سی دُکان خریدی اور صرف پانچ ہزار روپے سے ایدھی فاونڈیشن کی بنیاد رکھی۔

    [​IMG]
    ان کا خلوص اتنا سچا، اور ان کی جدوجہد اتنی کھری تھی مخیر حضرات نے دل کھول کر مدد کی اور ایدھی فاونڈیشن دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی فلاحی تنظیم بن گئی۔جس کے تحت 2400 ایمبولینسز ، 3ائیر ایمبولینس ،300ایدھی سینٹرز ، اور8اسپتال ملک بھر میں دن رات ضرورت مندوں کی خدمت کرنے لگے۔ایدھی صاحب نے کلینک، زچہ خانے، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بنک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور اسکول بھی قائم کیے۔

    [​IMG]
    دنیا میں سب سے بڑی رضا کارانہ ایمبولینس آرگنائزیشن کے قیام پر ان کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا اور حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز سے نوازا۔بین الاقوامی سطح پر 1986ء میں انہیں فلپائن نے رومن میگسے ایوارڈدیا، 1993ء میں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے پاؤل ہیرس فیلوشپ دی گئی۔ 1988ء میں آرمینیا میں زلزلہ زدگان کی مددکے صلے میں امن انعام برائے یو ایس ایس آر دیا گیا۔
    اس عظیم ہستی کا انتقال 8 جولائی 2016ء کو کراچی میں ہوا ۔انہیں ایدھی فاونڈیشن میں پرورش پانے والے یتیم بچوں کی مسکراہٹ میں آج بھی پوری شان سے زندہ سلامت دیکھا جاسکتا ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. آوازِ دوست

    آوازِ دوست محفلین

    مراسلے:
    1,900
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مجھے تم یاد آتے ہو
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,779
    ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں، نایاب ہیں ہم!
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    بلاشک اک عظیم انسان عبدالستار ایدھی ۔
    حق مغفرت فرمائے آمین
    بہت دعائیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  5. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,781
    موڈ:
    Asleep
    حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,257
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور دنیا میں ان کا نعم البدل بھی بھیجیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • متفق متفق × 2
  7. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,816
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    انسانیت کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے عبدالستار ایدھی کو آج ہم سے بچھڑے 3 برس بیت گئے ہیں۔
    عبدالستار ایدھی نےدنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس قائم کی، انہوں نے یتیموں کی پرورش اور لاوارثوں کی کفالت کی۔ وہ قدرتی آفات اور حادثات میں متاثرین کی فوری مدد کے لیے پہنچتے تھے۔انہوں نے 1951 میں ذاتی جمع پونجی سے ایک چھوٹی سی دُکان خریدی اور صرف 5ہزار روپے سے ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔عبدالستار ایدھی نے کلینک، زچہ خانے، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بنک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور اسکول بھی قائم کیے۔

    [​IMG]
    دنیا میں سب سے بڑی رضا کارانہ ایمبولینس آرگنائزیشن کے قیام پر ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا اور حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز سے نوازا۔بین الاقوامی سطح پر 1986ء میں انہیں فلپائن نے رومن میگسے ایوارڈدیا، 1993ء میں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے پاؤل ہیرس فیلوشپ دی گئی۔ 1988ء میں آرمینیا میں زلزلہ زدگان کی مددکے عیوض امن انعام برائے یو ایس ایس آر دیا گیا۔شفقت کا ہاتھ سب کے سر پر رکھنے والے، محبت بانٹنے والے اور دوسروں کے غم میں شریک ہونے والے ایدھی کو جدا ہوئے 3 سال بیت گئے لیکن اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین نہیں آتا، پاکستان میں سماجی خدمات کا درخشندہ عبدالستار ایدھی ہم میں نہیں۔

    [​IMG]
    عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے، بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانا چاہتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کا مستقبل تعلیم سے ہی روشن ہے۔ہزاروں یتیموں کو باپ کی محبت دینے والے کو جب بچے یاد کرتے ہیں تو آنکھیں بھی رو پڑتی ہیں، زبان لفظ باپ کے لئے آج بھی ترستی ہیں۔سخی اور دکھی انسانیت کے مسیحا کو مرتے وقت بھی فکر تھی کہ اللہ کے بندوں کے لئے جاتے وقت بھی کچھ کر جاؤں اور عظیم خادم آخر وقت اپنی آنکھیں کسی نابینا کو عطیہ کر کے چلے گئے۔
    عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ اس عظیم ہستی کا انتقال 8 جولائی 2016ء کو کراچی میں ہوا اور آج ان کی تیسری برسی منائی جارہی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  8. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    321
    موڈ:
    Breezy
    اک شمع رہ گئی تھی۔۔۔۔
    سو وہ بھی خموش ہے۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  9. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,293
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    آہ!
    اللہ انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ہمیں بہترین نعم البدل عدد عطا فرمائے ۔آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر